4ہزار سال پہلے پنجاب وادی سندھ کا حصہ تھا،منتروں میں بھی سندھو کا کئی بار ذکر ہے، آریائی اور ویدک تہذیبیں بھی اسی خطے اور سندھو کے گردہی پروان چڑھیں 

 4ہزار سال پہلے پنجاب وادی سندھ کا حصہ تھا،منتروں میں بھی سندھو کا کئی بار ...
 4ہزار سال پہلے پنجاب وادی سندھ کا حصہ تھا،منتروں میں بھی سندھو کا کئی بار ذکر ہے، آریائی اور ویدک تہذیبیں بھی اسی خطے اور سندھو کے گردہی پروان چڑھیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:93
 پانچ دریاؤں کی سرزمین
”ملنا، بچھڑنا، خوشی اور غمی کا اٹوٹ انگ ہیں۔“
(بابا گرونانک)
”بابا گرونانک کا قول حقیقت ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ میں پہاڑوں کی سر زمین سے باہر نکل آیا ہوں۔ پیر سر، در بند اور تربیلا پیچھے رہ گئے ہیں۔ وہ پٹھانوں کی قدیم ثقافت، خوشحال خاں خٹک کا دیس اور جدید زمانے کی کلاشنکوف، ہیروئن، سمگلرز، پردہ پوش خواتین اور سنگلاخ چٹانوں کاخطہ ہے۔یہ پنجاب ہے۔5 دریاؤں، سسی پنوں، ہیر رانجھا،گبھرو جوانوں، الہڑ مٹیاروں مہمان نوازوں، سونا اگلتے کھیتوں، راہٹوں کی گھوں گھوں، میٹھے سروں، سرسبز میدانوں، بابا بلھے شاہ، سلطان باہوؒ،میاں محمد بخشؒ داتا گنج بخشؒ، میاں میر ؒ جیسے صوفی شعراء اللہ کے دوستوں اور سب سے بڑھ کر میری (سندھو)منہ زور جوانی کی دھرتی ہے۔“ اونچے پہاڑوں سے نکل کر جیسے ہی میں نشیبی علاقے میں پہنچتا ہے تو تربیلا کے مقام پر ایک بڑی بند نما دیوار بنا کر مجھے ڈیم میں بدل دیا گیا ہے۔ میرے مشرقی کنارے ”حضرہ“ کی قدیم اور تاریخی بستی ہے۔ تھوڑا آگے جرنیلی سڑک کے پاس اٹک ہے اور یہیں دریائے کابل مجھ میں گرتا ہے۔ جنڈ کے قریب میرا اور ”سواں ریور“ کا سنگم ہے۔اسے اب دریا کہنا تومناسب نہیں یہ سمٹ کر برساتی نالے ہی رہ گیا ہے جو مون سون کے موسم میں ہی اپنا پانی مجھ میں اتارتا ہے۔میں پوٹھوہار، چھچھ، کا لا چٹا پہاڑی سلسلہ سے بہتا، کوہ نمک کو چھوتا کالا باغ پہنچتا ہوں۔کالاباغ سے میرا پہاڑی سفر مکمل ہوکر میدانی سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ آغاز ہے پنجاب کے وسیع سر سبز میدان کا۔ کچھ آگے ”کوہ سیلمان“سے نکلنے والا ”دریائے گومل“مجھ میں ملاپ کرتا ہے۔”پنجند مظفر گڑھ“پنجاب کے 5دریاؤں کا سنگم ہے تو مٹھن کوٹ پر میرا اور چناب کا۔ رحیم یار خاں کے گاؤں ”گوٹھ نور محمد“ سے میں سندھ کے شاداب میدانوں میں داخل ہو تا ہوں۔ یہ تو تم جانتے ہو کہ گوٹھ نور محمد تمھارے دوست ”وڈیرہ نور محمد“ کا گاؤں ہے۔ اسی کے نام پر۔“ ایک بڑی مسکراہٹ میرے چہرے پر پھیل گئی ہے۔ 
 ہم شیر شاہ سوری کی تعمیر کردہ جرنیلی سڑک پر چلے جا رہے ہیں۔(شیر شاہ بھی مافوق الفطرت انسان تھا۔ جتنا بہادر اتنا ہی اعلیٰ منتظم۔تقریباً ساڑھے چار سالہ دور حکومت میں اس نے لازوال کام کئے۔ سرائے بنوائیں، کنویں کھدوائے، ڈاک کا بہترین نظام قائم کیا، زمین کا بندوبست متعارف کروایا، جرنیلی سڑک تعمیر کی، قلعے بنوائے، شاندار حکومتی نظم و نسق قائم کیا۔) ایک ہمارے حکمران ہیں دہائیاں حکومت میں رہنے کے باوجود عوام کو تسلیاں ہی دیتے رہتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں عوام کو فائدہ ہونے والا ہے۔ افسوس وہ خوشحالی کے سال کبھی نہیں آئے۔ سبزہ زاروں، پہاڑوں، سپاٹ کھیتوں میں دوڑتی جرنیلی سڑک اب پانچ سو(500) برس سے زیادہ پرانی ہو چکی ہے۔
پنجاب کے قدین ترین باشندوں کے حوالے سے انگریز مورخ”ای مار سڈن“ اپنی کتاب ”تاریخ ہند“ میں لکھتے ہیں؛
”4ہزار سال پہلے پنجاب وادی سندھ کا حصہ تھا۔ ”کول“ اور ”دراوڑ“ یہاں کی قدیم ترین قومیں تھیں جنہیں ”آرین“ نے شکست دی اور انہیں ہند میں اوپر کی جانب دھکیل دیا۔دراوڑ کھیتی باڑی کرتے اور ریوڑ پالتے تھے۔ اپنے دیوتاؤں سے ڈرتے اور انہیں خوش کرنے کے لئے انسانی جان کی قربانی کرتے تھے۔ سندھو کو بھی دیوتا جانتے اور اسے بھی راضی رکھنے کیلئے انسانوں کی بلی چڑھاتے تھے۔ آرین4 ہزار برس پہلے ہندوستان آئے، پنجاب اور وادی سندھ کے علاقوں میں آباد ہوئے۔ ان کا رنگ گورے اور وہ دراز قد تھے۔ سوت کا کپڑا پہنتے، گیہوں کی فصل تیار کرتے، گائے، بھینس، بکری پالتے، گھوڑے سدھاتے اور تانبے پیتل کے اوزار تیار کرتے تھے۔ قدیم ہند کے آرین آج کل کے ہندؤں سے بالکل مختلف تھے۔ان میں ذات پات کی تقسیم نہ تھی۔ ان کی عورتیں اپنی مرضی سے اپنے لئے خاوند کا انتخاب کرتی تھیں۔ بیواؤں کی بھی شادی ہوتی تھی۔ غذا میں غلہ اور گوشت شامل تھا۔ یہ ”سوم رس“ پیتے تھے جن سے آنکھوں میں نور سا اتر آتا تھا۔ دنیا کی قدیم ترین کتابوں میں سے ایک ”ریگ وید“ جو انہی کی کتاب تھی یہیں لکھی گئی اس کے معنی ٰ ہیں ”اشستی“ یا ”حمد و ثناء“۔ اس میں ”اگنی، اندر“ اور دوسرے آرین دیو تاؤں کی تعریف میں ۸۲۰۱ (1028) منتر ہیں۔ ان منتروں میں سندھو کا کئی بار ذکر ہے جبکہ گنگا دریاکا  صرف دو بار۔ رگ وید میں پنجاب کا خطہ ”سپت سند ھو ”یعنی سات دریاؤں کی سرزمین“ بتایا گیا ہے۔“ہڑپہ سپتا سندھو کا اہم ترین شہر تھا۔ آریائی اور ویدک تہذیبیں بھی اسی خطے اور سندھو کے گردہی پروان چڑھیں۔پنجاب قدیم دور میں گندھارا، مقدونیہ، موریا، کشان،گپتا، ہندو شاہی اور مغل سلطنتوں کا حصہ اور اہم مرکز تھا۔ معا شیات کا دارومدار زراعت پر تھا اور پنجاب کے میدان خاص طورپرلاہور اور ملتان کے علاقے زرعی اعتبار سے اہم تھے۔پنجاب میں اسلام محمد بن قاسم کی آمدکے ساتھ آیا۔جب اس نے 712؁ء میں ملتان فتح کیا۔ محمود غزنوی کے دور میں لاہور پنجاب کا پایہ تخت قرار دیا گیا تو اس کی اہمیت بڑھ گئی۔ اس سے پہلے تک یہی حیثیت ملتان کو حاصل تھی۔“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -