نامساعد حالات کے باوجود غریب عوام کو ترجیح حاصل ہے، پرویز خٹک

نامساعد حالات کے باوجود غریب عوام کو ترجیح حاصل ہے، پرویز خٹک

  

نوشہرہ (بیورورپورٹ)وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ نامساعد حالات کے باوجود وزیر اعظم عمران خان کی حکومت غریب عوام کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور وزیر اعظم عمران خان تمام وسائل غریب عوام پر خرچ کررہے ہیں موجودہ مہنگائی دنیا بھر میں ہے کیونکہ کورونا کی وباء کی وجہ سے پاکستان سمیت پوری دنیا کی معیشت کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے اور اس کے اثرات کئی سالوں تک ہوں گے جماعت اسلامی کا دھرنا درحقیقت نوشہرہ کسٹم سکواڈ کی جانب جماعت اسلامی کے رہنما کی گاڑی سے غیرملکی کپڑا اور گاڑی ضبط کرنے کے لیے تھا جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سنیٹر مشتاق احمد خان اتنے نیچے گر گئے کے وہ دو تین بار کسٹم کے دفتر کے چکر کاٹتے گئے تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرنے والے خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے انہوں نے تو اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی جماعت اسلامی میر ی صوبائی حکومت میں میرے اتحادی تھے جماعت اسلامی اپنے وزرا سے پوچھے کہ میری حکومت میں کتنی کرپشن ہوئی تھی کیا میری حکومت میں کرپشن ہوئی تھی یا نہیں بی ار ٹی منصوبہ جماعت اسلامی کے صوبائی وزیر بلدیات کی زیر نگرانی شروع ہوا تھا وہ خود بتائیں کے کتنی کرپشن اور کس نے کمیشن لی ہے وہ نوشہرہ مانکی شریف میں صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے اس موقع صوبائی ابپاشی لیاقت خان خٹک،قومی اسمبلی میں مجلس قائمہ کے چیرمین برائے توانائی وقدرتی وسائل ڈاکٹر عمران خٹک بھی موجود تھے پرویز خٹک نے کہا کہ جماعت اسلامی کا شوبرا چوک میں دھرنا ایک ٹوپی ڈرامہ وہ چار اضلاع نوشہرہ،پشاور،چارسدہ مردان اور صوابی سے چند سو افراد اکھٹے نہ کرسکیں عوام ان کا اصل چہرہ پہچان چکی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ جماعت اسلامی کی قیادت کی قدر کی ہے لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مشتاق احمد خان نے اتنے نیچے اسکتے ہے میرے خلاف بہتان لگائیں کیااسلام اس کی اجازت دیتا ہے اگر میرے خلاف اس کے پاس کرپشن کے اتنے ثبوت ہے تو وہ نیب کیو ں نہیں جاتے درحیقت یہ عوام کو دھوکا دے رہے ان کے پاس تحریک انصاف کی حکومت کے خلا ف کوئی چارج شیٹ نہیں اگر میرے صوبائی دور حکومت اتنی کرپشن تھی تو یہ اس وقت کوئی خاموش رہے پانچ سال تک تو جماعت اسلامی کے وزرا اقتدار کے مزے لوٹتیں رہے بی ار ٹی منصوبہ،پی ڈی اے کی زیر نگرانی شروع ہوا اور پی ڈی ائے سنیئر صوبائی وزیر عنایت اللہ کا محکمہ تھا یہ اپنے وزیر کے خلاف چار ج شیٹ پیش کررہے ہے پرویز خٹک نے کہا کہ معاہدے کے مطابق اخری مرحلے میں بی ار ٹی منصوبہ ٹرانسپورٹ کے محکمہ کو منتقل کیا جائے اب تک پی ڈی اے نگرانی کررہی ہے بی ارٹی منصوبہ ایشین ڈویلپمنٹ بنک کا ہے ٹھیکہ بھی ایشین ڈویلوپمنٹ بنک نے دیا اور کنسلٹن بھی ان کا ہے مشتاق احمد خان نے بے پرکیاں اڑئی وزیر اعظم عمران خان نے پہلی مرتبہ اٹا چور اور چینی چور پر ہاتھ ڈالا اور انہوں نے قوم سے وعدہ کیا ہے کہ ان چوروں کو بے نقاب کریں گے اور اس سے لوٹی ہوئی رقم کی ایک ایک پائی وصول کریں گے وزیر اعظم عمران خان نے خود رپورٹ شائع کروائی کونسے حکمرانوں نے اج تک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی وزیر اعظم عمران خان اپنے لوگوں کی بھی پراہ نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ مالم جبہ اسکیم میں کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوا نا سرکاری زمین کسی کو دی گئی ہے پرویز خٹک نے کہا کہ سنیٹر مشتاق احمد خان یہ بھی بتائیں کے اسے سنیٹر کس نے بنوایا انہو ں نے کہا کہ جماعت اسلامی میرا منہ کھلوائیں ورنہ میں مجبور ہوکر اصل حقائق قوم کو بتا دوں گا میں دوستی کی پاسداری کرتاہوں جماعت اسلامی کے سربرا ہ سنیٹر سراج الحق میری کابینہ میں وزیر خزانہ رہے وہ مجھ اچھی طرح جانتے میں وزیر اعلی،وفاقی وزیر دفاع تین بار صوبائی وزیر اور ضلع ناظم میرا پشاور اسلام اباد دمیں کوئی ذاتی گھر نہیں باپ داد ا کی جو جائیداد تھی وہ بڑھی نہیں فروخت کرکے کم ہوئی خود کو اسلام کا ٹھیکدار کہنے والے مجھے جھوٹے الزام لگا رہے ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے عوام نے متحدہ مجلس عمل کو مسترد کیا اور ائندہ بھی کریں گے انہوں نے کہا کہ نوشہرہ میں میرے دور حکومت میں ضلع نوشہرہ جو ترقیاتی منصوبے ہوئے اس میں کوئی کمیشن ثابت کردیں تو میں سیاست چھوڑ دوں گا جماعت اسلامی نے ایم ایم اے میں حکومت کا حصہ رہے انہو ں نے اسلام کی کتنی خدمت کی میں نے پانچ سال دور حکومت میں سود جہیز کی لعنت کے خلاف قانون سازی تعلیمی نصاب میں اسلامی تہذیب اور حضور نبی کریم ﷺ ک اسوہ حسنہ خلفائے راشدین کے ادوار کے مضامین نصاب میں ڈلوائے تمام غیر اسلامی مواد درسی کتب سے نکالا تمام تعلیمی اداروں میں قران بعمہ ناظرہ لازمی قرار دیا رشوت کے خلاف تحریک چلائی یہ مشتاق احمد خان کو نظر نہیں اتے تھے میں نے کھلے عام علماء کو کہا کہ وہ میری رہنمائی کریں انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ عوام کی خدمت کے لیے سیاست کی اور اپنا پروگرام جلسوں میں پیش کیا میں اپنے جلسوں میں کسی مخالف کا ذکر نہیں کیا اور نہ ان کے خلاف باتیں کرتا ہوں

مزید :

صفحہ اول -