دورا ندیشی پر مبنی پالیسی اقدام سے پاکستان معاشی بحالی کے راستے پر پھر گامزن: سٹیٹ بینک

دورا ندیشی پر مبنی پالیسی اقدام سے پاکستان معاشی بحالی کے راستے پر پھر ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی معیشت کی کیفیت پر تیسری سہ ماہی رپورٹ جاری کردی، رپورٹ کے مطابق استحکام کیلئے کیے گئے کامیاب ا قد ا ما ت نے جن سے جولائی تا فروری مالی سال 20ء میں معاشی بہتری کو فروغ ملا تھا، کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد مارچ 2020ء کے اواخر اور اس کے بعد آنیوالی کساد بازاری کیخلاف کافی تحفظ فراہم کیا۔ خاص طور پر جولائی تا فروری مالی سال 20ء کی مدت کے دوران مالیاتی اور جاری کھاتے کے خساروں پر قابو پانے میں خاصی پیش رفت ہوئی جس کا سبب محا صل کی مضبوط نمو، مارکیٹ کا تعین کردہ ایکسچینج ریٹ اپنانے کی پالیسی اور زر ِمبادلہ کے بفرز میں اضافہ تھا۔ ضروری استحکام کی اس مدت کے بعد برآمدات سمیت حقیقی معیشت میں بحالی کی حوصلہ افزا علامات پائی گئیں۔ اس کے باعث معیشت کسی بیرونی دھچکے سے نمٹنے کیلئے اْس سے بہتر طور پر لیس ہوگئی جتنی بصورت دیگر ہوتی،پاکستان کی مبادیات میں کووڈ 19 سے قبل کے عرصے میں آنیوالی اِس مضبوطی اور وبا کے پھیلاؤ کے بعد دور اندیشی پر مبنی پالیسی اقدام کی بنا پر پاکستان اس قابل ہوگیا ہے کہ وبا کا زور کم ہونے کے بعد بحالی کے اس راستے پر پھر گامزن ہوسکے گا جس پر چل رہا تھا۔عالمی معیشت پر کورونا وائرس کے حملے کے بعد دنیا کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی حقیقی، مالیاتی اور بیرونی شعبے نمایاں طور پر دباؤ میں آگئے جبکہ کمزور ملکی طلب اور تیل کی پست قیمتوں کے باعث مہنگائی کا منظر نامہ بہتر ہوگیا۔ کووڈ 19 کے دھچکے کی شدت کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عبوری تخمینو ں کے مطابق 68 سال میں پہلی بار پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی نمو مالی سال 20ء میں سکڑ جائیگی تاہم 0.4 فیصد کا سکڑاؤ اتنا شدید نہیں جتنا کووڈ 19 کے باعث دنیا کے بیشتر دیگر علاقوں میں متوقع ہے۔رپورٹ میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ جی ڈی پی میں تخمینہ شدہ سکڑاؤ کی بڑی وجہ صنعتوں اور خدمات کے شعبے کی سرگرمیوں میں کمی ہے، زراعت کا شعبہ کووڈ 19 سے متاثر نہیں ہوا اور اہم فصلیں پچھلے سال کی نسبت بہت اچھی ہوئیں،بہرکیف، ناسازگار موسمی حالات، کیڑوں اور ٹڈی دَل کے حملوں کے باعث کچھ سالانہ اہداف پورے نہ ہوسکے۔ کووڈ 19 کا اثر خدمات کے شعبے پر شدت سے ہوا،چنانچہ مالی سال 20ء میں اس شعبے میں منفی نمو کی توقع ہے،مالیاتی شعبے میں بھی اسی طرح کا رجحان ہے، جہاں جولائی تا مارچ مالی سال 20 ء کے دوران ابتدائی بجٹ میں مجموعی لحاظ سے فاضل رقم درج کی گئی تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے تیسری سہ ماہی کے دوران یہ فاضل رقم خسارے میں بدل گئی،ایک طرف، لاک ڈاؤن نے محاصل کو بری طرح متاثر کیاتودوسری طرف معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور بیروزگاری میں اضافے کی وجہ سے زیادہ اخراجات کی ضرو ر ت پیدا ہوگئی۔ حکومت کے 1.24 ٹریلین روپے کے تحرکاتی پیکیج میں براہ ِراست امداد اور زراعت، تعمیرات، اور برآمدات جیسے شعبوں کیلئے مختص اخراجات شامل ہیں، توقع ہے کہ اس پیکیج سے افراد اور کاروباری اداروں کو مطلوبہ ریلیف کافی حد تک ملے گا لیکن ساتھ ہی مختصر مدت میں یہ بڑے مالیاتی خسارے کا بھی سبب بنے گا۔ درآمدات میں تیزی سے کمی، کارکنوں کی ترسیلات ِزر میں عمدہ نمو اور خدمات کے تجارتی خسارے میں تخفیف نے خسارے کو گذشتہ سال کی نسبت کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم کورونا کی وبا سے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان سمیت ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں اپنے ملکی قرضوں اور ایکویٹی ہولڈنگز کو کم کرنے پر مجبور ہوئے، جبکہ ترسیلاتِ زر میں نمو معتدل ہوگئی۔ ان عوامل کیساتھ ساتھ حکومتی قرضوں کی ادائیگی سے مارچ 2020 ء میں زرِمبادلہ کے ذخائر متاثر ہوئے۔ تاہم متعدد دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے مقابلے میں پاکستان کم متاثر ہوا اور کثیر جہتی اور کمرشل رقوم کی آمد کے نتیجے میں پاکستان کے زرِمبادلہ ذخائر بحال ہوگئے ہیں۔ملکی اور عالمی سطح پر کووڈ 19 کے پھیلاؤکے بعد مہنگائی کی صورتِحال میں بہتری آئی، ملکی طلب میں نمایاں کمی، غذائی مہنگائی میں استحکام اور تیل کی قیمتوں میں تاریخی کمی نے وسط مدت میں مہنگائی کے امکانات کو اعتدال بخشا۔ زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو مجموعی طور پر 625 بیسس پوائنٹس کم کیا۔سٹیٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کیلئے نقد رقوم کا انتظام کرنے کی غرض سے قرضوں کی اصل رقم موخر کرنے اور قرضوں کی تشکیل نو کی اجازت دی۔ اس کیساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک نے تین نئی ری فنانسنگ سکیمیں شروع کیں، جس کا مقصد ملک میں روزگار، نئی سرمایہ کاری اور بی ایم آر کو تقویت دینا اور صحت کی سہولتیں بہتر بنانا تھا۔ ان تمام اقدامات سے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو جو فائدہ پہنچایا گیا اس کا تخمینہ 1.3 ٹریلین روپے (جی ڈی پی کا 3.1 فیصد) ہے۔ حکومتی تحرکاتی پیکیج کیساتھ ساتھ یہ اقداما ت کووڈ 19 کی وبا کے اثرات کا مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔ فوری اثر کے علاوہ ان اقدامات سے کووڈ 19 کے بعد معیشت کی بحالی میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔

سٹیٹ بینک رپورٹ

مزید :

صفحہ اول -