نیب نے خواجہ برادران کی ضمانت منسوخی کیلئے نظر ثانی اپیل تیار کرلی

نیب نے خواجہ برادران کی ضمانت منسوخی کیلئے نظر ثانی اپیل تیار کرلی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)نیب نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماایم این اے خواجہ سعد رفیق اور ایم پی اے خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت منسوخی اورعدالتی آبزرویشنزحذف کروانے کے لئے نظر ثانی کی درخواست کا مسودہ تیارکرلیاہے جو چیئرمین نیب کی منظوری کے بعدسپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی۔ نظر ثانی کی درخواست کے مسودہ میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ سپریم کورٹ نے خواجہ برادران کے خلاف کیس کے بنیادی اور اہم شواہد کو نظر انداز کیا،اگر سپریم کورٹ کے فیصلے میں آبزرویشن ختم نہ کی گئی تو ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر اثرانداز ہو سکتی ہیں،سپریم کورٹ کا کیس کے میرٹس کو دیکھنا پراسیکیوشن کے کیس کو کمزور کر سکتا ہے،سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ضمانتوں کے معاملے پر تفصیلی فیصلوں کی حوصلہ شکنی کر چکے ہیں،سپریم کورٹ کی جاری ہدایات کے مطابق ملزمان کی ضمانتوں کے فیصلے 4 یا 5 صفحات پر مشتمل ہونے چاہئیں جبکہ خواجہ بردران کی ضمانت کاتفصیلی عدالتی فیصلہ 87صفحات پر مشتمل ہے،جس میں نیب کی کارکردگی کے خلاف بھی آبزرویشنز دی گئی ہیں،نیب نے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد درخواست گزاروں کے خلاف کارروائی کی،اس پٹیشن کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کی مزید معاونت بھی کی جائے گی،ضمانت کے موقع پر عدالت کو دستیاب شواہد پر سرسری جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرنے کا اختیار ہے،معزز عدالتی بنچ نے ضمانت کی سطح پر شواہد کا گہرائی سے جائزہ لیا اور کیس کے میرٹس کی تفصیلی انکوائری کی، معزز عدالت نے فیصلے میں خواجہ سعد رفیق کے وکیل کے پیراگون کو ہونے والی ادائیگیوں میں مفروضوں پر یقین کیا ہے،ریکارڈ پر موجود شواہد واضح کرتے ہیں کہ خواجہ سعد رفیق اور ان کے خاندان نے فرنٹ مین کے ذریعے پیراگون کو استعمال کیا اور اثاثے بنائے،فیصلے میں سیاسی انجینئرنگ سے متعلق جو بات کی گئی نیب اس پر یقین نہیں رکھتا،خواجہ سعد رفیق اور دیگر کے خلاف انکوائری بغیر کسی ڈر و خوف کے اس وقت شروع ہوئی جب ان کی جماعت اقتدار میں تھی، نیب عدالت سے درخواست کرتا ہے کہ حقائق کی روشنی میں خواجہ برادران کے ضمانت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور نیب کے حوالے سے عدالتی آبزرویشنز حذف کی جائیں۔

نظر ثانی اپیل

مزید :

صفحہ آخر -