وہ 40 مواقع جن پر حج منسوخ کیا گیا، اہم ترین تاریخی حقائق جانئے

وہ 40 مواقع جن پر حج منسوخ کیا گیا، اہم ترین تاریخی حقائق جانئے
وہ 40 مواقع جن پر حج منسوخ کیا گیا، اہم ترین تاریخی حقائق جانئے

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)کورونا وائرس کی وباءکے پیش نظر حج بیت اللہ اس سال محدود طور پر ہو رہا ہے۔ سعودی حکومت کی طرف سے مملکت میں موجود صرف 10ہزار لوگوں کو حج کی اجازت دی گئی ہے۔ بیرون ممالک سے کسی کو اس سال حج کے لیے ویزہ جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم یہ تاریخ میں پہلی بار نہیں ہو رہا کہ حج محدود طور پر ہو رہا ہے بلکہ ظہور اسلام کے بعد 40ایسے مواقع آ چکے ہیں جب حج بیت اللہ جزوی یا مکمل طور پر منسوخ ہو چکا ہے۔الجزیرہ کے مطابق پہلی بار 930ءمیں جب قرامطیان قبیلے نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اوراس مقدس سرزمین پر عازمین حج کا خون بہایا، اس وقت حج منسوخ ہوا اور مسلسل 20سال تک حج نہیں ہو پایا تھا۔ ان ظالموں نے 30ہزار سے زائد عازمین حج کو تہہ تیغ کر دیا اورزم زم کے کنویں کو عازمین کی لاشوں سے بھر دیا تھا۔ یہ لوگ حجر اسود بھی چوری کرکے لے گئے تھے، جو 20سال بعد بازیاب کرایا گیا۔ اس وقت تک حج بیت اللہ نہیں ہو سکا تھا۔

19ویں صدی میں جب ہیضہ کی وباءپھیلی تو 1837ءاور 1846ءمیں دو بار حج بیت اللہ منسوخ ہوا۔ 1830ءسے 1930ءکے دوران 27بار حج بیت اللہ کے موقع پر عازمین میں ہیضہ کی وباءپھیلی اور حج متاثر ہوا۔ 1979ءمیں 400سے 500کے لگ بھگ مسلح لوگوں کے ایک گروہ نے مسجد الحرام پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ قبضہ نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں 2ہفتے تک جاری رہا۔ اس باغی گروپ کی قیادت سابق سعودی فوجی جوہیمان ابن محمد ابن سیف القطیبی کر رہا تھا، جو سعودی شاہی خاندان کا سخت مخالف تھا۔ اس کا مطالبہ تھا کہ ملک میں ’اصل اسلام‘ نافذ کیا جائے۔سعودی فورسز نے فرانسیسی ٹیکٹیکل پولیس یونٹ کی مدد سے مسجد الحرام کو واگزار کرایا۔

مزید :

عرب دنیا -