بھارت میں لاک ڈاﺅن ، خواتین کے خلاف انتہائی شرمناک کام میں کئی گنا اضافہ

بھارت میں لاک ڈاﺅن ، خواتین کے خلاف انتہائی شرمناک کام میں کئی گنا اضافہ
بھارت میں لاک ڈاﺅن ، خواتین کے خلاف انتہائی شرمناک کام میں کئی گنا اضافہ

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)کورونا وائرس کی وباءروکنے کے لیے بھارت میں مارچ کے آخر سے لاک ڈاﺅن کیا گیا جو اب تک جاری ہے۔ اس دوران لوگ گھروں میں محصور ہیں اور اس کاایک افسوسناک نتیجہ گھریلو تشدد میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ انڈیا ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارت میں لاک ڈاﺅن کے دوران گھریلو تشدد کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ رواں سال مئی کے دوران این سی ڈبلیو کے کمپلینٹ اینڈ انویسٹی گیشن سیل کو گھریلو تشدد کی 392شکایات موصول ہوئی ہیں جو گزشتہ سال اسی مہینے میں 266تھیں۔

اسی طرح جون کے مہینے میں این سی ڈبلیو کو452 شکایات موصول ہوئیں جو گزشتہ سال جون کے مہینے کی نسبت 2گنا زیادہ ہیں۔ لاک ڈاﺅن کے دوران این سی ڈبلیو کو اب تک مجموعی طور پر 2ہزار 43شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی او لکشیم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راشی آنند کا کہنا ہے کہ جتنی شکایات رجسٹرڈ ہوئی ہیں یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔ گھریلو تشدد کے ان کیسز کی تعداد ممکنہ طور پر ہزاروںمیں ہو سکتی ہے جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے۔ راشی آنند کا کہنا تھا کہ ”ایک بار ہمیں ایک خاتون نے کال کی اور کام دلوانے کی درخواست کی۔ اس نے بتایا کہ اسے رقم کی اشد ضرورت ہے۔ اسے تین چیزوں کی فوری ضرورت تھی، اپنے لیے ادویات، بچے کے لیے دودھ اور اپنے شوہر کے لیے شراب۔ خاتون نے بتایا کہ شراب نہ ملنے کی وجہ سے اس کا شوہر روزانہ اسے تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔ لاک ڈاﺅن کے دوران اس نوعیت کی بے شمار کالز ہمیں موصول ہو رہی ہیں۔“

مزید :

بین الاقوامی -