ماں اپنی دو سالہ بیٹی کی تصویر بنانے لگی تو پاس ہی ایک ایسی خوفناک چیز نظر آگئی کہ اس کے ہوش گم ہوگئے

ماں اپنی دو سالہ بیٹی کی تصویر بنانے لگی تو پاس ہی ایک ایسی خوفناک چیز نظر ...
ماں اپنی دو سالہ بیٹی کی تصویر بنانے لگی تو پاس ہی ایک ایسی خوفناک چیز نظر آگئی کہ اس کے ہوش گم ہوگئے

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا میں ایک خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ مضافاتی علاقے میں تفریح کے لیے گئی۔ وہاںوہ اپنی دو سالہ بیٹی کی تصویر بنانے لگی تو کیمرے میں بیٹی کے انتہائی قریب ایسی خوفناک چیز نظر آ گئی کہ خاتون کے اوسان خطا ہو گئے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق دنیا کا دوسرا زہریلا ترین سانپ 2سالہ بچی مولی سے چند سینٹی میٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔

کھیت میں گیا شخص گھر واپس نہ آیا تو دوست تلاش کو نکل پڑے، قریب ہی یہ موٹا تازہ سانپ پڑا نظر آگیا، اس کا پیٹ کاٹ کر دیکھا تو اندر کیا منظر تھا؟ دیکھ کر واقعی ہر کسی کے پیروں تلے زمین نکل گئی

بیانکا ڈکنسن نامی خاتون کا کہنا ہے کہ ”کیمرے میں مولی کی ٹانگوں کے قریب ہلتے ہوئے سانپ کو دیکھ کر پہلے تو میں سمجھی کہ یہ درخت کی خشک چھال ہے جو ہوا سے ہل رہی ہے مگر جب میں نے تصویر بنانے کے بعد اپنی بیٹی کی طرف دیکھا تو وہاں ’ایسٹرن براﺅن‘ نسل کا 2میٹر لمبا سانپ موجود تھا۔ یہ دیکھ کر مجھ لگا جیسے میرے دل کی دھڑکن رک گئی ہو۔ میں فوری طور پر مولی کو وہاں سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن میں جانتی تھی کہ اگر میں آگے بڑھی تو سانپ کو معلوم ہو جائے گا اور وہ مولی کو کاٹ لے گا۔“

بیانکا نے مزید بتایا کہ ”سانپ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا، کچھ ہی لمحوں میں وہ مولی سے کچھ فاصلے پر چلا گیا اور میں نے آگے بڑھ کر بچی کو اٹھا لیا اور فوراً تمام بچوں کو لے کر گھر واپس آ گئی۔ واقعے کے بعد کئی دن تک میں خوف میں مبتلا رہی، سوسکی اور نہ ٹھیک سے کھا سکی۔ اب بھی اس تصویر کو دیکھتی ہوں تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔“واضح رہے کہ ایسٹرن براﺅن نسل کا سانپ اس قدر زہریلا ہے کہ آسٹریلیا میں سانپوں کے کاٹے سے ہونے والی اموات زیادہ تر اسی سانپ کے باعث ہوتی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس