ڈالر او ر یورو کا ’دشمن‘۔۔۔بٹ کوئن

ڈالر او ر یورو کا ’دشمن‘۔۔۔بٹ کوئن
ڈالر او ر یورو کا ’دشمن‘۔۔۔بٹ کوئن

  


لاہور (خصوصی رپورٹ)یہ 20 فروری 2014ء کی بات ہے، لیہہ میگراہ گڈ مین لاس اینجلس کے محلے، ٹیمپل سٹی پہنچی۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور وہ بہت پرتجسس نظر آتی تھی۔ لیہہ ممتاز انگریزی رسالے، نیوز ویک کی رپورٹر تھی لیکن گزشتہ دو ماہ میں سے وہ سراغ رساں بنی ہوئی تھی۔لیہہ کی چھان بین کا مرکز ایک جاپانی نژاد امریکی تھا۔ اسے شک تھا کہ وہ ادھیر عمر شخص دنیا کی پہلی مشہور ڈیجیٹل کرنسی ” بٹ کوائن“ (Bitcoin) کا خالق ہے۔ آج اس نے آدمی سے ملنے کا فیصلہ کرلیا تاکہ اپنا شک دور کرسکے۔اس نے دروازے پر نصب گھنٹی بجائی، تو ایک ادھیڑ عمر جاپانی نے کھڑی کی پردہ سرکایا، باہر جھانکا اور پھر غاب ہوگیا۔ لیہہ پانچ منٹ وہاں کھڑی رہی مگر آدمی نے دروازہ نہ کھولا۔ اس نے کچھ سوچ کر جاپانی کے نام یہ نوٹ لکھا: ”میں آپ سے بٹ کوائن کے متعلق گفتگو کرنا چاہتی ہوں، مجھے اور کوئی کام نہیں“۔ لییہ نے یہ نوٹ اور اپنا بزنس کارڈ دروازے کی گرل میں اڑ سے اور کھانا کھانے قریبی ریستوران چلی گئی۔جب ڈھائی بجے وہ واپس آئی تو دیکھ کر حیران رہ گئی کہ وہی جاپانی دو سپاہیوں کے ساتھ دروازے پر کھڑا ہے۔ اسے دیکھتے ہی جاپانی نے سپاہیوں کی توجہ لییہ پہ مبذول کرائی۔ تب ایک سپاہی اس سے مخاطب ہوا ”مادام! آپ انہیں کیوں تنگ کررہی ہیں؟ انہیں شکایت ہے کہ آپ ان کو کسی مصیبت میں گرفتار کرادیں گی“۔دال میں کچھ کالا: لیہہ اب تک یہی سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے۔ لیکن جب اس شخص نے پولیس بلوالی، تو اسے یقین ہوگیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اس نے سپاہی کو بتایا: ”بھئی، میری وجہ سے یہ کیوں کسی مصیبت میں مبتلا ہونے لگے؟ میں تو ان سے صرف بٹ کوائن کے متعلق پوچھنا چاہتی ہوں …… یہ ستوشی ناکاموتو ہیں“۔یہ سن کر سپاہی حیرت زدہ ہوگیا۔ وہ نہ صرف بٹ کوائن کے متعلق جانتا تھا بلکہ اس نے ڈیجیٹل کرنسی پر دو مضامین بھی لکھ ڈالے تھے۔ وہ حیرانی سے بولا ”کیا؟ انہوں نے بٹ کوائن تخلیق کی ہے؟ مگر یہ تو معمولی سے گھر میں رہائش پذیر ہیں“۔سپاہی کی حیرت بجا تھی کیونکہ عام خیال ہے کہ ہٹ کوائن کا خالق کروڑوں ڈالر مالیت کی ڈیجیٹل کرنسی اپنی ملکیت میں رکھتا ہے جبکہ وہ عام سے گھر میں رہ رہا تھا جس کی مالیت چند لاکھ ڈالر تھی۔جاپانی اس گفتگو سے کچھ گڑ بڑا گیا۔ کہنے لگا ”ارے بھئی اب میرا اس معاملے سے متعلق کوئی تعلق نہیں اور میں اس کے متعلق کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ اب دوسرے لوگ اس کے انچارج ہیں“۔یوں جاپانی نے ایک طرح سے اقرار کرلیا کہ وہی بٹ کوائن کا خالق ہے۔ چونکہ وہ بات کرنے کے لئے تیار نہ تھا، سو لیہہ کو بے نیل مرام واپس آنا پڑا۔ بہر حال اس نے اپنی تفتیشی رپورٹ مکمل کرلی، جو مارچ کے پہلے ہفتے نیوز ویک میں شائع ہوگئی۔رپورٹ شائع ہوتے ہی دنیا بھر کے سائنسی، مالیاتی اور عوامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ وجہ یہ کہ 2009ء میں سامنے آنے والی حیران کن ڈیجیٹل کرنسی کے خالف کی اصلیت اب تک پردہ اخفا میں تھی اور لاکھوں لوگ جاننا چاہتے تھے کہ وہ کون ذہین وفطین شخصیت ہے جس نے بٹ کوائن جیسی انقلابی کرنسی تخلیق کی۔ سو رپورٹ کے مندرجات عالمی اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کئے اور لیہہ راتوں رات ایک مشہور ہستی بن گئی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ چھپتے ہی ٹیمپل سٹی کے رہائشی، ڈورین سنتوشی ناکاموتو (Dorian Satoshi Nakamoto) نے دعویٰ کر ڈالا کہ اس کا ہٹ کوائن سے کوئی تعلق نہیں۔ سو معاملہ مزید پراسرار ہوگیا جس نے اسے مزید شہرت بخشی۔ لیہہ نے دعویٰ کیا کہ اس کی رپورٹ درست ہے اور اسے ادارے (نیوز ویک) کی بھی پشت پناہی حاصل تھی۔نئی کرنسی کا جنم:یہ 1 نومبر 2008ء کا واقعہ ہے جب ستوشی ناکاموتو نے رمز نویسی (Cryptography) کے لئے مختص ویب سائٹ ”کرپٹو گرافی میلنگ لسٹ“ پر اپنا مقالہ ”Bitcoin: A Peer-to-peer Electronic Cash System“ شائع کیا۔ اس میں ایک نئی ڈیجیٹل کرنسی، بٹ کوائن تخلیق کرنے کا خامہ موجود تھا۔ ویب سائٹ پر آنے والوں میں سے کوئی بھی سنتوشی کو نہیں جانتا تھا۔ اس کی مستور شخصیات کے باوجود رمز نویسی سے دلچسپی رکھنے والے سبھی مرد و زن میں یہ مقالہ بہ سرعت مقبول ہوا۔ وجہ یہ کہ اس میں وہ معمہ حل کردیا گیا جو کئی برس سے ماہرین رمزنویسی کو دق کئے ہوئے تھا۔جب انٹرنیٹ نے جنم لیا تو سرکاری پابندیوں اور بینکوں کی اجارہ داری سے عاجز آئے ماہرین ساچنے لگے کہ ایسی ڈیجیٹل کرنسی ایجاد ہونی چاہیے جو بہ سہولت استعمال ہوسکے اور وہ حکومتوں و بینکاروں کی گرفت سے آزاد ہو۔ اسی نظریے پر عمل کرتے ہوئے 1990ء میں امریکی رمز نویس، ڈیوڈ چاؤم نے ”ای کیس“ نامی ڈیجیٹل کرنسی شروع کی مگر وہ ناکامی رہی۔ وجہ یہ کہ اسے اپنی ترقی کے لئے روایتی بینکوں پہ ہی انحصار کرنا پڑا۔ ڈیجیٹل کرنسی کی تخلیق میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا: ایسا کون سا طریق کار ہو کہ ایک ڈیجیٹل نوٹ کی کسی صورت نقل تیار نہ ہوسکے۔ بیشتر ماہرین کے نزدیک قابل عمل طریقہ یہ تھا کہ ایک ویب سائٹ پر مرکزی لیجر یا کھانا کھول لیا جائے جو ڈیجیٹر کرنسی کے ہر لین دین کا حساب رکھے۔ یوں کسی ڈیجیٹل نوٹ کا ناجائز استعمال نہ ہو پاتا۔ یہ لیجر دھوکے بازی تو روک دیتا، مگر ڈیجیٹل کرنسی کو ایک ویب سائٹ کی حدود میں مقید کرڈالتا۔ جبکہ رمز نویس اسے انٹرنیٹ کے مانند آزاد وخودمختار دیکھنا چاہتے تھے۔سنتوشی ناکاموتے نے یہ انقلابی نظریہ پیش کیا کہ کھاتا عوامی سطح پر کھولا جائے گا۔ یعنی کوئی ویب سائٹ یا تیسری پارٹی اس کی رکھوالی ونگرانی نہ کرے بلکہ نیٹ پر آنے والا ہر مرد وزن اسے دیکھ سکے۔ اس لیجر کو سنتوشی نے ”بلاک چین“ (Blockchain) کا نام دیا۔ نظریے کے مطابق بٹ کوائن کا کوئی بھی یہ ستار اپنے طاقتور کمپیوٹر کی مدد سے یہ ڈیجیٹل کرنسی تخلیق کرسکتا ہے۔ ہر نئے بٹ کوائن کا لین دین بلاک چین لیجر پہ آجاتا۔ اگر ہٹ کوائن کے لاکھوں حصے کا بھی لین دین ہوتا، تو وہ بھی دم چین پہ رقم رم ہوتا۔

لین دین کی تصدیق: نئے بٹ کوائن تخلیق کرنے کا عمل خاصا دلچسپ ہے۔ جب بلاک چین پہ بٹ کوائن کے لین دین کی ریسدوں کا نجم متعدد ھد تک پہنچ جائے، تو ایک بلاک جنم لیتا ہے۔ (اس بلاگ میں زیادہ سے زیادہ تین ہزار رسیدیں جمع ہوسکتی ہیں۔)اس بلاگ پہ ایک تالا لگا ہوتا ہے یہ اسی وقت کھلتا ہے جب رسیدون کی تصدیق ہوجائے گی کہ وہ واقعی اصلی ہیں۔ یہ تصدیق بلاک چین سے منسلک کرنسی استعمال کرنے والوں کے کمپیوٹر کرتے ہیں جس شخص کا کمپیوٹر سب سے پہلے یہ تصدیق کر ڈالے، اسے محنت کے معاوضہ کی شکل میں 25 نئے بٹ کوائن ملتے ہیں۔جو شخص بٹ کوائن تخلیق کرنا چاہے، وہ پہلے بٹ کوائن فاؤنڈیشن سے متعلقہ سافٹ ویئر لے کر اپنے کمپیوٹر میں انسٹال کرتا ہے۔ یہ سافٹ ویئر بلاک چین کی پوری ویب سائٹ کمپیوٹر میں انسٹال کرتا ہے۔ لیجئے اب کمپیوٹر نئے بٹ کوائن بنانے کی خاطر تیار ہوچکا۔ مگر یہ ضروری ہے کہ اسے ہر وقت…… مسلسل چوبیس گھنٹے چلایا جائے۔ وجہ یہ کہ تبھی وہ بلاک چین پہ ہوئے سارے لین دین کی تصدیق کرکے نئے سکے ڈھاتا ہے۔کرنسی بنانے کا کاروبار: شروع میں بلاک چین پر ہٹ کوائن کا لین دین بہت کم تھا۔ اسی لئے چند رسیدوں پہ مشتمل بلاک ہی وجود میں آتا۔ اس چھوٹے بلاک کا تالا عام گھریلو کمپیوٹر بھی کھول لیتا۔ مگر اب روزانہ ہزاروں رسیدیں جنم لیتی ہییں۔ سو جن لوگوں کے پاس انتہائی طاقتور کمپیوٹر ہیں، وہ پہلے رسیدوں کی تصدیق کرکے نئے بٹ کوائن پالیتے ہیں۔امریکہ و یورپ میں تو نئے بٹ کوائن بنانا اب بڑا اور منافع بکش کاروبار بن چکا۔ مثلاً امریکی شہر سیتل کے رہائشی، ڈیوکارلسن نے کروڑوں روپے خرچ کرکے دو گوداموں میں ”پانچ سو کمپیوٹر“ لگائے۔ ان کمپیوٹروں کی مجموعی قوت ایک سیکنڈ میں ”ایک ہزار کھرب“ پیمائشیں یا حساب کتاب کرسکتی ہے۔ سو اس کے کمپیوٹر دوسروں سے پہلے رسیدوں کی تصدیق کرکے دھڑا دھڑ ہٹ کوائن بنارہے ہین۔ کارلسن ماہانہ 12,500 بٹ کوائن بنا کر 80 لاکھ ڈالر (80کروڑ روپے) کما رہا ہے۔مگر موصوف کے کمپیوٹر بجلی بھی خوب کھاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق وہ سالانہ 1.4 میگا واٹ بجلی کھا جاتے ہیں۔ اس بجلی کی مقدار کا اندازہ یوں لگائیے کہ وہ ”15 ہزار“ گھر رکھنے والے ایک بڑے قصبے کی سالانہ ضروریات کے لئے کافی ہے۔جیسا کہ بتایا گیا، شروع میں رسیدوں کی تصدیق کرنا آسان تھا اور معاؤضہ بھی اچھا خاصا ملتا یعنی 50 سکے۔ یہ ہٹ کوائن پھر زیر گردش کرنسی میں شامل ہوجاتے۔ مگر اب معاوضہ 25 سکے مل رہا ہے جو ہر چار سال بعد آدھا ہوتا جائے گا۔اسی طرح ہزار ہا رسیدوں کی تصدیق کرنا بھی کٹھن مرحلہ بن چکا۔ اب لوگ کئی کمپیوٹروں کی طاقت سے بہ سرعت تصدیقی مرحلے میں درپیش پیچیدہ ریاضیاتی فارمولے حل کرتے اور نئے بٹ کوائن بطور معاؤضہ پاتے ہیں۔ چونکہ بٹ کوائن بنانا فائدے مند بن چکا، سو سپر کمپیوٹر رکھنے والے بعض نجی ادارے بھی سکے ڈھالنے کی دوڑ میں شریک ہوچکے۔مقبولیت کی وجہ: 2008ء میں جب سنتوشی ناکاموتو کا نظریہ سامنے آیا، تو حکومتیں اور بینک مالی و معاشی مسائل میں مبتلا تھے۔ خصوصاً امریکی و یورپی حکومتیں دھڑا دھڑ نوٹ چھاپ رہی تھیں تاکہ بحران میں پھنسے مالیاتی اداروں کو سہارا دے سکیں۔ اس دوران کئی بینک دیوالیہ ہوئے، تو ہزار ہا لوگ اپنی کچھ جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یوں بینکوں پر سے عوام کا اعتماد جاتا رہا۔دوسری طرف بٹ کوائن کا نااہل سیاست دانوں اور لالچی بینک کاروں سے کوئی تعلق نہ تھا جن کے باعث عالمی معاشی بحران نے نجم لیا۔ پھر بلاک چین کی بدولت نہ صرف فراڈ سے بچاؤ ملتا بلکہ افراط زر بھی نجم نہیں لیتا۔ کیونکہ یہ ڈیجیٹل کرنسی معین وقت ہی میں جنم لیتی ہے اور اس کی تعداد بھی مقرر ہے۔ اسی باعث بٹ کوائن دنیا بھر میں مقبول ہوتی گئی تاہم ترقی کی رفتار سست رہی۔3جنوری 2009ء کو سنتوشی ہی نے اولیں 50 بٹ کوائن تخلقی کئے جنہیں ”تکوینی بلاک“ (genesis block) کا نام ملا۔ اگلے ایک سال تک ڈیجیٹل کرنسی سے شغف رکنے والے ہی بٹ کوائن کے مزید بلاک تخلیق کرتے رہے۔ پھر رفتہ رفتہ اس کی شہرت پھلنے لگی۔ چوٹی کے ماہرین رمز نویسی نے اسے ”انقلابی ایجاد“…… ”دنیا والوں کے لئے بہت مفید“…… اور ”بہت اہم“ قرار دیا۔ساڑھے چھ کروڑ روپے کا پیزا: کئی ماہر بٹ کوائن کے اسی لئے عاشق بنے کے یہ سرکاری نجی جکڑ بندیوں اور آمریت سے آزاد تھی۔ ان میں امریکی کمپیوٹر سائنس دان، گیون ایڈرسن بھی شامل تھا جو آج بٹ کوائن فاؤنڈیشن سے بہ حیثیت چیف سائنٹسٹ منسلک ہے۔ یہی فاؤنڈیشن بٹ کوائن ڈھالنے والے سافٹ ویئر کی دیکھ بھال کرتی اور اسے بہتر وقوی بناتی ہے۔ دسمبر 2009ء میں گوین نے ” بٹ کوائن فوسٹ“ (Bitcoin Facucet) نامی ویب سائٹ بنائی اور لوگوں میں یہ ڈیجیٹل کرنسی مفت بانٹنے لگامئی 2010ء میں بٹ کوائن سے دنیا کا پہلا باقاعدہ لین دین انجام پایا۔ تب امریکی ریاست فلوریڈا کے رہائشی ایک پروگرامر، لاسز لوہینکز (Laszio Hanyecz) نے 10 ہزار بٹ کوائن سے دو پیزے خریدے جن کی مالیت 25 ڈالر تھی۔ (گویا آج کے ھساب سے لاسز لوکو یہ پیزے پاکستانی کرنسی میں ساڑھے چھ کروڑ روپے میں پڑے۔)30مارچ 2010ء کو بٹ کوائن فورم نامی ویب سائٹ پر ایک یوزر، سموک ٹومچ نے 10 ہزار بٹ کوائن برائے نیلامی رکھے۔ اس نے ابتدائی بولی صرف 50 ڈالر سے شروع کی لیکن اسے سکے کریدنے والا کوئی شخص نہیں مل سکا۔ بعض لوگ صرف بیس پچیس ڈالر دینے کو تیار تھے۔ انقلابات ہیں زمانے کے کہ دسمبر 2013ء میں انہی دس ہزار بٹ کوائن کی مالیت پاکستانی کرنسی کے ھساب سے ایک ارب پچاس کروڑ روپے تک جاپہنچی۔گویا صرف چار برس قبل جس کرنسی کو لوگ کوڑیوں کے مول ہی لینا چاہتے تھے، وہ اب سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہوگئی۔ ایسے میں جن لوگوں نے اپنے بٹ کوائن سنبھال کررکھے، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے حساب سے ارب وکروڑ پتی بن گئے۔مٹی سے سونا بننے تک: بٹ کوائن کی مقبولیت میں باقاعدہ اضافہ اس سمے ہوا جب دکان دار وتاجر اسے بہ حیثیت کرنسی قبول کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فروری 2011ء میں ایک بٹ کوائن کی مالیت ایک امریکی ڈالر کے برابر پہنچ گئی۔ پھر اس ابھرتی ڈیجیٹل کرنسی نے مڑکر نہ دیکھا اور چھلانگیں مارتی ترقی کرنے لگی۔ اواخر2013ء تک اس کی قدروقیمت اتنی بڑھ گئی کہ یہ ممکن ہوگیا کہ صرف ایک بٹ کوائن (برابر 1151ڈالر) سے 25گرام سانا خریدنا جاسکے۔ گویا بٹ کوائن جو صرف چار برس پہلے مٹی تھی، اب سونے سے بھی زیادہ بیش قیمت شے بن گئی۔ایک طرف نئی ڈیجیٹل کرنسی عالمی مارکیٹوں میں پھل پھول رہی تھی، تو دوسری سمت کمپیوٹر ماہرین اس مخمصے کا نشانہ بن گئے کہ آکر یہ سنتوشی ناکاموتو کون ذات شریف ہے؟ خود سنتوشی کا دعویٰ تھا کہ وہ جاپان کا رہنے والا ہے۔ تاہم اس کی بہترین انگریزی آشکارا کرتی کہ وہ برطانیہ امریکہ یا آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہے۔سنتوشی کا اسرار: ایک ماہر رمز نویسی نے تلاش بشیار کے بعد جانا کہ جاپانی زبان میں سنتوشی کے معنی ہیں ”دانشمند“۔ پھر اس نے یہ خیالی گھوڑا دوڑایا کہ شاید یہ نام مشرقی ایشیا کی چار ٹیک کمپنیوں سامس سنگ، توشیبام، ناکامچی اور موٹورولا کا مخفف ہے اور انہی کمپنیوں کے ماہرین مغربی کرنسیوں کی اجارہ داری ختم کرنے کے واسطے بٹ کوائن معرض وجود میں لائے۔بعض ماہرین کا دعویٰ ہے کہ سنتوشی فرد واحد نہیں بلکہ ایک پورے گروہ کا خفیہ نام ہے۔ اس گروہ میں سینکڑوں کمپیوٹر سائنس دان شامل ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ گوگل، کسی اور ملٹی نیشنل کمپنی یا خفیہ ایجنسی مثلاً این اے ایس (امریکہ) سے متعلق ہوں۔ بٹ کوائن کی تشکیل میں اہم حصہ لینے والا امریکی ڈویلپر، لاسز لوہینکز بتاتا ہے:”سنتوشی سے صرف ای میل کے ذریعے ہی رابطہ کرنا ممکن تھا۔ وہ فون پہ کسی سے بات نہ کرتا۔ تھریری گفتگو بھی صرف بٹ کوائن سے تعلق رکھتی۔ اسے ناپسند تھا کہ کوئی نجی نوعیت کے سوال کرے۔ میں بھی بذریعہ ای میل اس سے تبادلہ خیال کرتا رہا اور مجھے ہمیشہ احساس ہوا کہ وہ کوئی ایک آدمی نہیں۔ دراصل بٹ کوائن کا سارا منصوبہ اتنا پیچیدہ ہے کہ اسے کوئی ایک انسان ہرگز تخلیق نہیں کرسکتا“۔دسمبر 2010ء میں عاشقان بٹ کوائن نے چاہا کہ مشہور زمانہ ویب سائٹ، وکی لیکس سے کہا جائے کہ وہ ڈیجیٹکل کرنسی میں عطیات قبول کرنے لگے۔ مدعا بٹ کوائن کو عالمی سطح پہ متعارف کرانا تھا۔ مگر سنتوشی اس تجویز کا کٹر مخالف بن کر سامنے آیا۔ اس نے بٹ کوائن فورم میں لکھا:”ابھی وکی لیکس سے رابطہ نہ کیا جائے۔ ہمارا پروجیکٹ ناپختہ اور ترقی پذیر ہے۔ وہ مزید نشوونما چاہتا ہے تاکہ اس کا سافٹ ویئر توانا ہوسکے۔ اگر ابھی کسی بڑی تنظیم نے اسے اپنالیا، تو ڈر ہے کہ ہماری نوخیز کرنسی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گی“۔اس گفتگو کے آٹھ دن بعد 12 دسمبر کو سنتوشی کرپٹو گرافی کی سوشل سائٹ سے غائب ہوگیا۔ یوں وہ جس پراسرار انداز میں آیا تھا، اسی طرح چپ چاپ رخصت ہوا۔ تاہم وہ گیون اینڈ سن کے ساتھ بذریعہ ای میل پیغام رسانی کرتا اور اسے سافٹ ویئر بہتر بنانے کے مشورے دیتا رہا۔ حتیٰ کہ اینڈرسن ہی بٹ کوائن سافٹ ویئر کے سلسلے میں ظاہری اتھارٹی بن گیا۔ کچھ عرصے بعد یہ تعلق بھی ختم ہوا، تاہم تب تک نہیں ڈیجیٹل کرنسی میں جان پڑ چکی تھی۔

مزید : خصوصی رپورٹ


loading...