بھارتی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات ،حکومتی خزانے سے 35ارب سیاسی پارٹیوں کے 3کھرب 5ارب روپے خرچ ہونگے

بھارتی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات ،حکومتی خزانے سے 35ارب سیاسی پارٹیوں کے ...

                                                     لاہور(محمد بشےراحمد سے) بھارت میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے الیکشن 7 اپریل سے 12 مئی 2014ءتک ہونگے۔یہ بھارتی تاریخ کے طویل ترین یعنی 9 مراحل پر مشتمل الیکشن ہونگے جن میں لوک سبھا کی 543 نشستوں کیلئے ووٹنگ ہو گی۔ ان انتخابات کے نتائج کا اعلان 16 مئی کو کیا جائیگاجبکہ 15 ویں موجودہ لوک سبھا کی آئینی مدت 31 مئی 2014 ءکو ختم ہو جائیگی۔ بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں 10 کروڑ نئے ووٹرز کو شامل کیا گیا ہے جو تمام کے تمام وہ نوجوان ہیں جو پچھلے پانچ سالوں کے دوران ووٹ ڈالنے کے اہل ہوئے ہیں ۔بھارتی الیکشن کمیشن کے اندازوں کے مطابق انتخابی اخراجات کی مد میں 35 ارب روپے خرچ ہوں گے جبکہ توقع ہے کہ سیاسی پارٹیاں اور انتخابی امیدوار 3کھرب 5 ارب روپے الیکشن مہم پر خرچ کرینگے۔ اس حساب سے یہ بھارتی انتخابات دنیا کے مہنگے ترین انتخابات ہونگے جن میں گزشتہ انتخابات میں خرچ ہونیوالی رقم سے 3 گنا زائد رقم خرچ ہو گی جبکہ یہ دنیا کے دوسرے مہنگے ترین الیکشن ہونگے۔ 2012ءمیں ہونیوالے امریکی انتخابات میں 7 ارب ڈالر اخراجات آئے تھے۔ ان انتخابات میں بھی اصلی حریف انڈین نیشنل کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی ہیں۔ موجودہ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ آئندہ وزارت عظمیٰ کا الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اسی طرح کانگریس کے انتخابی مہم کی قیادت راجیو گاندھی کے بیٹے اور اندرا گاندھی کے پوتے راہول گاندھی کر رہے ہیں ،ادھر بی جے پی نے گجرات میں ہونیوالے مسلم کش فسادات میں مسلمانوں کے قتل عام سے شہرت پانیوالے نریندر مودی کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کر رکھا ہے،بھارت کی ریاستی حکومتوں پر نظر دورائی جائے تو اس وقت 28 ریاستوں اور 2 وفاق کے زیر انتظام علاقوں پانڈے چری اور دہلی میں سے 11 ریاستوں میں انڈین نیشنل کانگریس کی حکومت ہے اور یہاں کانگریس سے تعلق رکھنے والے وزراءاعلیٰ برسراقتدار ہیں۔ ان ریاستوں میں آسام، ہریانہ، ہماچل پردیش، کرناٹکہ، کیرالا، مہاراشٹر، منی پور، مٹیگھالے، میزورام اور اتلا کھنڈ شامل ہیںجبکہ بھارت کی 5 ریاستوں چھتیس گڑھ، گووا، گجرات، مدھیا پردیش اور راجستھان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی صوبائی حکومتیں ہیں۔ بھارت کے سب کے بڑے صوبے اتر پردیش جس میں لوک سبھا کی سب سے زیاہ سیٹیں ہیں وہاں سماج وادی پارٹی کی حکومت ہے، بھارت کی موجودہ یعنی 15 ویں لوک سبھا پر نظر ڈالی جائے تو اس میں انڈین نیشنل کانگریس کی 200، بھارتی جنتا پارٹی کی 112، بھوجن سماج پارٹی کی 21، سماج وادی پارٹی کی 21، جنتا دل کی 19، آل انڈیا ترنمول کانگریس کی 18، ڈی ایم کے کی 18، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی 16، بھجوجنتا دل کی 14، شیو سیناکی 10، آل انڈیا انا ڈی ایم کے کی 9، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی 8، آزاد امیدواروں کی تعداد10، تلکو دیشم پارٹی کی 6، راشٹریہ لوک دل کی5، سی پی آئی کی 4، شرمنی اکالی دل کی 4، جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کی 3، راشٹریہ جنتا دل کی 3، آل انڈیا فارورڈ بلاک کی 2، انڈین یونین مسلم لیگ کی 2، جھار کھنڈمکتی مورچہ کی 2، جھار کھنڈ بکھاس مورچہ2، ریوولوشنری سوشلسٹ پارٹی (آر ایس پی) کی 2 نشستیں ہیں۔بھارتی انتخابات میں جو ریاستیں اہم کردار ادا کرتی ہیں ان میں آندھرا پردیش، بہار، گجرات، کرناٹکہ، مدھیاپردیش، مہارا شٹر، تامل ناڈو، اتر پردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں۔چونکہ لوک سبھا کی سب سے زیادہ نشستیں اتر پردیش میں ہیں جن کی تعداد 86 ہے جبکہ اندھرا پردیش میں 25، بہار میں 55 مدھیہ پردیش میں 29، مہاراشٹرمیں 45، مغربی بنگال میں 34لوک سبھا کی سیٹیں ہیں۔ بی جے پی کے انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندرا مودی کا تعلق گجرات سے ہے اور اس وقت وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ گجرات میں لوک سبھا کی 22 سیٹیں ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار اور کانگریس کی انتخابی مہم کے سربراہ راہول گاندھی امیٹھی سے الیکشن لڑ رہے ہیں جو ان کی آبائی سیٹ ہے جس پر اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی الیکشن لڑتے رہے ہیں۔اتر پردیش میں واقع یہ حلقہ اس بار بھی خصوصی توجہ کا مرکز ہو گاکیونکہ بی جے پی راہول گاندھی کے مقابلے میں سمریتی ایرانی کو ان کے مقابلے میں اتار رہے ہیں،وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی نائب صدر بھی ہیں۔سمریتی سابقہ ماڈل، معروف ٹیلی ویژن اداکارہ اور پروڈیوسرہیںجو ایک این جی او چلا رہی ہیںجو غریب لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کرتی ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...