ہزاروں سال پرانے شہر کی کھدائی کے دوران سائنسدانوں کوایسا کمرہ مل گیا کہ دیکھ کر ان کا خون ہی خشک ہوگیا

ہزاروں سال پرانے شہر کی کھدائی کے دوران سائنسدانوں کوایسا کمرہ مل گیا کہ ...
ہزاروں سال پرانے شہر کی کھدائی کے دوران سائنسدانوں کوایسا کمرہ مل گیا کہ دیکھ کر ان کا خون ہی خشک ہوگیا

  

میکسیکوسٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) میکسیکو میں ماہرین آثار قدیمہ نے کھدائی کرکے ایک ایسی قدیم عمارت دریافت کی جس کے متعلق تحقیق کے بعد اب انتہائی روح فرسا حقائق سامنے آ گئے ہیں۔ ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق امریکی میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے ماہرین ایلسا ریڈمونڈ اور چارلس سپنسر نے یہ محل نما عمارت میکسیکو کی وادی اواکسا میں دریافت کی ہے۔ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ یہ عمارت 2300سال قدیم ہے اور اس میں ایک ایسا کمرہ بھی موجود ہے جس میں دیوتاﺅں کو خوش کرنے کے لیے انسانوں کی قربانیاں دی جاتی تھیں۔

تحقیق کاروں کو ایک پتھر پر 14 کروڑ سال پرانی ایسی چیز مل گئی کہ دیکھ کر ہر کسی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، نئی تاریخ رقم ہوگئی

رپورٹ کے مطابق یہ عمارت 9ہزار مربع فٹ رقبے پر محیط ہے اور آج بھی بہترین حالت میں موجود ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ”ماین (Mayan)دور میں دیوتاﺅں کو خوش کرنے کے لیے قربانی دینے کا رواج عام تھا۔ اس وقت بالخصوص انسانوں کی قربانیاں دی جاتی تھیں۔ یہ روایت 17صدی عیسوی میں شمالی امریکہ پر ہسپانوی قبضے تک نمایاں طور پر موجود رہی۔ ایلسا اور چارلس کا کہنا ہے کہ ”عمارت کے اس کمرے میں لوگوں کے سر قلم کیے جاتے تھے اور ان کے دل نکال کر دیوتاﺅں کی بھینٹ چڑھائے جاتے تھے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس