اسلامی فلاحی مملکت کے تقاضے

اسلامی فلاحی مملکت کے تقاضے

  

’’حضرت شماخ ازدی رضی اللہ عنہ اپنے چچا اور بھائی سے روایت کرتے ہیں (جو صحابی ہیں) انہوں نے بیان کیا کہ وہ حضرت معاویہؓ کے پاس گئے اور کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا، جس شخص کو لوگوں کے کسی کام پر مامور کیا گیا پھر اس نے اپنے دروازے مسلمانوں کے لئے یا مظلوم یا حاجتمندوں کے لئے بند کر دیئے ہوں تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دروازے اس کی ضرورت اور مفلسی کے وقت بند کر لے گا خصوصاً جبکہ وہ بہت زیادہ محتاج ہو گا۔ ‘‘(رواہ البیہقی، مشکوٰۃ)

اللہ تعالیٰ نے سورۂ حج کی اکتالیسویں آیت میں ارشاد فرمایا، وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

اس ارشاد ربانی میں اسلامی مملکت کے چار بنیادی اصول ذکر کیے گئے اس کے نافذ ہونے کے بعد باقی تقاضے سامنے آتے ہیں۔

دراصل اسلامی مملکت سے مراد کسی زمین کا وہ حصہ ہے جہاں اسلامی قوانین نافذ ہوں اور مسلمان ان قوانین کے تحت زندگی بسر کرتے ہوں لوگوں کو اختیار صرف اسلامی قوانین نافذ کرنے کا ہو ایسی اسلامی مملکت صرف حکومت یا ملک ہی نہیں ہوتی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نیابت اور خلافت بھی ہوتی ہے اس لئے کہ قانون تو صرف وہاں اللہ ہی کا ہو گا دوسرے الفاظ میں اقتدار اللہ تعالیٰ کا ہو گا اور انسان کا کام صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کرنا ہے اس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ انسان اللہ کا خلیفہ کیسے ہے۔

اس لئے اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرضْ سے اسلامی فلاحی مملکت کے دو بنیادی تقاضے معلوم ہوئے فرمایا ’’اگر ہم ان لوگوں کو اقتدار زمین میں دیں‘‘ لہٰذا اقتدار اعلیٰ تو اللہ تعالیٰ کے لئے ہوا اوردوسرا بنیادی تقاضا یہ ہوا کہ انسان اللہ تعالیٰ کا نائب ہے احکام کو نافذ کرنے میں۔

پھر اس اسلامی مملکت کا تقاضا یہ ہے کہ عبادات بدنیہ اور عبادات مالیہ‘ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئے شرعی قوانین کا نفاذ کیا جائے، اسلامی مملکت میں اسلام کا اپنا قانون نافذ نہ ہو تو اس ریاست کا وجود ہی اپنے ’’اسلامی مملکت‘‘ ہونے کی نفی کرت دیتا ہے، کیونکہ اسلام کا اپنا قانون شہادت ہے فوجداری اور دیوانی قانون ہے تعزیرات اور حدود ہیں، خرید و فروخت ، نکاح و طلاق ضمانت و کفالت، ہبہ اور وراثت کے لئے قوانین موجود ہیں تجارت اور کاروباری امور کے لئے اسلام میں تفصیلی قانون موجود ہے زمین اور دیگر جائیداد غیر منقولہ کی خریدو فروخت کے لئے مستقل ضابطے موجود ہیں اگر مسلمان اقتدار ملنے کے باوجود اسلامی مملکت کے اس تقاضے کو پورا نہ کریں تو یقیناًاللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے۔

اسی طرح اسلامی فلاحی مملکت کے لئے یہ بھی ایک اہم تقاضا ہے کہ اسلامی مملکت کا دستور اور آئین کتاب و سنت کے نظام کے مطابق ہوں اسلامی مملکت کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو کتاب و سنت کے احکام کے خلاف ہو نہ وہ شریعت کا کوئی حکم منسوخ کر سکتی ہے اور نہ کسی حکم میں کمی بیشی کرنے کی جرأت کر سکتی ہے۔

فلاحی مملکت کا ایک اور اہم تقاضا یہ ہے کہ مملکت کے ہر شہری کے حقوق کی حفاظت اور ان کی نگہداشت مملکت کے ذمہ ہے ان حقوق میں عزت و آبرو اور جان و مال کی حفاظت بنیادی تقاضا ہے ذمہ داران مملکت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ خود بھی بنیادی حقوق کو سلب نہ کریں اور کوئی دوسرا ان حقوق کو سلب کرے تو اس کے لئے سخت سزائیں دی جائیں تاکہ شہری زندگی میں امن و سکون ہو۔

اسلامی فلاحی مملکت کا ایک اور اہم تقاضا سورۂ انفال کی آیت نمبر 60میں موجود ہے جس میں مسلمان کو اپنی حفاظت کے لئے اتنی تیاری کا حکم دیا گیا ہے کہ بیرونی دشمن اسلامی مملکت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی جرأت نہ کرے اور اس دفاعی نظام کو مضبوط ترین بنانے کے لئے عمدہ فوجی تربیت اور طاقتور جدید اسلحہ کی فراہمی کا انتظام کرنا بھی اسلامی مملکت کے تقاضوں میں شامل ہے۔ اسلام نے بیرونی اور اندرونی معاملات کے لئے صحابہ کرام کے عمل کو بڑے واضح الفاظ میں بیان فرمایا:

ترجمہ: ’’کفار کے لئے انتہائی سخت آپس میں انتہائی مہربان۔‘‘

اس لئے اسلامی مملکت فلاحی مملکت اس وقت کہلائے گی جب وہاں کے شہریوں میں محبت و الفت کی فضا موجود ہو اور ذمہ دارانِ مملکت کا یہ فرض ہو گا کہ وہ ان تمام امور کی نگرانی کریں جن سے تعصب کی آگ بھڑکتی ہو اور قومی وحدت ٹکڑے ٹکڑے ہوتی ہو اس لئے کہ قومی وحدت کے بغیر کوئی مملکت فلاحی مملکت نہیں کہلا سکتی۔

جب قومی وحدت موجود ہو تو امن و سکون ہو گا اور پھر مملکت میں معاشی اصلاح کی کوششیں کامیاب ہوں گی، ملک خود کفیل ہو گا اور دوسرے ممالک اسلامی مملکت کی کمزور معیشت کو دیکھ کر اصولوں کی سودے بازی پر مجبور نہ کر سکیں گے اور اس اسلامی مملکت میں معاشرتی اصلاح پر بھی بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے رسم و رواج کا خاتمہ، جہالت کا خاتمہ اور تعلیمی سہولتیں عام کرنا، ایک بہترین معاشرہ قائم کرنے کی ضامن ہوتی ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں اسلامی فلاحی مملکت کا ایک یہ تقاضا بھی واضح کیا گیا کہ سرکاری عہدوں پر ان لوگوں کو مقرر کیا جائے جو اس عہدہ کے اہل ہوں، امانت و دیانت کے اصولوں پر پورے اترتے ہوں ورنہ یہی نااہل افراد اسلامی مملکت کو فلاحی مملکت نہیں بننے دیں گے۔

ایک اور اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ اسلامی مملکت میں ذمیوں کو مکمل تحفظ ہو، ذمی اس غیر مسلم کو کہتے ہیں جو اسلامی مملکت میں باقاعدہ قوانین پر عمل کرتے ہوئے مملکت کے حقوق ادا کریں اور آجکل کی اصطلاح میں انہیں اقلیت کہتے ہیں ان کے حقوق کی حفاظت کرنا ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت اور ان کے جان و مال کی حفاظت اسلامی مملکت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے اسلامی مملکت صرف مسلمانوں ہی کے لئے فلاحی نہیں بلکہ غیر مسلموں کے لئے بھی فلاحی مملکت ہوتی ہے اور اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کا ایک مستقل تشخص ہوتا ہے۔

ہر شہری کو عدل و انصاف مہیا کرنا اسلامی مملکت کا ایک انتہائی اہم تقاضا ہے اس کے بغیر کسی بھی ملک میں فلاح و بہبود کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، عدل و انصاف قائم کرنے میں وحدت انسانیت اور احترام آدمیت پر نظر رکھی جاتی ہے قانون مساوات کے ذریعہ امیر و غریب، خاص و عام کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ حکومت کا محاسبہ ہوتا ہے عدلیہ اتنی آزاد ہو کہ جیسے خلافت راشدہ کے دور میں خلیفہ وقت کو بھی عدالت میں جواب دینا پڑتا تھا۔

عوام کی بنیادی ضروریات کی کفالت بھی فلاحی مملکت کا ایک تقاضا ہے جن کے لئے پہلے زکوٰۃ اور دیگر مالی واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے پھر اس کو بیت المال کے ذریعہ موثر طریقے سے خرچ کیا جائے۔ ضعیف، معذور، اپاہج اور بوڑھے افراد کے وظائف مقرر کر دیئے جائیں۔

عوام کے لئے رفاہ عامہ کے کام، ہسپتال بنانا، سڑکیں، پُ ل تعمیر کرنا، ذرائع مواصلات کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بنانا۔

جب ان تقاضوں کو پورا کر دیا جائے تو یقیناًاسلامی فلاحی مملکت کے نتائج اور ثمرات پوری دنیا کے لئے قابل تقلید نمونہ بن جائیں گے۔

مزید :

کالم -