مغرب میں اُردو زبان کا بڑھتا ہوا رجحان (2)

مغرب میں اُردو زبان کا بڑھتا ہوا رجحان (2)
مغرب میں اُردو زبان کا بڑھتا ہوا رجحان (2)
کیپشن: abdul hakeem ghori

  

دنیا بھر میں بولی جانے والی چھ ہزار آٹھ سو زبانوں میں سے 400 تقریباً خاتمے کے قریب ہیں، ان زبانوں کے بولنے والے بوڑھے اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہے ہیں۔ کیمرون میں بولی جانے والی بوسو (Busuu) زبان ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ میکسیکو میں بولی جانے والی چیانیکو نامی زبان بولنے والوں کی تعداد انتہائی کم، یعنی ایک سو ہے۔ امریکہ میں بولی جانے والی زبان ”داد جی گو“ صرف ایک شخص بولتا ہے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا زبانیں بہت جلد دنیا میں مفقود ہو جائیں گی۔ ماہرین لسانیات کے مطابق تقریباً تین ہزار زبانیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔ ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ موجودہ صدی کے اختتام پر دنیا میں صرف چند زبانیں رہ جائیں گی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ سو برسوں کے دوران دنیا کی 90فیصد زبانیں ختم ہو جائیں گی اور مزید سو برسوں کے اندر صرف200زبانیں رہ جائیں گی۔ ماہر لسانیات کا خیال ہے کہ کسی علاقے کے رہنے والوں کی اکثریت اگر ایک جیسی زبان بولتی ہے، تو وہاں امن امان کی صورت حال بہتر رہتی ہے، جبکہ ایک علاقے میں ایک سے زیادہ زبانوں کی موجودگی بولنے والوں کے درمیان جھگڑے فساد کا سبب بنتی ہے۔

معتدل موسم والے علاقوں میں زبانوں کی تعداد گرم موسم والے علاقوں کی نسبت کم ہے۔ یورپ میں صرف200زبانیں بولی جاتی ہیں۔ امریکہ میں ایک ہزار، افریقہ میں2ہزار400جبکہ ایشیا اور پیسفک (PACIFEC) میں سب سے زیادہ تین ہزار 200 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ چینی زبان بولی جاتی ہے، جس کے بولنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہے، دوسرے نمبر پر انگریزی اور تیسرے نمبر پر ہسپانوی، چوتھے نمبرپر اردو زبان بولی جاتی ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے انگریزی زبان تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ماہرین لسانیات کے مطابق جیسے جیسے بڑی زبانیں دنیا بھر میں فروغ پا رہی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی زبانیں اسی تیزی کے ساتھ اختتام پذیر ہو رہی ہیں، چھوٹے پیمانے پر بولی جانے والی زبانوں کو دقیانوسی اور مشکل سمجھا جانے لگا ہے، جبکہ یہ زبانیں نئی نسل کو بھی نہیں سکھائی جا رہی ہیں، صرف چند بوڑھے افراد ہی انہیں بولتے ہیں اور ان کے مرنے کے ساتھ ہی یہ زبانیں بھی ختم ہو جائیں گی۔

 یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ زبانیں اپنے بولنے والوں کے رہن سہن کی عکاس ہوتی ہیں۔ لوگوں کے طرز زندگی بدلنے کے ساتھ ساتھ ان کی زبان بھی بدل جاتی ہے۔ لسانیات کے بعض ماہرین زبانوں کے تیزی کے ساتھ خاتمے کو غیر فطری تصور کرتے ہیں اور اسے جدیدیت کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جب جانوروں اور پودوں کی نسلوں کو خاتمے سے بچانے کے لئے دنیا بھر میں ہنگامہ کیا جاتا ہے، تو پھر زبانوں کے بچاﺅ کے لئے اقدامات کیوں نہیں کئے جاتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن ملکوں کی زبانیں ختم ہو رہی ہیں، وہاں پرندوں کی نسلیں بھی خطرات سے دوچار ہیں۔ یونیسکو کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زبانوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ثقافت، تاریخ اور ماحولیات کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے، ہر زبان دنیا کے مختلف خطوں میں رہنے والے مختلف افراد کے تجربات کے اظہار کا ذریعہ ہوتی ہے۔ زبان کے خاتمے کے بارے میں انسانی شہادتیں ناپید ہو جاتی ہیں، جس سے ایلوسسٹم کی درستگی میں مدد ملنا دشوار ہو جاتا ہے۔ بھارت کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے طلائی تمغہ اور مغربی بنگال کی اردو اکیڈمی کے انعام یافتہ ڈاکٹر ایم جے وارثی مختلف زبانوں، ثقافتوں اور شناخت کے مشترکہ حوالوں کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں کئی کتابیں تحریر کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کئی کتابیں دنیا کی کئی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ مغرب کے لوگوں میں اور ہم میں بہت ثقافتی فرق ہے، اس فرق کو کم کرنے کے لئے دونوں کو ایک دوسرے کی زبان آنا چاہئے۔ یقین جانیے کہ صرف بات چیت کرنے سے ہی آدھے شکوک وشبہات دور ہو جاتے ہیں، پھر ثقافتی شوز اور مشاعرے وغیرہ90فیصد بدگمانیاں دور کر دیتے ہیں۔ بات درست ہے، لیکن اس میل جول اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے صرف ہمیں انگریزی آنا کافی نہیں، انہیں بھی اردو آنا چاہئے، ہماری مذہبی کتابیں اور ادب یقینا دنیا بھر میں ہمارے سفیر بن سکتے ہیں۔ اگر مغرب میں اردو جانی پہچانی زبان بن جائے۔ بیرون ملک ہمارے سفارت خانے صرف یہی ایک کام کر لیں، تو سمجھ لیں کہ انہوں نے اپنا کام کر دیا ہے۔ اسے سارے ملک کی یونیورسٹیوں میں اردو زبان کے پروگراموں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اردو سے اس درجہ حرارت محبت اور ترویج پر اردو زبان کے دعویداروں پر اب لازم ہے کہ برصغیر کے اس لائق سپوت کو خراج تحسین پیش کیا جائے۔ ڈاکٹر وارثی صاحب کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج مغرب میں بھی اردو زبان کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ پاکستان میں اردو کو نظر انداز کرنے کے روپے پر شجاع آباد کے صحافی اور شاعر سلیم اختر قریشی کا کہنا تھا کہ انگریزوں کی غلامی نے ہمیں، جو احساس کم تری بخشا ہے اس کے تحت ہم خود کو انگریزی کے برابر ثابت کرنے کے لئے انگریزی بولتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس رویے سے اردو کو کچھ نقصان نہیں پہنچے گا۔ اپنی زبان اپنی جڑوں سے کٹنے والوں کے قدم کبھی زمین پر نہیں جمتے، اپنی شناخت پر شرمندہ ہونے والوں کو کبھی دنیا میں کوئی شناخت، کوئی عزت نہیں ملتی۔ وقتی فوائد تو شاید انہیں حاصل ہو جائیں، لیکن پائیدار بنیادوں پر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ مقامی زبانوں کو کس طرح بچایا جائے؟ اس سوال پر سلیم اختر قریشی کا کہنا تھا کہ لوگوں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ تیزی سے ختم ہونے والی زبانوں کو بچانے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ ان زبانوں کو بولنے والے ایک سے زیادہ زبانیں بولنا شروع کر دیں، وہ اپنے دفتر میں مروجہ زبان استعمال کریں، جبکہ اپنے گھروں میں بچوں کے ساتھ اپنی مقامی زبانیں بولیں، بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت بڑوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔اگر ابتدا ہی میں انہیں مقامی زبان سکھا دی جائے تو وہ ساری عمر نہیں بھولتے اور حکومتی سطح پر زبانوں کو تحریری شکل میں محفوظ کر لیا جائے اور زبان بولنے والوں کی بات چیت اور گرائمر کو ریکارڈ کر لیا جائے۔ ٭

مزید :

کالم -