لاہور پولیس جعلی مقابلوں میں بندے مارنے والے ملازمین کو تحفظ فراہم کر نے لگی

لاہور پولیس جعلی مقابلوں میں بندے مارنے والے ملازمین کو تحفظ فراہم کر نے لگی ...

                  لاہور (شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل ) لاہور پولیس جعلی اور جھوٹے مقابلوں میں بندے مارنے والے ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے لگی۔10برسوں کے دوران مقابلوں میں ملوث ایک بھی اہلکار کو قید کی سزا نہ ہوسکی۔جبکہ پولیس کے بدنام زمانہ ملازمین مقابلوں کی لت کو پورا کرنے کے لیے تعزیرات پاکستان کی دفعات 34،96، 97، 100،324اور 353کے علاوہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7کا سہارا لینے لگے ہیں۔ معلوم ہواہے کہ لاہور پولیس کی جعلی پولیس مقابلوںکی ناقص حکمت عملی کے باعث شہر میں جعلی پولیس مقابلوں کا رجحان بڑھے گا۔مقامی پولیس ، جعلی مقابلوں کے حوالے سے واضح حکمت عملی ترتیب نہیں دے سکی۔ جس کے باعث آئے روز شہر میں پولیس مقابلوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اور کم و بیش ہر مقابلے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کے باعث میڈیا شور مچاتا نظر آتا ہے۔ لیکن پولیس حکام ، ان خبروں کی بجائے ، مقابلے کرنے والے ملازمین کی رپٹس اور رپورٹس کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق 2013میں صرف لاہور میں 40سے زائد پولیس مقابلوں میں 50سے زائد افراد کو ماورائے عدالت ہلاک کیاگیا۔ جبکہ رواں سال کے دوران اب تک9سے زائد پولیس مقابلوں میں14سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔لیکن کسی ایک بھی پولیس مقابلے کو حقیقی مقابلے کی سند جاری ہونے کے باوجود پولیس حکام ، ان مقابلوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کو تیا ر نہیں ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ10 برسوں کے دوران ایک بھی پولیس اہلکار کو قید کی سزا نہیں ہوسکی۔حالانکہ پاکستانی آئین ، اور پاکستان میں رائج تعزیرات فوجداری قوانین تعزیرات پاکستان،انسداد دہشت گردی ایکٹ اور دیگر کوئی بھی قانون ملک میں جعلی پولیس مقابلوںکی اجازت نہیں دیتا دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جعلی مقابلوں میں بے گنا ہ اور معمولی جرائم میں ملوث شہریوں کو ہلاک کرنے والے یہ پولیس ملازم،تعزیرات پاکستان کی دفعات 34،96، 97، 100،324اور 353کے علاوہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کی دفعہ 7کا سہارا لیتے ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34ایک سے زائد جرائم پیشہ افراداور حملہ آوروں کے خلاف کاروائی کو بیا ن کرتی ہے۔ دفعہ 96ذاتی دفاع اور حفاظت خود اختیاری کا ذکر کرتی ہے۔دفعہ 97بھی حفاظت خود اختیاری کے حوالے سے انسانی دفاع کو بیان کرتی ہے۔ دفعہ 100جرائم پیشہ شخص کے حملے کی صورت اس قتل کرنے کی اجازت دیتی ہے جعلی مقابلوں کے شوقین پولیس ملازمین ان دفعات کا سہارا لیکر ملزمان کو ہلاک کردیتے ہیں ۔اور موقف اختیار کرتے ہیں کہ ملزم یا ملزمان نے پولیس پر حملہ کردیا تھا۔جس پر پولیس کو مجبورا حفاظت خود اختیاری کے تحت ملزم یا ملزمان کو ہلاک کرنا پڑا۔اسی طرح اگر کسی جگہ ملز م کسی پولیس ملازم کو زخمی کردے یا پولیس ملازم ازخود اپنے آپ کو زخمی کرنے کے بعد دفعہ 324کے تحت بھی پولیس مقابلوں سے نہیں کتراتے اور دفعہ 353کے تحت کسی سرکاری ملازم پر حملہ ظاہر کرکے بھی ملزمان کو جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا جاتا ہے۔ اور جعلی پولیس مقابلوں میں ملزمان کو ہلا ک کرنے کے بعد ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کی دفعہ 7کا اضافہ بھی کرنے سے نہیں چوکتے جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ملزمان نے پولیس سے مقابلہ کرکے علاقے میں دہشت بھی پھیلائی۔

مزید : علاقائی


loading...