”کچھ لوگ اس تصویر کو جعلی کہہ رہے ہیں ، یہ بیوقوف ملک اور شہر کے غدار ہیں “ اس تصویر کو جعلی کہنے والوں پر رمیز راجہ پھر برس پڑے

”کچھ لوگ اس تصویر کو جعلی کہہ رہے ہیں ، یہ بیوقوف ملک اور شہر کے غدار ہیں “ اس ...
”کچھ لوگ اس تصویر کو جعلی کہہ رہے ہیں ، یہ بیوقوف ملک اور شہر کے غدار ہیں “ اس تصویر کو جعلی کہنے والوں پر رمیز راجہ پھر برس پڑے

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )کراچی میں حالیہ ہونے والی بارشوں نے حکومتی دعوؤں کا پول کھول دیاہے کیونکہ ہر گلی اور کوچہ نہر اور سمندر کا منظر پیش کرتا رہا جبکہ نالوں کا گندا پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا اور شہریوں کی زندگی مشکلات میں گھری رہی جن کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیاہے اور ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کی متعدد ویڈیوز اور تصاویر گردش کر رہی ہیں تاہم ان میں ایک تصویر ایسی بھی ہے جس نےاس وقت تمام صارفین کی توجہ حاصل کررکھی ہےجس پرمعروف کمنٹیٹر رمیز راجہ نےبھی تبصرہ کیااوراب ان کولینےکےدینےپڑگئےہیں۔اس تصویر میں دیکھا جا سکتاہے کہ ایک بڑے سے میدان کے گرد اونچی اور بلند عمارتوں کا گھیرا ہے جبکہ خالی میدان میں بارش کا پانی کھڑا ہے جس سے اس کا رنگ مٹی کے ساتھ مل کر بالکل ایسا بن گیا ہے جیسا کہ کسی نے بڑے پیمانے پر چائے کا بندوبست کیاہے ۔

رمیز راجہ نے یہ تصویر پہلے شیئر کی تھی جس پر انہوں مزاحیہ انداز میں کہا کہ سندھ حکومت نے پورے کراچی کیلئے چائے کا بندوبست کر لیاہے تاہم ان کے اس ٹویٹر پر کئی معروف لوگوں نے تبصرہ کیا اور بتایا کہ یہ تصویر جعلی ہے اور پاکستان کی نہیں ہے ۔

رمیز راجہ کراچی کی حالت زار دیکھ کر بہت ہی زیادہ جذباتی دکھائی دیئے اور ہو سکتاہے کہ وہ ان ہی جذبات کی لہر میں بہہ کر غصے میں آگئے اور انہوں نے اس تصویر کو جعلی قرار دینے والوں کو ” شہر اور ملک کا غدار “ قرار دیدیا ۔رمیز راجہ نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے نہایت ہی سخت الفاظ کا چناؤ کیا اور کہا کہ ” یہ کراچی کی تصویر ہے یا نہیں مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ،یہ خلاصہ کرتا ہے کہ شہر میں کیا ہو رہاہے ،کہ کس طرح شاہانہ اندازمیں کراچی کو نقصان پہنچایا گیا ، کچھ بیوقوف اسے چیلنج کر رہے ہیں کہ یہ ایک جعلی تصویر ہے ، ان بیوقوفوں کا دماغ کام نہیں کرتا ، یہ ملک اور شہر کے حقیقی غدار ہیں ۔“

رمیز راجہ نے اس سے قبل ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ” سندھ حکومت نے پورے شہر کیلئے دودھ پتی کا بندوبست کیاہے ۔“

رمیز راجہ کے اس ٹویٹ پر سینٹر سعید غنی میدان میں آئے اور انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ” آپ بتانا پسند کریں گے کہ یہ کراچی کا کونسا علاقہ ہے ۔“

سینئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ” یہ دودھ پتی بھارتی شہر حیدرآباد دکن سے ہے کراچی سے نہیں ہے ۔“

اس جعلی اور اصلی کی بحث نے ممکنہ طور پر رمیز راجہ کو غصہ دلایا اور انہوں نے نہایت سخت تنقید کرتے ہوئے پیغام جاری کیا ۔

تاہم اس تمام صورتحال کے علاوہ ایک صحافی فیصل پاشا نے اس ٹویٹ کی حقیقت بیان کر دی ہے ، انہوں نے ٹویٹر پر بھارتی شہری کا 2019 کا ٹویٹ شیئر کیا اور نہایت سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ” یہ یوتھیا ضد میں پرانی تصویر پر ابھی بھی ڈھٹائی سے قائم ہے ، ایک ٹویٹ میں لوگوں نے نشاندہی کی یہ کراچی کی نہیں انڈیا کا کوئی علاقہ ہے ، بجائے اپنی تصحیح کرنے کے یہ الٹا ایک اور ٹویٹ کر کے لوگوں پر غداری کے فتوے لگا نے لگ گیا ہے۔“

فیصل پاشا کی جانب سے ٹویٹ میں فراہم کی گئی معلومات یہ بتاتی ہیں کہ یہ ٹویٹ کسی ” پرناوو“ نامی شہری نے 2019 میں کی تھی جس میں یہ تصویر لگائی گئی تھی ۔

سدرا حامد نقوی نامی خاتون نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے رمیز راجہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ” چلیں فرض کر لیتے ہیں کہ یہ تصویر کراچی کی ہے ، جو کہ سچ نہیں ہے ، آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا یہ درست ہے کہ آپ ایک تصویر جاری کریں اور بیان دیں کہ آپ کے دیگر ساتھی شہری غدار ہیں ؟ ۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -