چمن بارڈر کشیدگی، مفاد پرست عناصر نے عوام کو اکسایا، ہماری پوسٹوں کو نقصان پہنچا تو جوابی کارروائی: وزیر اطلاعات

چمن بارڈر کشیدگی، مفاد پرست عناصر نے عوام کو اکسایا، ہماری پوسٹوں کو نقصان ...
چمن بارڈر کشیدگی، مفاد پرست عناصر نے عوام کو اکسایا، ہماری پوسٹوں کو نقصان پہنچا تو جوابی کارروائی: وزیر اطلاعات

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے تصدیق کی ہے کہ چمن بارڈر کے قریب سرحد بند ہونے کی وجہ سے سمگلنگ کرنے والے مفاد پرست سمگلروں نے عوام کو اکسایا جس کی وجہ سے فائرنگ ہوئی اور حالات کشیدہ ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے چمن سرحد کے قریب ہونے والے فائرنگ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’افغانستان کےساتھ ہماری سرحدیں ہیں، کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے پاکستان نے ان سرحدوں کو بند کردیا تھا، اس حوالے سے دونوں ممالک کی حکومتوں نے بھی ہفتے میں ایک روز سرحد کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔‘

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہفتے میں ایک دن سرحد کھولنے کا مقصد ترسیلات کے نظام کو چلانا ہے، ہم نے طورخم، انگوراڈا، غلام بھائی اڈہ کی سرحد کو بھی اسی وجہ سے کھولا تھا تاہم عیدسے پہلے ان تمام باڈرز کو دوبارہ بند کردیا گیا تھا۔ ان بارڈرز کے راستے روزانہ ڈھائی سے3ہزار کے قریب لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے، یہاں سے سمگلنگ بھی کی جاتی ہے، سرحد بند ہونے کی وجہ سے سمگلرز کو بڑی پریشانی کا سامنا تھا جس پر انہوں نے چند مفادپرست لوگوں کو اکسایا۔اس وجہ سے کشیدگی پیداہوئی اور اسی دوران کچھ لوگوں نے زبردستی بارڈر کراس کرنے کی کوشش بھی کی جس پر افغانستان کے بارڈر سے فائرنگ ہوئی اور پھر حالات کشیدہ ہوگئے۔ان کا کہنا تھا کہ

ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں چیک پوسٹوں کونقصان پہنچایاگیا، ہماری چوکیوں کو جب نقصان پہنچا تو فورسز نے بھرپور جواب دیا۔ سرحدی نظام کومضبوط بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، پاکستان اور افغانستان برادر اسلامی ملک ہیں اور ہم نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے، افغانستان حکومت سے بھی درخواست ہے کہ اس معاملے میں تعاون کرے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -