آپریشنل ایس پیز کی دفاتر سے غیر حاضری پولیس ایکٹ 2002 ءعملاً نا کارہ ہوگئے

آپریشنل ایس پیز کی دفاتر سے غیر حاضری پولیس ایکٹ 2002 ءعملاً نا کارہ ہوگئے ...

                                      لاہور(لیاقت کھرل) صوبائی دار الحکومت میں تعینات آپریشنل ایس پی حضرات کی دفاتر سے مسلسل غیر حاضری کے باعث پولیس ایکٹ 2002ءعملاً ناکارہ ہو کر رہ گیا ہے، ہزاروں سائلین تھانوں اور ایس پیز کے دفاتر کے درمیان فٹ بال بن کر رہ گئے ہیں، تھانے کا عملہ اپنی جان چھڑانے کے لئے شہریوں کو ایس پی کے دفاتر جانے کا مشورہ دیتا ہے جہاں سے ایس پی حضرات کاریڈر اور سٹاف افسر سائلین کو دھکیل کر واپس ایس ایچ او یا ڈی ایس پی کے دفتر بھجوادیتا ہے اس کی وجہ سے سینکڑوں سائلین کی درخواستیں آپریشنل ایس پیز دفاتر میں فائلوں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ ”پاکستان“ نے لاہور پولیس کے آپریشن ونگ کے ایس پیز کے دفاتر میں سائلین کی شکایات کا جائزہ لینے کے لئے ایک سروے کیا تو سب سے زیادہ ایس پی ماڈل ٹاﺅن اور ایس پی سٹی ڈویژن کے دفتر میں آنے والے سائلین کی شکایات زیادہ تھیں جبکہ دفاتر سے مسلسل غیر حاضری کے حوالے سے ایس پی سول لائن اور ایس پی سٹی اور ایس پی کینٹ کے خلاف سائلین کی زیادہ شکایات تھیں۔ دوسرے نمبر پر ایس پی کینٹ اور ایس پی صدر ڈویژن اور تیسرے نمبر پر ایس پی اقبال ٹاﺅن اور ایس پی سول لائن ڈویژن کے دفاتر میں آنے والے سائلین نے شکایات سنائیں، اس موقع پر سائلین کی زیادہ تر تعداد نے اپنی شکایات میں بتایا کہ تھانوں کی پولیس کے پاس چکر لگانے کے بعد اب ایس پی حضرات کے پاس چکر لگارہے ہیں، ریڈر اور سٹاف افسر نے ایس پی سے ملاقات کروانے کے لئے الگ الگ ریٹ مقرر کررکھے ہیں ۔اس موقع پر ایس پی ماڈل ٹاﺅن ڈویژن کے دفتر میں تھانہ کاہنہ، تھانہ کوٹ لکھپت اور تھانہ نشتر کالونی کے سائلین کی تعداد زیادہ تھی۔ تھانہ نشتر کالونی اور تھانہکوٹ لکھپت سے آنے والے سائلین محمد اعظم ، حاجی عبدالغفور، شیخ نصرت علی، حاجی اکرم اور اسلم طور نے مقدمات درج نہ ہونے کی شکایات کیں، جبکہ ایس پی سٹی کے دفتر میں تھانہ شاہدرہ ، راوی روڈ اور تھانہ شفیق آباد سمیت اسلام پورہ پولیس کے ستائے ہوئے سائلین نے مقدمات اندراج نہ ہونے کی شکایات سنائیں اور سائلین کا کہنا تھا کہ اب ایس پی سٹی کے دفتر میں شکایت لے کر آنے پر ایس پی سے ملاقات کے لئے ریڈر اور سٹاف افسر ٹرخا رہا ہے۔ اسی طرح ایس پی کینٹ اور ایس پی سول لائن کے دفاتر بھی خالی پڑے تھے اور ریڈرز اور سٹاف افسران آنے والے سائلین کی درخواستیں سن رہے تھے۔ اس موقع پر ریڈرز اور سٹاف افسران یہ کہہ کر مطمئن کر رہے تھے کہ ایس پی صاحب لا اینڈ آرڈر کی ڈیوٹی پر ہیںجبکہ ایس پی صدر اور ایس پی اقبال ٹاﺅن کے دفتر میں آنے والے سائلین بھی ایس پی حضرات کے دفاتر میں نہ ملنے پر سراپا احتجاج بنے ہوئے پائے گئے۔ اس میں سائلین نے ایس پی حضرات کے فاتر میں نہ ملنے پر وزیر اعلیٰ سے مداخلت کی اپیل کی ہے اور سائلین کا کہنا تھا کہ پہلے تھانوں کے چکر لگاتے رہے ہیں اور اب ایس پیز بھی دفاتر میں نہیں ملتے، تو کہاں جائیں۔ جبکہ اس حوالے سے ڈی آئی جی آپریشن کے ترجمان سید حماد رضا نے بتایا کہ صبح کے اوقات میں تمام ایس پیز دفاتر میں موجود ہوتے ہیں، تاہم عدالتوں یا لا اینڈ آرڈ کے باعث ایس پی حضرات کو دفاتر سے باہ جانا پڑتا ہے۔ اس میں سی سی پی او اور ڈی آئی جی کی اسائنمنٹ بھی دیکھنا پڑتی ہیں۔ بعض اوقات اہم واقعہ ہونے پر موقعہ پر بھی جانا پڑتا ہے ، تاہم زیادہ تر تمام ایس پیز دفاتر میں موجود ہوتے ہیں ایسی کوئی شکایت نہ ہے۔

مزید : علاقائی


loading...