چینی پیپلز لبر یشن آرمی طاقتور، مہذیب اور پرامن فورس کے طور پر جا نی جاتی ہے

چینی پیپلز لبر یشن آرمی طاقتور، مہذیب اور پرامن فورس کے طور پر جا نی جاتی ہے

  

بیجنگ (خصوصی رپورٹ)چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مضبوط قیادت میں چینی عوام کی عظیم آزادی، چین کی سوشلسٹ تعمیر و اصلاح، ریاستی خودمختاری، سلامتی اور قومی ترقی کے مفادات کے تحفظ کیلئے انمٹ تاریخی کردار ادا کیا ہے جو عالمی امن اور انسانیت کی ترقی کا سبب ہے۔ اسے دنیا میں ایک طاقت ور، مہذب اور پرامن فورس کے طور پر جانا جاتا ہے۔ پیپلز لبریشن آرمی کار لڑائی کا جذبہ جدوجہد کرنے کی ہمت، جیتنے کی ہمت، میں روز بروزاضافہ ہو رہا ہے، اس کے تنظیمی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا رہا ہے، خصوصی کارروائیوں، ہمہ جہتی جرم اور دفاع، ا دور سمندر کے آپریشن اور اسٹریٹجک پروجیکشن کے لئے نئی قسم کی جنگی قوتوں کو بڑھایا گیا ہے۔ فوجی نظریات کی جدت درازی کی گئی ہے اور اس کے نتائج فوجی حکمت عملی، مشترکہ کارروائیوں کو بڑھایا گیا ہے، پیپلزلبریشن نے سٹریٹجک، جدید اور ٹیکنالوجی میں بہت ترقی کی ہے۔ اسلحہ سازی اور سامان کی مجموعی تشکیل کو بہتر بنا یا جارہا ہے، اہم جنگ کے سازوسامان، انفارمیشن سسٹم، اور معاون آلات کی متوازن ترقی کو فروغ دیا گیا۔ یہ ایک مہذب فورس ہے جو اپنے سخت نظم و ضبط کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتی ہے۔ اب چین اہم خصوصیات کے ساتھ ملٹری قانونی نظام تشکیل دے رہا ہے، فوجی تربیت اور جنگی تیاریوں میں نگرانی کو مضبوط بنایا جائے گا، عوامی رابطے اور تعلیم کی مہموں کے ذریعے قانونی شعور کو فروغ دیا جا رہا ہے، قانونی مشاورت اور خدمات کے معاون طریقہ کار کو قائم اور بہتر بنا رہا ہے اور قانون کو آگے بڑھا رہا ہے۔ فوج میں بیسڈ مینجمنٹ کے مثبت امیج کو برقرار رکھنے میں معاونت کرتے ہوئے، ہر لحاظ سے زیادہ سختی سے انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، چینی فوج ہمیشہ لوگوں سے قریبی رابطے میں رہنے اور ان کے حقوق اور مفادات کے دفاع کی روایت کو آگے بڑھاتی ہے، تباہی سے بچاؤ اور امداد میں سرگرمی سے شریک ہے۔ ایک پرامن قوت چین کے قومی دفاع کی ترقی کا مقصد اپنی سلامتی کی صحیح ضروریات کو پورا کرنا اور دنیا کی پر امن افواج کی ترقی میں حصہ ڈالنا اس کا مقصد ہے۔ اقوام متحدہ کے امن بجٹ میں چین کا سب سے بڑا حصہ ہے اور یونیسکوکے مستقل ممبروں میں سب سے زیادہ فوجی دستے اس کے ہیں۔ پیپلز لبریشن آرمی نے اقوام متحدہ کے 25 امن مشنوں میں حصہ لیا جس میں 40,000 سے زائد فوجی شامل ہیں۔ چین کے 15 فوجی جوانوں نے اقوم متحدی کے اپنی مشنزمیں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ دسمبر 2008 ء کے بعد سے، پیپلز لبریشن آرمی نے خلیج عدن میں ایسکورٹ مشن کے لئے 35 ٹاسک گروپوں میں 100 سے زائد بحری جہاز روانہ کردیئے ہیں اور صومالیہ کے ساحل سے ملحقہ پانی، جس نے6700چینی اور غیر ملکی جہازوں کو تحفظ فراہم کیا ہے اور اس مشکل میں 70 سے زیادہ جہازوں کو بچایا۔کرونا وَبا کے دوران پی ایل اے نے 40سے زائد ممالک کی مسلح افواج کو طبی امداد فراہم کی۔وَبا کے دوران طبی ماہرین کی ٹیموں کو پاکستان، میانمر، لاؤس اور کیمبوڈیابھیجا۔

پیپلزلبریشن آرمی

مزید :

صفحہ آخر -