اپریل فول، کسی جھوٹی بات کے سچا ہونے کی یقین دہانی کروانے کا دن

اپریل فول، کسی جھوٹی بات کے سچا ہونے کی یقین دہانی کروانے کا دن
اپریل فول، کسی جھوٹی بات کے سچا ہونے کی یقین دہانی کروانے کا دن

  

لاہور (خصوصی رپورٹ)آپ نے شائد لوگوں کویکم اپریل کے دن بے وقوف بنایا ہو لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس دن کی تاریخ کیا ہے؟رومیوں کا جھوٹ اور بیہودگی کا یہ تہوار ہلیریا (Hilaria) کہلاتا تھا جس کے معنی ہیں ترنگ میں آنا یہ تہوار 25 مارچ سے یکم اپریل تک منایا جاتا تھا، یہ جھوٹ رفتہ رفتہ اپریل فول کا لازمی جزو بن گیا اس دن جھوٹے لوگ مذاق کا سہارالے کر لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں اور بے بنیاد پیغامات کے ذریعے لوگوں کو پریشان کرکے خوش ہوتے ہیں۔اگرچہ اپریل فول ایک فضول رسم کا نام ہے جس کی بنیاد جھوٹ، مذاق اور دھوکہ دہی پر ہے مگر اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہاں ہم اس کے مفہوم پس منظر اور ارتقائی عناصر کا ذکر کریں گے۔

اپریل لاطینی زبان کا لفظ ہے جو اپریلس (Apprills)یا اپرائر (Apprire)سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے پھولوں کا کھلنا۔ قدیم رومن قوم جن کی تاریخ 27قبل مسیح سے بھی پرانی ہے، موسم بہار کی آمد پر شراب کے دیوتا کی پرستش کرتی اور اسے خوش کرنے کے لیے شراب پی کر اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتی تھی۔ رومیوں کا جھوٹ اور بیہودگی کا یہ تہوار ہلیریا (Hilaria)کہلاتا تھا جس کے معنی ہیں ترنگ میں آنا یہ تہوار 25مارچ سے یکم اپریل تک منایا جاتا تھا۔ یہ جھوٹ رفتہ رفتہ اپریل فول کا لازمی جزو بن گیا اس دن جھوٹے لوگ مذاق کا سہارا لے کر لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں اور بے بنیاد پیغامات کے ذریعے لوگوں کو پریشان کرکے خوش ہوتے ہیں۔ یہودیوں کا تہوار پیورم بھی اسی طرح ہے جبکہ ہندوؤں کے کیلنڈر کے مطابق ہولی کا تہوار اس سے بہت مماثلت رکھتا ہے جس میں ہندو لوگ بھنگ پی کرنا معقول حرکات کرتے، غل غپاڑہ کرتے، نازیبا مذاق کرتے اور ایک دوسرے پر رنگدار پانی پھینکتے ہیں۔ اپریل فول کو آل فولزڈے یعنی تمام بے وقوفوں کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ اس روز کسی جھوٹی بات کے سچا ہونے کی یقین دہانی کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔

1983ء میں بوسٹن یونیورسٹی امریکہ کے تاریخ کے پروفیسر جوزف بوسکن کا اپریل فول کے پس منظر کے حوالے سے اخبارات میں ایک آرٹیکل شائع ہوا جس کے مطابق سلطنت روم کے 57ویں بادشاہ کنسٹنٹائن سے (جس کا دور حکومت 25جولائی 306عیسوی تا 29اکتوبر 312عیسوی ہے) مسخروں کے ایک گروپ نے کہا کہ وہ سلطنت کے نظام کو زیادہ بہتر طریقے سے چلا سکتے ہیں۔ چنانچہ کنسٹنٹائن نے ایک مسخرے کوگل (Kugel)کو ایک دن کے لیے بادشاہ بنا دیا۔ کوگل نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت یکم اپریل کو فضول، نامعقول، بعیدازقیاس اور مضحکہ خیز باتوں کے لیے ایک سالانہ موقع قرار دیا گیا۔اٹلی، فرانس، بلجیم اور کینیڈا میں بچے اور جوان بن بتائے ایک دوسرے کی پشت پر کاغذ کی مچھلیاں چپکا دیتے ہیں اور اپریل فش ( اپریل کی مچھلی) کے آوازے کستے ہیں۔

1508ء میں ایک فرانسیسی شاعر ایلائے ڈی ایمروال (Eloy d"Amerval")نے بھی اسے اپریل فش سے موسوم کیا۔سکاٹ لینڈ میں یہ دن (Hunt the Gowk day)ہنٹ دی گاؤک ڈے کہلاتا ہے گاؤک Gowkکے معنی بے وقوف کے ہیں لہٰذا ان کے نزدیک یہ بے وقوفوں کو شکار کرنے کا دن ہے جس میں جھوٹ موٹ کسی کو مدد کے لیے پکارا جاتا ہے۔ایران میں فارسی سال نو روز کی تیرہ تاریخ کو مذاق کیا جاتا تھا جس کی عیسوی تاریخ یکم یا 2اپریل بنتی ہے وہاں یہ رسم 536قبل مسیح سے چلی آرہی ہے جسے سیزدہ بیدار کہتے ہیں۔ سیزدہ کے معنی تیرہ اور بیدار کے معنی جاگتے ہوئے ہوشیار کے ہیں۔یکم اپریل 1539ء کو شمالی بلجیم کے فلیمش شاعر ایڈورڈ ڈی ڈین نے ایک نیک آدمی کو بے وقوف بنانے کے لیے ایک بے بنیاد پیغام بھیجا جس نے اس کی مدد کے لیے اپنے نوکر بھیج دئیے فلیمش رواج کے مطابق بچے اپنے والدین اور اساتذہ کو بند کردیتے ہیں حتی کہ وہ ان سے اسی شام یا اگلے روز کچھ تواضع کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔انگلینڈ میں اپریل فول کے مذاق کا شکار ہونے والے شخص پر اپریل فول کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ چاسرز کینٹر بری ٹیلز 1392 canterburytales Chaucer's (جسے Nun's priest taleیعنی نن اور پادری کی کہانی بھی کہتے ہیں) میں انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ دوم کی منگنی کا ذکر ہے کہ یہ 32مارچ 1381ء کو این آف بوہیمیا سے ہوئی تھی۔

جدیدمصنفین کا خیال ہے کہ یہ مسودے کی غلطی تھی لہٰذا 32مارچ کا مطلب یکم اپریل ہے جو کہ بادشاہ کی منگنی کی سالگرہ ہے۔1686ء میں جان آبرے نے اسے فولز ہالی ڈے قرار دیا جبکہ بروز بدھ یکم اپریل 1857ء کو لاتعداد لوگوں کو جھوٹ بول کر ٹاور آف لنڈن بجھوادیا گیا تاکہ وہ وہاں شیروں کو نہاتے ہوئے دیکھیں۔ اس جھوٹ کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے سالانہ تقریب کے نام سے ٹکٹ بھی فروخت کیے گئے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اپریل فول کی بنیاد نئے کیلنڈر کو رائج کرنے پر ہے۔ جب پوپ گریگوری ہشتم نے یکم جنوری کو نیا سال قرار دیا جبکہ 1752ء سے پہلے نیا سال یکم اپریل سے شروع ہوتا تھا۔فرانس کے کچھ علاقوں میں نئے سال کا ہفتہ 25مارچ سے منایا جاتا تھا جو یکم اپریل پر ختم ہوتا تھا۔ بعض مصنفین کا خیال ہے کہ جو لوگ یکم جنوری کو نیا سال مناتے تھے انہوں نے دوسری تاریخوں کو نیا سال منانے والوں کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ اس کا باقاعدہ آغاز 1564ء میں ای ڈکٹ آف روزی لان Edict of Russilonنے کیا۔ڈنمارک میں یکم اپریل کے علاوہ یکم مئی بھی مذاق کا دن ہے جسے Maj-kat (My cat) یعنی میری بلی کہتے ہیں۔

پولینڈ میں یکم اپریل منانے اور بے بنیاد مضحکہ خیز باتیں تیار کرنے کے لیے میڈیا کو بھی استعمال کیا جاتا ہے تاکہ جھوٹ کو موثر طریقے سے سچ بنا کر پیش کیا جا سکے۔ وہاں اس روز سنجیدہ مصروفیات کو قطعی طور پر ترک کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ Anti Trukish ALiance with leopoldیہ ترکی سے متعلق دستاویز تھی اس پر یکم اپریل 1683ء کو دستخط کیے گئے مگر اس پر تاریخ 31مارچ تحریر کی گئی۔اٹھارہویں صدی عیسوی میں Feast of Annunciationحضرت عیسٰی علیہ السلام کی خوشخبری کی دعوت کے طور پر 25مارچ کو منایا جاتا تھا اس کی فرانس میں ایک ہفتے کی چھٹی ہوتی تھی جس کا اختتام یکم اپریل کو ہوتا تھا۔سپین میں Medivalبمعنی بے وقوفوں کی ضیافت کے نام سے 28دسمبر کو ایک دن منایا جاتا تھا جس میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔

سپین میں آج کل بھی یکم اپریل کو Dia d'enganyarیعنی بے وقوف بنانے کے دن کے نام سے منایا جاتا ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سپین کا جزیرہ منور کا اٹھارہویں صدی عیسوی میں یکم اپریل کو برطانیہ کے قبضے میں آیا تھا۔ دنیائے عیسائیت میں یہ دن منانے کی ایک وجہ مسلمانوں کی تاریخی مظلومیت کا دن بھی ہے کہ مسلمان جو طارق بن زیاد کی سرکردگی میں 711ء میں اپنی کشتیاں جلا کر یہاں آئے تھے اور عیسائیوں کو شکست دے کر اپنی حکومت قائم کی تھی وہ اسلامی خلافت کے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوجانے کی وجہ سے 1492ء میں اپنا تسلط کھوکر محکوم ہوگئے تھے اور سپین دوبارہ عیسائیوں کے زیر تسلط آگیا اور مسلمانوں سے جبری عیسائیت قبول کروانے کے لیے ان کا اس قدر خون بہایا گیا کہ سپین کی گلیوں میں ہر طرف مسلمانوں کا خون ہی خون نظر آتا تھا۔ جب قابض افواج نے دیکھا کہ اب سپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا تو انہوں نے گرفتار فرمانروا کو موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ مراکش چلا جائے جہاں سے اس کے آباؤ اجداد آئے تھے۔ قابض فوج غرناطہ سے تقریباً بیس کلو میٹر دور ایک پہاڑ پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئی اس کے بعد حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان زندہ نظر آئے تو اسے قتل کردیا جائے جو مسلمان بچ گئے تھے وہ دوسرے علاقوں میں چلے گئے اور وہاں جاکر اپنے گلوں میں صلیبیں لٹکالیں اور عیسائی نام رکھ لیے مگر عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اس کے پیش نظر انہوں نے ایک ترکیب سوچ کر پورے ملک میں اعلان کروا دیا کہ تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ وہ جن ممالک میں جانا چاہیں انہیں وہاں بھیج دیا جائے چنانچہ الحمراء کی بندرگاہ کے نزدیک میدان میں خیمے نصب کردئیے گئے جہاں تمام مسلمانوں کو اکٹھا کرکے ان کی خاطر مدارت کی گئی چنانچہ یکم اپریل 1502ء کو تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا۔ جب جہاز سمندر کے وسط میں پہنچا تو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا جس سے جہاز میں سوار تمام مسلمان جاں بحق ہوگئے۔ اس واقعہ کے بعد سپین میں جشن منایا گیاکہ ہم نے دشمنوں کو کیسے بے وقوف بنایا۔ پھر یہ دن سپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ کی فتح کا دن بن گیا۔ آج بھی عیسائی دنیا اسے First April Foolیعنی یکم اپریل کے بے وقوف کے نام سے مناتی ہے اس دن لوگوں کو جھوٹ بول کر بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ لوگوں کو ازراہ مذاق کسی حادثے کی خبر سے پریشان کرکے خوشی محسوس کی جاتی ہے۔ ان لوگوں کو شاید یہ معلوم نہیں کہ دنیا کے کسی بھی مذہب میں سفاکیت اور جھوٹ کی اجازت نہیں ذیل میں بائیبل اور قرآن سے حوالہ جات دئیے جاتے ہیں۔

بائیبل: قتل نہ کرو، بے وقوف نہ کہو اور جو کوئی خون کرے گا وہ عدالت کی سزا کے لائق ہوگا لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنے بھائی پر غصے ہوگا وہ صدر عدالت کی سزا کے لائق ہوگا اور جو کوئی اس کو احمق کہے گا وہ آتش جہنم کا سزاوار ہوگا۔ (انجیل متی باب 5آیت 22)

قرآن حکیم: دانستہ قتل۔ اور جو شخص مسلمان کو قصداً قتل کرے گا اس کی سزا دوزخ ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ (النساء 93:4جزو) 

اے ایمان والو تمہیں مقتولوں کے بارے میں قصاص (خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے۔ (البقرہ 178:2جزو)

جھوٹا انسان منافق اور عذاب کا مستحق ہے۔ اور ان (منافقوں) کے جھوٹ بولنے کے باعث ان کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرہ 10:2جزو)

مذاق نہ اڑاؤ۔ ”اے ایمان والو کوئی قوم کسی کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ ان (مذاق اڑانے والوں) سے بہتر ہوں، نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ وہ عورتیں (مذاق اڑانے والی عورتوں) سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ نہ کسی کو برے لقب دو ایمان لانے کے بعد فسق بہت ہی برا نام ہے جس نے توبہ نہ کی وہی لوگ ظالم ہیں“ (الحجرات 11:49)

مزید :

خصوصی رپورٹ -