نریندر مودی کا چائے والے سے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار تک کا سفر

نریندر مودی کا چائے والے سے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار تک کا سفر
نریندر مودی کا چائے والے سے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار تک کا سفر

  


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)کئی ممالک میں تو یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتاکہ کہ ایک غریب شخص یا عام مزدور وزیراعلیٰ یا وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر پہنچ سکتا ہے یا اس منصب کی خواہش کرسکتا ہے، مگر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا یہ اعزاز ہے کہ وہاں کئی ریاستوں کے وزیراعلیٰ عام شخص تھے۔ وزیراعظم من موہن سنگھ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور اب ایک ” چائے والا  بیرا“ بھارت کی وزارتِ عظمیٰ کا مضبوط ترین امیدوار ہے۔ نریندر مودی 17 ستمبر 1950ء کو گجرات کے ضلع مہسنہ میں پیدا ہوئے۔ چار بچوں میں تیسرا نمبر تھا۔ والد کا ریلوے اسٹیشن ورناگر پر جائے کا چھوٹا سا سٹال تھا۔ کم عمر مودی کیتلی میں چائے لے کر ٹرین میں آواز لگاکر چائے بیچتا۔ چھوٹا سا گھر تھا، جہاں سورج کی روشنی بھی کم ہی آتی تھی۔ روشنی کے لئے گھر میں ایک کیروسین لیمپ تھا۔ چائے والا یہ لڑکا والد کے ساتھ مزدوری کرتا مگر سکول میں پڑھتا بھی تھا۔ اوسط درجے کا طالب علم تھا، مگر سکول ہی کے زمانے سے زبردست مقرر تھا۔ دھواں دھار اور جذبات کو گرم کردینے والی تقریر کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا تھا۔ لڑکپن میں شادی ہوگئی، مگر آر ایس ایس کا پرچارک بننے کے لئے اس کو پوشیدہ رکھا۔ 1967ء میں خاندان سے علیحدگی اختیار کرلی۔ 71ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد باقاعدہ راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) میں شمولیت اختیار کرلی اور دہلی میں اس کے دفتر میں کام کرنا شروع کردیا۔ صبح چار بجے اٹھ کر دفتر کی صفائی کرنا اس لڑکے کی ڈیوٹی تھی، صفائی کے بعد آر ایس ایس کے سینئر رہنماؤں کے لئے ناشتہ تیار کرنا، برتن دھونا، پوری عمارت کی صفائی اور فرش دھونا بھی اس کی ذمے داریوں میں شامل تھا۔ اپنے کپڑے اور سینئر عہدے داروں کے کپڑے بھی یہ لڑکا دھوتا۔ لیکن تعلیم سے تعلق ختم نہیں کیا تھا۔ آر ایس ایس کو ملنے والے خطوط کے جوابات بھی لکھتا۔ اندرا کی ایمرجنسی کے بعد گجرات واپس جاکر روپوش ہوگیا اور حکومت کے خلاف خفیہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ دہلی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں گریجوایشن اور گجرات یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ 1987-88ء میں اپنی شبانہ وروز محنت اور کام کے باعث سینئر رہنماؤں کی توجہ حاصل کرلی اور بی جے پی گجرات یونٹ کے آرگنائزنگ سیکرٹری بن گئے اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 2001ء میں کشوبھائی پٹیل کی کرپشن اور ضمنی الیکشن میں شکست کے بعد واجپائی کی حمایت سے وزیراعلیٰ گجرات بن گئے اور 2002ء کے انتخابات میں بی جے پی کو شاندار کامیابی دلوائی۔ تب سے اب تک گجرات کے حاکم ہیں اور اب وزیراعظم کی دوڑ میں شروع ہیں۔ نظریات سے قطع نظر ان کی محنت وجدوجہد ہر غریب آدمی کے لئے مثال ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...