لاہور کے 86 تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز اور 35 سرکلز کے ایس ڈی پی اوز میں سے 35 تھانوں کے ایس ایچ اوز مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز سمیت سنگین الزامات میں ملوث

لاہور کے 86 تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز اور 35 سرکلز کے ایس ڈی پی اوز میں سے 35 ...
لاہور کے 86 تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز اور 35 سرکلز کے ایس ڈی پی اوز میں سے 35 تھانوں کے ایس ایچ اوز مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز سمیت سنگین الزامات میں ملوث

  

لاہور (لیاقت کھرل )رواں سال کے پہلے 6ماہ ،خفیہ اداروں کی رپورٹ میں لاہور پولیس مبینہ کرپشن،قبضہ گروپ کی سرپرستی اور بے گناہ شہریوں پر تشدد سمیت دیگر ز سنگین الزامات میں ’’ٹاپ‘‘15ڈی ایس پیز اور 35تھانوں کے ایس ایچ اوز کے خلاف مبینہ طور پر قبضہ گروپ ،بے گناہ شہریوں پر تشدد اور اختیارات سے تجاوز سمیت سنگین الزمات کا انکشاف سامنے آیاہے ۔ جن کو عیدالضحٰی کے فوری بعد فیلڈ پوسٹنگ سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔

روزنامہ پاکستان کو خفیہ اداروں اور محکمہ پولیس کے انٹرنل سیل کی جانب سے وزیر اعلی پنجاب کو پیش کر دہ رپورٹ سے ملنے وا لی معلومات کے مطابق پنجاب پولیس میں سرکلز اور تھانوں کی سطح پر ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز پولیس کلچر کی تبدیلی میں بڑے پیمانے پر رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔ جس میں لاہور پولیس نے ہمیشہ کی طرح روایت برقرار رکھتے ہوئے رواں سال کے پہلے 6ماہ بھی صوبے کے دیگر اضلاع میں پہلا نمبر حاصل کیا ہے ۔ لاہور کے86تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز اور 35سرکلز کے ایس ڈی پی اوز میں سے 35تھانوں کے ایس ایچ اوز مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز سمیت سنگین الزامات میں ملوث ہیں ۔ جن میں 25تھانوں کے ایس ایچ اوز اور 6سرکلز افسر(ڈی ایس پیز )کے خلاف قبضہ گروپ کے ارکان سے مبینہ تعلقات،بے گناہ شہریوں پر تشدد اور بوگس مقدمات درج کرنے سمیت مبینہ کر پشن جیسے سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں ۔ اس کے باجود یہ پولیس افسران کئی کئی سال سے لاہور اے پلس کیٹیگریز اور اے کیٹیگریز (آمدنی والے )تھانوں اور سرکلز میں تعینات ہیں  اور ان کو مبینہ طور پر اعلیٰ حاضر وریٹائرڈ پولیس افسران اور سیاسی شخصیات کی سرپر ستی حاضر ہے ۔ جس کی بنا پر لاہور پولیس کے اعلیٰ افسران ان ایس ایچ اوزاور ڈی ایس پیز کو عہدوں سے ہٹانے میں ناکا م ہیں جس کی وجہ سے لاہور میں امن ومان کی ناقص صورتحال اور کرائم کی شرح میں دوسو فیصد اضافہ ہونا بنیادی وجہ ظاہر کی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ پولیس افسران تھانہ کلچرکی تبدیلی میں مسلسل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عید الضحٰی کے فوری بعد لاہور پولیس کے 6ڈی ایس پیز اور 25تھانوں کے ایس ایچ اوز کو تبدیل کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جن میں پہلے مرحلہ میں ڈی ایس پی گلشن راوی ، ڈی ایس پی شمالی چھاءونی ،ڈی ایس پی کینٹ سرکل ،ایس ڈی پی او رائیونڈ، ایس ایچ او ساندہ ، ایس ایچ او کوٹ لکھپت ، ایس ایچ او سٹی رائیونڈ ،ایس ایچ او ہیئر،ایس ایچ او شمالی چھاءونی ،ایس ایچ او ڈیفنس اے ، ایس ایچ او ہربنس پورہ وغیرہ کے نام تبدیل ہونے والوں میں شامل ہیں ۔

اس حوالے سے ایس ایس پی ڈسپلن عبادت نثارکا کہنا ہے کہ لاہور پولیس کے ایک ایس پی ،چار ڈی ایس پیز سمیت 10تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت 550اپرسبارڈینیٹ کے خلاف مبینہ کر پشن اور اختیارات سے تجاوز اور دیگر زسنگین الزامات پر تحقیقات جاری ہیں ۔ جن میں 150پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف سنگین الزامات ثابت ہو چکے ہیں جبکہ اس حوالے سے ڈی آئی جی آپریشن لاہور اشفاق احمد خان نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ کرپٹ اور بے گناہ شہریوں پر تشدد کرنے والے پو لیس افسران کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور انہیں کسی بھی صورت فیلڈ پوسٹنگ نہیں دی جائے گی ۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -