قیام امن کیلئے حکومت کے اقدامات قابل ستائش ہیں، مذاکرات روزانہ کی بنیاد پر کئے جائیں، سیاسی و عسکری رہنما

قیام امن کیلئے حکومت کے اقدامات قابل ستائش ہیں، مذاکرات روزانہ کی بنیاد پر ...

لاہور(جاوید اقبال228حنیف خان)ملک کی مختلف مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں ،عسکری و خارجہ امور کے ماہرین نے کہا ہے کہ قیام امن کے لئے حکومت کے اقدامات قابل ستائش ہیں مگر مذاکرات کے دوران سپیڈ انتہائی سلو ہے مذاکرات روزانہ کی بنیاد پر کئے جائیں دونوں کمیٹیوں کو روزانہ کی بنیاد پر مثبت انداز میں بات چیت کو آگے بڑھانا ہوگا۔نتیجہ کچھ بھی نکلے حتمی نتیجہ پر پہنچا جائے ۔اس حوالے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قانون کو سخت بنائیں گے قیام امن کے لئے حکومت کی کوششوں کے ساتھ پوری قوم یک زبان ہوجائے۔وزیر اعظم پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مذاکرات کرنے والی کمیٹی کے اراکین کو بااختیار بنایا گیا ہے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ براہ راست مذاکرات کی نگرانی کررہے ہیں ۔آج اور کل امن وامان کے حوالے سے پاکستان کو درپیش حالات کا جائزہ لیں تو آج حالات کل سے بہتر نظر آئیں گے مذاکرات مسلسل کوشش اور بات چیت کا نام ہے جو ہم جاری رکھیں گے سالہا سال کے مسائل راتوں راتحل نہیں کیے جاسکتے۔قیام امن کے لئے مذاکرات میں آخری حد تک جائیں گے ۔مسلم لیگ ق کے سیکرٹری اطلا عات اور سینیٹر کامل علی آغانے کہا کہ مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں بڑھنے کی بھی ضرورت ہے مگر بات چیت روزانہ کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور کسی نتیجے پر پہنچنا چاہیے۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل امن سے وابستہ ہے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ مستقل امن بات چیت کے ذر یعے قائم ہوسکتاہے حکومت کی کوششوں پر شک نہیں ہے پوری قوم کو دہشت گردی کے خلاف ایک ہونا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ہر کارروائی کا الزام طالبان پر لگانے سے قبل تحقیقات ہونی چاہیے سرحد پار کارروائیوں کو بھی واچ کرنا ہوگا اور ان کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کرنے ہونگے۔ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین نے کہا کہ طالبان اور حکومت میں مذاکرات جاری رہنے چاہیے مگر سپیڈ اپ ہونے چاہئیں قیام امن کے لئے حکومت کی کوششوں کو اچھی نظر سے دیکھتے ہیں وزیر اعظم کی نیت پر شک نہیں ہے سابق آرمی چیف جنرل ضیاء الدین بٹ نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کی جانے والی کوششیں لائق تحسین ہیں مگر میں پھر کہوں گا ۔دو طرح کی حکمت عملی اختیار کی جائے انٹیلی جنس آپریشن مذاکرات کے ساتھ ساتھ جاری رکھا جائے ۔افغانستان کی طرف سے حالات خراب کرنے والی قوتوں پر نظر رکھی جائے ۔اسی طرح کوشش جاری رہے تومستقبل میں حالات بہتر ہوجائیں گے۔سابق وزیر خارجہ گوہر ایوب نے کہا کہ حکوم نے قیام امن کے لئے مذاکرات کی صورت میں جو حکمت عملی اختیار کی ہے وہ لائق تحسین ہے اس کی حمایت کرتے ہیں آج امن قائم نہ ہوا تو کبھی نہیں ہوگا ۔ہم وزیر اعظم کی حکمت عملی کو سلام کرتے ہیں ۔اے این پی کے رہنما حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہونے چاہیے ہم وزیر اعظم کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں مگر ٹائم فریم ضرور ہوناچاہیے۔اور وہ گروپ اور وہ طاقتیں جو مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں ان پر نظر رکھی جائے ۔ایم کیوایم کے رہنما ء و رکن قو می اسمبلی فاروق ستار نے کہا کہ مذاکراتی عمل میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا مذاکرات میں سیاسی رہنماؤں کو بھی شامل کرنا چاہیے تھا بس ہم دعا ہی کرسکتے ہیں ملک میں امن قائم ہونا چاہیے ۔ امن چاہے جیسے بھی آئے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...