مالک کارخانہ کے ہاتھوں ہلاک ہونیوالے مزدور کا مقدمہ درج نہ ہو سکا

مالک کارخانہ کے ہاتھوں ہلاک ہونیوالے مزدور کا مقدمہ درج نہ ہو سکا

لاہور ( کرائم سیل) بادامی باغ کے علاقہ میں کارخانہ کے مالک طاہر اسلام نے مزدور غلام رسول کو آٹھ روز قبل آئینی راڈ سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور ادھ مواحالت میں ہسپتال پھینک کر فرار ہوگیا۔ مقتول زندگی کی بھیک مانگتا رہا۔ لیکن سنگدل مالک کو ذرا بھر بھی ترس نہ آیا۔ مقتول کا بھائی اور کم سن بچے تھانہ بادامی باغ مقدمے کے اندراج کے لئے چکر لگاتے رہے لیکن پولیس نے ایک نہ سنی داتا نگر بادامی باغ کے علاقہ چاہ موتیاں چوک میں طاہر اسلام فراد کا کارخانہ بنا رکھا ہے جبکہ اس کے علاوہ شاد باغ میں بھی کارخانہ قائم کررکھا ہے مقتول غلام رسول سائیوال کا رہائشی اور طاہر اسلام کے پاس چار سال سے مزدوری کرتا تھا۔ اور طاہر اسلام کے کارخانے میں سوجاتا تھا۔ اور طاہر اسلام سے 5ہزار روپے ایڈوانس سے رکھا تھا۔ مقتول پندرہ روز قبل اپنے بچوں کو ملنے کے لئے آبائی گاﺅں گیا۔ اور آٹھ روز قبل وہان سے دو دن کی تاخیر سے واپس آیا کہ طاہر اسلام کارخانے میں آیا۔ اور آتے ہی آئینی راڈ سے تشدد کرنا شروع کردیا جس پر غلام رسول کے سر میں آئینی راڈ کا وار ہونے پر خون میں لت پت ہوگیا۔ اور بے حوش ہونے پر طاہر اسلام اسے پہلے میو ہسپتال لے گیا۔ اور وہاں سے پولیس کیس سے بچنے کے لئے جناح ہسپتال میں داخل کروادیا۔ اور مزدور غلام رسول کے کے گھر فون کرکے اطلاع دی کہ وہ گر کر زخمی ہوا ہے اصل حقائق سامنے کرنے پر غلام رسول کا بھائی تھانے گیا۔ تو پولیس نے میڈیکل رپورٹ لینے کی بجائے ٹرخا دیا۔ اس دوران غلام رسول کی حالت بگڑ گئی اور ہسپتال میں ہلاک ہوگیا۔ مقتول کے بھائی منیر احمد اور ساتھی مزدور اقبال احمد ، اکبر علی، اللہ رکھا، اور حاجی غلام حسین نے پاکستان کو بتایا کو پولیس ہر وقت مقدمہ درج کرلیتی ہے۔ تو ملزم گرفتار ہوجانا تھا جبکہ تفتیش افسر سب انسپکٹر محمد سرور کے مطابق مزدو غلام رسول بھائی کی مالک کے ساتھ بات چیت چل رہی تھی۔ جس کے باعث مقتول کے بھائی نے کارروائی نہیں کروائی۔

مزید : علاقائی


loading...