سوشل میڈیا پر کون لوگ زیادہ بدتمیزی کرتے ہیں اور انہیں کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟ سائنسدانوں نے ایسا طریقہ بتادیا کہ جان کر آپ بھی ضرور آزمائیں گے

سوشل میڈیا پر کون لوگ زیادہ بدتمیزی کرتے ہیں اور انہیں کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ...
سوشل میڈیا پر کون لوگ زیادہ بدتمیزی کرتے ہیں اور انہیں کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟ سائنسدانوں نے ایسا طریقہ بتادیا کہ جان کر آپ بھی ضرور آزمائیں گے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) آج کل سوشل میڈیا پر بدتمیزی کا وہ طوفان برپا ہے کہ الامان والحفیظ۔ آج جس شخص کی اخلاقیات و تربیت کا اندازہ کرنا ہو اس کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ پر جا کر آپ دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ لوگ تو ملک کی محترم شخصیات کو بھی ایسے گالیاں بک رہے ہوتے ہیں کہ لگتا ہے جیسے ان بدزبانوں نے گلیوں میں دھکے کھاتے ہوئے پرورش پائی ہے۔جن بچوں کو ماں باپ کی تربیت میسر آئی ہو وہ کبھی بھی، کسی بھی بزرگ کے متعلق ایسی غلیظ زبان استعمال نہیں کرتے۔ انہیں اختلافِ رائے کے اظہار کا سلیقہ بخوبی آتا ہے۔ ان لوگوں کے متعلق یہ بیانیہ تو وہ ہے جو عقلِ عام بخوبی بیان کر دیتی ہے تاہم اب ماہرین نے ایسے بدزبان لوگوں کے خبثِ باطن کی سائنسی وجہ بھی بیان کر دی ہے۔

کیا آپ کو OKکا مطلب معلوم ہے ؟جواب آپ کو حیران کر دے گا

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق چین کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”ٹوئٹر و دیگر سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر جو لوگ غیرمہذب زبان استعمال کرتے ہیںوہ دراصل اپنی شناخت ظاہر نہ ہونے کا فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح لوگ جنہیں نام سے نہیں جانتے ان کے خلاف بھی بدتہذیبی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ “نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ اگر ایسے بدزبانوں کا صرف نام ظاہر کر دیا جائے تو ان کا رویہ تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ دوسروں کے متعلق بدزبانی میں احتیاط برتنے لگتے ہیں۔ماہرین نے154طلبہ کو دو گروپوں میں تقسیم کرکے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے گفتگو کا موقع دیا اور ان کے الفاظ کے چناﺅ کی نگرانی کی۔ اس کے بعد انہوں نے دونوں گروپوں کے طلبہ کو ایک دوسرے سے ملوایا، آپس میں پہچان کروائی اور اس کے بعد دوبارہ سوشل میڈیا پر ان کی زبان کا تجزیہ کیا۔ پہلی بار ان میں سے اکثر نے سخت اور بعض نے غلیظ الفاظ کا بھی استعمال کیا تھا جبکہ دوسری بار ان کا رویہ ایک دوسرے سے 70فیصد نرم پایا گیا۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ژین وینگ کا کہنا تھا کہ ”جب تک لوگ ایک دوسرے کو نہیں جانتے ان میں سے اکثر دوسروں کے متعلق کمینگی کی حد تک خودغرضی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اگر ان کا صرف نام افشاءکر دیا جائے تو ان میں سے 70فیصد راہ راست پر آ جاتے ہیں۔“ لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ٹوئٹر یا دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر دوسروں کو گالیاں بکنے والے درحقیقت بزدل ہوتے ہیں جو دوسرے کے منہ پر آ کر بات تک کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے اور سوشل میڈیا پر اپنی شناخت چھپا کر بڑی بڑی شخصیات کو مغلظات بکتے نظرآتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس