حکومت طالبان مذاکرات میں پیشرفت

حکومت طالبان مذاکرات میں پیشرفت

وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان کی سربراہی میں مذاکراتی کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں حکومت نے طالبان کے مطالبات کا جائزہ لینے کے لئے تین روز کی مہلت مانگ لی ہے۔ حکومت دوتین روز بعد ان کے سلسلے میں جواب دے گی۔ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ حکومت کا واضح موقف سامنے آنے کے بعد طالبان سے دوبارہ ملاقات کے لئے وقت اور جگہ کا تعین کیا جائے گا۔ مطالبات میں کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہم پیشرفت سے مطمئن ہیں۔طالبان کی طرف سے جنگ بندی ختم نہیں ہو گی۔ ادھر وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ طالبان سے آئین اور قانون سے باہر کوئی بات نہیں ہو گی۔ حکومت ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ اور مکمل امن چاہتی ہے تاکہ تمام لوگ سکون سے زندگی گزاریں۔ مذاکراتی عمل میں پیشرفت خوش آئند ہے۔ وزیر داخلہ نے مذاکرات کے سلسلے میں وزیراعظم سے ملاقات کی اور انہیں اعتماد میں لیا۔ وزیراعظم نے مذاکرات میں پیشرفت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں اتفاق کیا اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیالات کیا۔

 معاملات طے پا جانے کے سلسلے میں فریقین کی طرف سے اچھی توقعات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مذاکرات مخالف لوگوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا جا رہا تھا کہ طالبان مذاکرات کے ذریعے وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ اپنی قوت کو مجتمع کر کے ایک بار پھر اپنی کارروائیاں شروع کر سکیں۔ کچھ لوگوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا تھا کہ حکومت کو یہ معلوم ہی نہیں ہو سکے گا کہ طالبان کے کن گروہوں کا کنڑول کن لوگوں کے پاس ہے۔ تمام طالبان مذاکرات کے سلسلے میں ایک نہیں ہو سکیں گے، اس لئے مذاکرات کے لئے حکومتی کوششیں لاحاصل ثابت ہوں گی، لیکن اب تک کے مذاکرات سے واضح ہو رہا ہے کہ بڑی حد تک سارے گروہ مذاکرات کی میز پر ایک ہو کر آ چکے ہیں۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے بہت سے لوگ مذاکرات کے دوران ہونے والی جنگ بندی سے فائدہ اٹھا کر افغانستان کی طرف گئے ہیں، اس طرح جن لوگوں کو جنگ اور دہشت گردی کے بغیر چین نہیں آ سکتا تھا وہ پاکستان کے لئے مسئلہ بننے کے بجائے ملک چھوڑ چکے ہیں۔ امید کرنی چاہئے کہ فریقین مذاکرات کے اس عمل کے روشن نتائج تک پہنچ کر دنیا کے سامنے مسلمانوں کی بصیرت اور تدبر کی ایک اچھی مثال پیش کریں گے۔ ٭

مزید : اداریہ


loading...