فٹیف کیساتھ نیب بل جوڑنے کے حکومتی الزامات بے بنیاد، ساتھ نہ دیتے تو سینیٹ سے بل مستر د ہو جاتے، پیپلز پارٹی، ن لیگ

  فٹیف کیساتھ نیب بل جوڑنے کے حکومتی الزامات بے بنیاد، ساتھ نہ دیتے تو سینیٹ ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف کے ساتھ نیب بل جوڑنے کے حکومتی الزامات مسترد کر دئیے۔ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا حکومت ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں نوے روز جبری لاپتہ کرنے سے متعلق خوفناک بل لائی جسے مسترد کر دیا۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ نیب بل جوڑنے کے حکومتی الزامات بے بنیاد ہیں، حکومت ان بلز کی آڑ میں کچھ اور کرنا چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا اپوزیشن نے بل کیلئے 4 ترامیم دیں، حکومت نے کہا تھا 4 بل منظور کرانا چاہتے ہیں، حکومت کی خواہش تھی چاروں بل اکٹھے پاس ہوں۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا 3 بل ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پر مبنی ہیں، حکومت کا ایک بل نیب قوانین سے متعلق ہے، انسداد دہشتگردی ترمیمی بل پر ایک اعتراض بھی دور ہوا، یہ بل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بل سے بھی زیادہ خوفناک تھا۔ انہوں نے کہا حکومت نے بغیر ترامیم کے دونوں فیٹف بلز قومی اسمبلی سے جلد بازی میں منظور کرائے،اپوزیشن اگر فیٹف بلز پر ساتھ نہ دیتی تو بلز سینیٹ سے پاس نہیں ہو سکتے تھے،حکومت اپنا نیب اپنے پاس رکھے،کوئی این آر او نہیں مانگا،اپوزیشن ارکان نیب کو بھگت رہے ہیں،حکومت اپنی آرڈیننس کا این آر او واپس لے آئے،حکومت نے پارلیمان کا غلط استعمال کیا،ہم کوئی قانون بلڈرز نہیں کرنے دیں گے جس سے عوام کی دھجیاں بکھیری جائیں۔ دونوں فیٹف کے بلز 25 منٹ میں پاس ہو گئے،ہم نے کہا کہ یہ بل اپ اپنے نیب زدہ کو فائدہ پہنچانے کیلئے لائے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نیب چیئرمین کی توسیع کی ترمیم بل میں شامل کی گئی ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ سپیکر کے گھر میں بھی نیب بل پر مذاکرات ہوتے رہے،فاروق نائیک کے بل پر نوٹس حکومت کو دئیے،حکومت سے کہا کہ یہ ڈرافٹ بل نہیں ہے صرف نوٹس ہیں،فاروق نائیک سے کہا تھا کہ کل کو یہ نوٹس کو لہرا کر کہیں گے کہ این آر او مانگ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ فاروق نائیک نے جو ترامیم دیں وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں اور اسلامی نظریاتی کونسل کو مدنظر رکھ کر دی گئیں،حکومت نے اگلے دن دوبارہ میٹنگ کا کہا لیکن نہیں آئے۔انہوں نے کہاکہ جب دوبارہ میٹنگ ہوئی تو وزرا کے چہرے اترے ہوئے تھے کہ وزیراعظم نہیں مان رہے۔۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شیری رحمن نے کہاکہ جھگڑے کی جڑ نیب قوانین نہیں فیٹف قوانین میں جو دھوکہ کیا یہ اصل وجہ ہے،حکومت فیٹف بلز بغیر ترامیم کے بلز لے آئی،ہمیں بغیر ترامیم کے بلز دیکھ کر حیرانی ہوئی،ان کو پورے پاکستان میں اکثریت مل گئی تو یہ ملک کو روند کر رکھ دیں گے۔انہوں نے کہاکہ حکومت اپنا نیب اپنے پاس رکھے،کوئی این آر او نہیں مانگا۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن ارکان نیب کو بھگت رہے ہیں،حکومت اپنے آرڈیننس کا این آر او واپس لے آئے۔ انہوں نے کہاکہ حساس میٹنگز کی بات نہیں کرنی چاہیے تھی ان کو شرم آنا چاہیے تھی،۔شیری رحمن نے کہاکہ فیٹف میں پاکستان ہماری حکومت میں بھی گرے لسٹ میں تھا،ہم نے بغیر شوروغوغا کے گرے لسٹ سے باہر نکالا،تباہی سرکار نے پارلیمان کو غلط استعمال کرنے کو کوشش کی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ حکومت فیٹف کی آڑ میں تاریخ کا سب سے خوفناک بل پاس کرانا چاہتی تھی۔ رکن جے یو آئی (ف)شاہدہ اختر علی نے کہاکہ حکومت ہر جگہ اپنی نا اہلیت کو پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں کمیٹی کی کمپوزیشن سے شروع دن سے اعتراض تھا،حکومت نے بلز منظوری کے لیے پارلیمان کے طریقہ کار ہمیشہ بلڈوز کیے ہیں،حکومت بتائے کہ کس نے ان سے این آر او مانگا ہے۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن اگر فیٹف بلز پر ساتھ نہ دیتی تو بلز سینیٹ سے پاس نہیں ہو سکتے تھے۔

اپوزیشن

مزید :

صفحہ اول -