سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں متاثرہ امیدواروں کا بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا اعلان ، چیف جسٹس اپنی سربراہی میں لارجر بنچ تشکیل دے کر انصاف فراہم کریں :متاثرین

سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں متاثرہ امیدواروں کا بھوک ہڑتالی کیمپ ...
سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں متاثرہ امیدواروں کا بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا اعلان ، چیف جسٹس اپنی سربراہی میں لارجر بنچ تشکیل دے کر انصاف فراہم کریں :متاثرین

  

کراچی(آن لائن)سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والے مقابلے کے امتحانات کے متاثرہ امیدواروں نے کراچی پریس کلب کے باہرغیرمعینہ مدت کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا اعلان کرتے ہوئے چیف جسٹس سے زیادتی کا ازالہ کرنے کی اپیل کی ہے۔بھوک ہڑتالی کیمپ میں سندھ کے تمام شہروں کے متاثرہ امیدواران موجودتھے جس میں دیہی اورشہری سندھ اورمرداورخواتین شامل تھے۔متاثرہ امیدواروں نے کہا کہ چیف جسٹس اس معاملے میں نظرثانی شدہ پٹیشن میں اپنی سربراہی میں لارجربینچ تشکیل دیں تاکہ اس کیس کے تمام نکات کو سنا جا سکے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ پاکستان نے اپنے حالیہ سنائے گئے ایک فیصلے میں صوبہ سندھ میں منعقدہونے والے مقابلے کے امتحانات کے ذریعے227امیدواران کے مستقبل کافیصلہ سناتے ہوئے ان امتحانات کے انٹرویواورتحریری حصے منسوخ کرنے کاحکم دیاہے اوریہ امتحانات نئے کمیشن کے تحت منعقدکرنے کاحکم دیاہے۔منتخب امیدواران امتحانات کے4سال کے لمبے عرصہ سے گزررہے ہیں اوران امیدواران کوملازمتوں کے آفرلیٹربھی مل چکے تھے اوراس کے مطابق امیدواران نے پولیس اورمیڈیکل رپورٹ بھی جمع کراچکے تھے۔احتجاج میں موجودامیدواران کاکہاتھاکہ بہت سے امیدواران آفرلیٹرملنے کے بعداپنی ملازمتوں سے مستعفی ہوگئے ہیں یاکوئی اورملازمت جوائن نہیں کی ہے اوراپنی تعلیم ،ویزاوغیرہ چھوڑچکے ہیں۔ان227 میں کل ملاکر65سے زائدامیدواران ہیں جوان متحانات کی امیدمیں جاب سے مستعفی ہوچکے ہیں یااپنے کیرکئرکے دوسرے مواقع گنواچکے ہیں۔متاثرہ امیدواران کاکہناتھاکہ ان امتحانات سے متعلق متعددبے ضابطگیاں بیان کی گئیں ان میں زیادہ ترانتظامی نوعیت کی ہیں جس میں امتحانی مراکزمیں موبائل فون کاستعمال،میرٹ لسٹ کاشائع نہ ہوبا،ارجن کی سیٹوں کاخالی ہونا،انٹرویومارکس کی تقسیم کاواضح فارمولہ موجودنہ ہونا،امتحانات کے نتائج میں لمباوقفہ اوردیگرہیں تاہم ان میں سے کوئی بھی شکایت ایسی نہیں جسکیلئے کامیاب ہونے والے امیدواران کوذمہ دارقراردیاجاسکے۔یہ شکایت ماضی میں فیڈرل کی سطح پرسی ایس ایس اوردیگرصوبوں میں مقابلے کے امتحانات میں بھی سامنے آئی ہیں تاہم ماضی میں کبھی بھی ان شکایت کی بناپرتمام امیدواروں کے نتائج منسوخ نہیں کئے گئے۔متاثرہ امیدواروں کاکہناتھاکہ ان کاکیس صیح طرح پیش نہیں ہواہے اورسندھ حکومت اورسندھ پبلک سروس کمیشن نے اپنی نااہلی مذموم مقاصدکی وجہ سے کیس کے آسان اورسادہ سوالات کے جواب نہیں دیئے۔اعلی عدلیہ ملک میں انصاف فراہم کرنے کاسب سے بڑااورمعززادارہ ہے اورامیدہے اہم امیدواران کی سنوائی ممکن ہوسکے گی۔

مزید : کراچی