کورونا وائرس کی پابندیوں کے باعث شراب کی عدم دستیابی، 9 افراد نے الکوحل والا سینی ٹائزر پی لیا، پھر کیا ہوا؟

کورونا وائرس کی پابندیوں کے باعث شراب کی عدم دستیابی، 9 افراد نے الکوحل والا ...
کورونا وائرس کی پابندیوں کے باعث شراب کی عدم دستیابی، 9 افراد نے الکوحل والا سینی ٹائزر پی لیا، پھر کیا ہوا؟

  

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت میں کورونا وائرس پابندیوں کی وجہ سے شراب کی دکانیں بند ہونے کے باعث الکوحل والا سینی ٹائزر پینے سے 9 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ریاست آندھرا پردیش کے قصبے کریچیدو کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سدارتھ کوشال نے کہا کہ یہ افراد بڑی مقدار میں سینی ٹائزر پینے کے بعد ہوش کھو بیٹے تھے، متاثرہ افراد کو فوری ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا جبکہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔پولیس افسر نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے ٹاؤن میں لاک ڈاؤن کے باعث چیزوں کی فراہمی رک جانے کی وجہ سے ان افراد نے شراب کے متبادل کے طور پر سینی ٹائزر پینے کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ بھارت میں ہر سال کچی اور زہریلی شراب پینے کی وجہ سے سیکڑوں اموات واقع ہوتی ہیں۔ دیسی شراب بنانے والے اکثر اس کی مقدار بڑھانے کیلئے اس میں میتھانول شامل کرتے ہیں جو الکوحل کی انتہائی زہریلی قسم ہے اور بعض دفعہ ایندھن کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ کریچیدو میں یہ ہلاکتیں بھارت میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 ہزار سے زائد ہونے سے چند گھنٹے قبل ہی سامنے آئیں۔ باءسے اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بعد بھارت اس حوالے سے اٹلی کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے دوسرے بڑے بھارت میں کورونا کیسز کی تعداد 16 لاکھ 30 سے زائد ہوچکی ہے اور یہ دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -