ایک ایسے ملک کے دو ڈاکٹر داعش کے لئے کام کرتے ہوئے مارے گئے کہ سن کر آپ کو اپنے کانوں پر یقین نہ آئے گا

ایک ایسے ملک کے دو ڈاکٹر داعش کے لئے کام کرتے ہوئے مارے گئے کہ سن کر آپ کو اپنے ...
ایک ایسے ملک کے دو ڈاکٹر داعش کے لئے کام کرتے ہوئے مارے گئے کہ سن کر آپ کو اپنے کانوں پر یقین نہ آئے گا

  

نیروبی (مانیٹرنگ ڈیسک) اچھی بھلی ڈاکٹری چھوڑ کر دہشتگردی کا پیشہ اختیار کرنے والے دو کینیائی نوجوان لیبیائی دارلحکومت میں ایک آپریشن کے دوران اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں۔

ویب سائٹ Nation.co.ke کی رپورٹ کے مطابق 26 سالہ فراح دغانی حسن اور 25 سالہ ہیش احمد علی کینیا کے قتالی ہسپتال میں زیر تربیت ڈاکٹر تھے۔ وہ ایک دہشتگرد نیٹ ورک کا حصہ بننے کے بعد لیبیا چلے گئے جہاں دارالحکومت سرتی میں ہونے والے ایک حملے میں ہلاک ہوگئے۔

کینیا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ڈاکٹروں کی اس خصوصی ٹیم کا حصہ تھے جو دہشتگردوں کے لئے حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ڈاکٹروں کے مشکوک کردار کے متعلق پہلا انکشاف اس وقت ہوا جب گزشتہ سال اپریل میں ابو فدا نامی ایک ڈاکٹر کو گرفتار کیا گیا۔ ڈاکٹر فدا اور اس کی اہلیہ، جو کہ میڈیکل کی طالبہ تھی، دہشت گردوں کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کے خلاف کینیا کی عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے ۔

اتر پردیش کے انتہا پسند ہندووزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے نماز کو ایسی چیز سے تشبیہ دے دی کہ جان کر ہر مسلمان غصے سے آگ بگولہ ہو جائے گا

کینیائی سکیورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ داعش کی لیبیائی شاخ نے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک قائم کررکھا تھا جس کے کارندے کینیا، یوگنڈا، لیبیا، سوڈان، نائیجیریا، صومالیہ، نائیجر، الجیریا، تنزانیا، ایتھوپیا، جنوبی سوڈان اور مصر تک پھیلے ہوئے ہیں۔یہ نیٹ ورک انسانی سمگلنگ میں ملوث ہے اور نوجوانوں کو بھرتی کرکے انہیں دہشتگردی کے لئے تیار کرتا ہے ۔ لیبیائی دارالحکومت میں مارے جانے والے دونوں ڈاکٹر یوگنڈ اکی کمپالا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے طالبعلم رہے، اور یونیورسٹی میں قیام کے دوران ہی انہیں داعش کے نیٹ ورک نے بھرتی کر لیا تھا۔

مزید : بین الاقوامی