افغانوں کے جذبہ حریت اور عالمی طاقت کی پسپائی نےسراج الحق کے دل میں امید کی نئی شمعیں روشن کردیں

افغانوں کے جذبہ حریت اور عالمی طاقت کی پسپائی نےسراج الحق کے دل میں امید کی ...
افغانوں کے جذبہ حریت اور عالمی طاقت کی پسپائی نےسراج الحق کے دل میں امید کی نئی شمعیں روشن کردیں

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نےکہاہےکہ کشمیر کاسوداکرنےوالے حکمرانوں کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی،تحریک انصاف( پی ٹی آئی) نے روایتی اور کمزور خارجہ پالیسی جاری رکھی اور ملک کو آئسولیشن کا شکار کیا،معیشت میں بہتری کے بغیر خارجہ پالیسی میں استحکام نہیں آ سکتا ، حکمرانوں نے ہمیشہ قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دی،امت مسلمہ کو متحد ہو کر مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے،او آئی سی کے پلیٹ فارم کو مزید موثر بنایا جانا چاہیے،افغانستان میں عالمی طاقت کی پسپائی حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہے،افغانوں نے جذبہ حریت سے جارح طاقتوں کو شکست دے کر مظلوموں کے لیے امید کی نئی شمع روشن کی ہے، ان شاء اللہ فلسطین و کشمیر میں بھی آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا، پاکستان کوامت مسلمہ کی رہنمائی کرناہو گی،اس منزل کےحصول کےلیےاہل قیادت کاانتخاب بےحد ضروری ہے،پاکستان کو عظیم سلطنت بنانے کے لیے قوم جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔

 جماعت اسلامی کے شعبہ امور خارجہ کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جس میں سب سے اہم معیشت اور خارجہ پالیسی ہے،دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہے، کوئی بھی ملک معیشت میں بہتری لائے بغیر آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دے سکتا، بدقسمتی سے ہماری خارجہ پالیسی بڑی طاقتوں کے زیر سایہ ہے جب کہ معیشت پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ڈکٹیشن لی جاتی ہے،جب تک ملک میں ایسے حکمران نہیں آتے جو عالمی طاقتوں سے مرعوب ہونے کی بجائے قوم کی حقیقی ترجمانی کریں، پاکستان خود انحصاری کی منزل حاصل نہیں کر سکتا۔

انھوں نے کہا کہ مومن کا سب سے بڑا وصف جرأت و بہادری ہے، اگر ملک میں ایسے افراد آگے آئیں گے جو خودداری اور حمیت کا پیکر ہوں گے تو ہی ملک میں وہ انقلاب آ سکتا ہے جس کے لیے اسلامیان برصغیر نے قربانیاں دی تھیں،امت مسلمہ تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہی ہے، اگرچہ روایتی نو آبادیاتی نظام کا دور ختم ہو گیا ہے مگر سرمایہ داری نے نئی شکلیں اختیار کر کے انسانوں کے وسائل اور خاص کرکے امت مسلمہ کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ قدرتی وسائل کو انسانیت کی فلاح اور ترقی کے لیے استعمال کیا جائے۔

امیر جماعت نے کہا کہ مسلمانوں کو دنیا بھر میں نشانہ بنایا جا رہا ہے،دنیا کو اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،اقوام متحدہ احترام مذاہب کے قوانین بنائے اور تمام ممالک اس پر عملددرآمد کو یقینی بنائیں۔

سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان میں ایک ایسے فلاحی معاشرہ کی تشکیل چاہتی ہے جس میں قانون کی بالادستی ہو اور امیر اور غریب کا بچہ ایک ہی سکول میں تعلیم حاصل کرے،ہم پاکستان میں جمہوریت ، عدالت اور سیاست کو قرآن و سنت کے تابع کرنا چاہتے ہیں،ملک میں نام نہاد جمہوریت اور مارشل لاز کے ادوار کے دوران عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا مگر اب پاکستان اور فرسودہ نظام اکٹھے نہیں چل سکتے، قوم کو آزمائےہوئےچہروں کومستردکرکےاہل اور ایمان دار لوگوں کو قیادت کے منصب پر فائز کرنا ہو گا، جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر عوام کے دکھوں اور تکلیفوں کا مداوا کرے گی اور ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالے گی۔

مزید :

قومی -