جرائم میں اضافے کا باعث 6ڈی ایس پی، 25تھانیدار تبدیل کرنیکا فیصلہ

  جرائم میں اضافے کا باعث 6ڈی ایس پی، 25تھانیدار تبدیل کرنیکا فیصلہ

  

لاہور (لیاقت کھرل) لاہور پولیس میں مبینہ کرپشن،قبضہ گروپ کی سرپرستی اور بے گناہ شہریوں پر تشدد سمیت دیگر ز سنگین الزامات میں ”ٹاپ“15ڈی ایس پیز اور 35تھانوں کے ایس ایچ اوزکے ملوث ہونے کے انکشاف پرانہیں عیدالضحیٰ کے فوری بعد فیلڈ پوسٹنگ سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ خفیہ اداروں اور محکمہ پولیس کے انٹرنل سیل کی جانب سے وزیر اعلی پنجاب کو پیش رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس میں سرکلز اور تھانوں کی سطح پر ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز پولیس کلچر کی تبدیلی میں بڑی رکارٹ ہیں۔ لاہور کے 35تھانوں کے ایس ایچ اوز مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز سمیت سنگین الزامات میں ملوث ہیں۔ جن میں 25تھانوں کے ایس ایچ اوز اور 6سرکلز افسر(ڈی ایس پیز)کے خلاف قبضہ گروپ کے ارکان سے مبینہ تعلقات،بے گناہ شہریوں پر تشدد اور بوگس مقدمات درج کرنے سمیت مبینہ کر پشن جیسے سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس کے باجود یہ پولیس افسران کئی کئی سال سے لاہور اے پلس کیٹیگریز اور اے کیٹیگریز (آمدنی والے)تھانوں اور سرکلز میں تعینات ہیں اور ان کو مبینہ طور پر اعلیٰ حاضر وریٹائرڈ پولیس افسران اور سیاسی شخصیات کی سرپر ستی حاصل ہے۔ جس کی وجہ سے لاہور میں امن ومان کی ناقص صورتحال اور کرائم کی شرح میں دوسو فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ ذرائع کے مطابق عید الضحٰی کے فوری بعد لاہور پولیس کے 6ڈی ایس پیز اور 25تھانوں کے ایس ایچ اوز کو تبدیل کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جن میں پہلے مرحلہ میں ڈی ایس پی گلشن راوی، ڈی ایس پی شمالی چھاؤنی،ڈی ایس پی کینٹ سرکل،ایس ڈی پی او رائیونڈ، ایس ایچ او ساندہ، ایس ایچ او کوٹ لکھپت، ایس ایچ او سٹی رائیونڈ،ایس ایچ او شمالی چھاؤنی،ایس ایچ او ڈیفنس اے، ایس ایچ او ہربنس پورہ وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ اس حوالے سے ایس ایس پی ڈسپلن عبادت نثارنے کہاہے کہ لاہور پولیس کے ایک ایس پی،چار ڈی ایس پیز سمیت 10تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت 550اپرسبارڈینیٹ کے خلاف مبینہ کر پشن اور اختیارات سے تجاوز اور دیگر زسنگین الزامات پر تحقیقات جاری ہیں۔ جن میں 150پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف سنگین الزامات ثابت ہو چکے ہیں جبکہ ڈی آئی جی آپریشن لاہور اشفاق احمد خان نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ کرپٹ اور بے گناہ شہریوں پر تشدد کرنے والے پو لیس افسران کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور انہیں کسی بھی صورت فیلڈ پوسٹنگ نہیں دی جائے گی۔

افسر تبدیل

مزید :

صفحہ اول -