کینسر کے مریض قیدی کی سزامعطلی کی اپیل پر 2سال بعد بھی فیصلہ نہ ہوسکا

کینسر کے مریض قیدی کی سزامعطلی کی اپیل پر 2سال بعد بھی فیصلہ نہ ہوسکا

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)قتل کے مقدمہ میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے کینسر کے مریض فیضان احمد کی سزامعطلی کی درخواست اوراپیل کالاہور ہائیکورٹ میں 2سال بعد بھی فیصلہ نہیں ہو سکا، فیضان احمدنے اپنی سزا کے خلاف 19 جون 2018ء سے اپیل دائر کر رکھی ہے، کوٹ لکھپت جیل سپرنٹنڈنٹ اور میڈیکل آفیسر کی رپورٹ میں فیضان احمد کے موذی مرض میں مبتلا ہونے کے انکشافات کئے گئے ہیں،میڈیکل آفیسر کوٹ لکھپت جیل کے مطابق ملزم فیضان احمد 19 سال کا ہے اور ملزم کو 12 جون 2018ء کو جیل منتقل کیا گیا، جیل کے ڈاکٹرکاکہناہے کہ جناح ہسپتال میں ملزم فیضان کے بلڈ کینسر میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی، شوکت خانم ہسپتال میں 28 روز تک ملزم کا علاج بھی کروایا جاتا رہا، ملزم کو علاج کیلئے سرگودھا جیل سے کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا،جیل کے ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق بلڈ کینسر، ٹی بی اور ہیپاٹائٹس کی بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کی وجہ جیل کے دوسرے قیدی بھی بیمار ہو سکتے ہیں، ملزم فیضان نے بیماری کی بنیاد پر عمر قید کی سزا فوری طور پر معطل کرنے کی اپیل دائر کر رکھی ہے، لاہور ہائیکورٹ نے نومبر 2018ء میں جیل سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو نوٹس جاری کر کے رپورٹ طلب کی تھی، ایک برس 8 ماہ عرصے کے دوران اپیل کو جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کیلئے متعدد بار درخواستیں دی جا چکی ہیں تاہم ابھی تک اس کیس کا فیصلہ نہیں ہوا، سیشن عدالت منڈی بہاؤالدین نے ملزم کو 2018ء میں قتل کے مقدمہ میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

سزامعطلی

مزید :

صفحہ آخر -