ملکی مفاد کیلئے قانون سازی کے بدلے این آر او نہیں دے سکتے، اپنے نظریے سے پیچھے ہٹ گیا تو پارٹی ختم ہو جائیگی: عمران خا ن

        ملکی مفاد کیلئے قانون سازی کے بدلے این آر او نہیں دے سکتے، اپنے نظریے ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق قانون سازی پاکستان کیلئے ضروری ہے۔ ملکی مفاد میں ہونیوالی قانون سازی کے بدلے این آر او نہیں دے سکتے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا اپوزیشن این آر او چاہتی ہے، انھوں نے لکھ کربھیجا کہ منی لانڈرنگ نکال دیں، اپنے نظریے سے پیچھے ہٹ گیا تو پارٹی ختم ہو جائے گی، ملکی مفادمیں قانون سازی کے بدلے این آر او نہیں دے سکتے۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی اوراتحادی جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کااجلاس ہوا، اجلاس میں قاسم سوری، پرویز خٹک،شبلی فراز، عالیہ حمزہ، شہزاد وسیم،فیصل جاوید، ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت اور بیرسٹر سیف بھی موجود تھے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری،فخر امام بھی شریک تھے۔وزیراعظم کو پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا،عمران خان نے پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی ضروری ہے، ماضی کی خرابیوں کو درست کررہے ہیں، اپوزیشن سیاست بچانے کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کررہی ہے، انھوں نے شروع سے ہرقانون سازی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔انھوں نے کہا قومی مفادمیں قانون سازی کی اپوزیشن کو حمایت کرنی چاہیے، اپوزیشن نے ملکی مفادکوذاتی مفادپرترجیح نہ دی توبے نقاب ہوں گے، ملکی مفاد میں قانون سازی کے بدلے این آر او نہیں دے سکتے۔عمران خان کا پارلیمانی پارٹی کے اراکین سے کہنا تھا آپ عوام کے نمائندے ہیں، پارلیمنٹ میں ہونیوالی قانون سازی میں فعال کردار ادا کریں۔دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نئی تعمیرات خصوصاً ہاؤسنگ یونٹس اور ہاؤسنگ کالونیز اور کمرشل عمارتوں میں بجلی اورگیس جیسی سہولیات کی فراہمی کو بروقت یقینی بنانے کے لئے وفاقی سطح پر ہیلپ لائن اپنا بھرپور کردار ادا کرے، ملکی معیشت پر کورونا کے منفی اثرات زائل کرنے، معاشی عمل کو تیز کرنے اور خصوصاً نوجوانوں کو نوکریوں اور غریب عوام کے اپنی چھت کے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے تعمیراتی شعبے کا فروغ کلیدی کردار کا حامل ہے لہذا یہ شعبہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،تعمیرات کے شعبے کو تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ کاروباری برادری ان سہولیات کا بھرپور فائدہ اٹھائے، کاروباری برادری تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے، حکومت ہر ممکنہ تعاون کے لئے پرعزم ہے۔ جمعرات کو یہاں وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس ہوا جس میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آف پاکستان (آباد) کے تیرہ نمائندگان نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس میں تعمیراتی شعبے میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات اور اسکے نتیجے میں شروع ہونے والی سرگرمیوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شریک ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آف پاکستان (آباد) کے نمائندگان کی جانب سے تعمیرات کے شعبے میں حکومت کی جانب سے تاریخی مراعات اور آسانیاں فراہم کرنے پر وزیرِ اعظم کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ نجی بنکوں کی جانب سے تعمیراتی سرگرمیوں کے لئے بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جس کا کریڈٹ بلا شبہ موجودہ حکومت اور سٹیٹ بینک کو جاتا ہے:آباد نمائندگان کا اظہار خیال کیا گیا۔ آباد نے موقف اختیار کیا کہ این او سی اور اجازت ناموں کے عمل کو آسان بنانے سے تعمیراتی شعبے سے وابستہ کاروباری برادری کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ اجلاس میں موجود آباد کے تیرہ نمائندگان کی جانب سے آئندہ تین سے چار ماہ میں مختلف منصوبے شروع کرنے کی یقین دہانی جس کے نتیجے میں 1370 ارب روپے کی معاشی سرگرمی پیدا ہوگی۔ ان منصوبوں میں ایک لاکھ کے قریب رہائشی یونٹس کی تعمیر بھی شامل ہے۔ آباد کی جانب سے تعمیراتی شعبے میں دی جانے والی مراعات کا بھرپور فائدہ اٹھانے اور اربوں روپے کی معاشی سرگرمیاں شروع کرنے کی یقین دہانی پر وزیرِ اعظم کا اظہار اطمینان کیا گیا۔ تعمیرات کے شعبے کے حوالے سے وزیرِ اعظم کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے اور ڈویلپرز اور بلڈرز کے لئے آسانیاں فراہم کرنے کے حوالے سے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخواہ کی جانب سے اہم پیش رفت ہوئی۔ تعمیرات کے شعبے میں این او سیز و دیگر منظوریوں کے لئے درخواستوں کے عمل کو آن لائن بنانے اور سالہا سال التوا کا شکار رہنے والی درخواستوں کو دنوں میں نمٹانے کو یقینی بنانے کے لئے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ کی جانب سے جدید پورٹل قائم کر دیا گیا۔ چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے وزیرِ اعظم کو پورٹل کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا جس میں پورٹل کی خصوصیات، طریقہ کار، چیف سیکرٹری آفس سے پورے نظام کی مانیٹرنگ اور درخواستوں پر مقررہ مدت میں حکومتی اداروں کی جانب سے این او سیز و دیگر منظوریوں کے عمل کو یقینی بنانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ بلڈرز اور ڈویلپرز کی سہولت کے لئے پنجاب کے نو ڈویڑن میں ای خدمت مراکز قائم کر دیے گئے ہیں جہاں ون ونڈو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ 14 اگست تک ای خدمت مراکز کا دائرہ کار تمام ضلعوں تک بڑھا دیا جائے گا۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -