صوبوں میں آئی جی پولیس کی تقرریاں

صوبوں میں آئی جی پولیس کی تقرریاں
 صوبوں میں آئی جی پولیس کی تقرریاں

  

خیبر پختون خواہ کے آئی جی پولیس ناصر درانی 16 مارچ کو ریٹائر ہو گئے، اب ان کی جگہ ایڈیشنل آئی جی سید اختر علی شاہ کے پاس قائم مقام آئی جی کا چارج ہے، دیکھتے ہیں آنے والے دنوں میں انہیں ہی مستقل کیا جاتا ہے یا کوئی نیا آفیسر آئی جی لگایا جاتا ہے۔ پنجاب کے آئی جی مشتاق سکھیرا بھی 10 اپریل کو ریٹائر ہورہے ہیں اور پنجاب میں بھی نئے آئی جی پولیس کا تقرر ہو گا۔ان کے علاوہ رواں سال پولیس کے کئی اعلی افسران ریٹائر ہو رہے ہیں جن میں سابق آئی جی آزاد کشمیر طارق کھوکھر 15 مئی، ڈی جی ایف آئی اے محمد عملیش یکم جون، آئی جی ریلوے منیر چشتی 31 جولائی، ایم ڈی پولیس فاؤنڈیشن میر زبیر 12 اگست، ایڈیشنل آئی جی سعود عزیز 24 اگست، سندھ پولیس کے ایڈیشنل آئی جی خادم حسین بھٹی یکم ستمبر، آئی جی بلوچستان سید احسن محبوب یکم اکتوبر اور ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ کیپٹن عثمان 2 نومبر کو ریٹائر ہوں گے۔ کسی بھی صوبہ میں پولیس کے سربراہ کا تقرر اگر میرٹ پر کیا جائے تو یہ بات اس صوبہ کے عوام کے لئے بڑی خوش خبری ہوتی ہے لیکن اگر میرٹ کی بجائے جی حضوری اہم فیکٹر ہو تو یہ کوئی نیک شگون نہیں ہوتا اور پولیس فورس کا مورال گرانے کا باعث بھی بنتا ہے۔ گذشتہ ساڑھے تین چار سال میں اس کا عملی مظاہرہ ہم چاروں صوبوں میں مختلف تناظر میں دیکھتے آ رہے ہیں، تقرری کے عوامل مختلف، وزرائے اعلیٰ کا نقطہ نظر اور ترجیحات مختلف اور صوبہ میں ان کے اثرات بھی مختلف رہے، لیکن ایک بات ضرور ثابت ہوئی ہے کہ ان تقرریوں کے نتائج بہر حال بہتر رہے ہیں جو میرٹ پر کی گئیں ۔سندھ اور پنجاب کے آئی جی میرٹ کی بجائے وزرائے اعلی کی پسند اور نا پسند پر لگائے جاتے ہیں جبکہ خیبر پختون خوا میں ناصر درانی اور بلوچستان میں سید احسن محبوب کی تقرریاں نہ صرف میرٹ پر ہوئیں بلکہ ان کے وزرائے اعلیٰ اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے ان کے کاموں کے دوران سیاسی مداخلت نہیں کی گئی اور دباؤ بھی نہیں ڈالا گیا۔

سندھ کی تو خیر بات ہی رہنے دیجئے جہاں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت پولیس سمیت تمام بیورو کریٹس کو میرٹ کی بجائے اپنے مخصوص مفادات کے مطابق تعینات کرتی ہے اور اس کا سارا نقصان عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبہ سندھ میں آئی جی کے تقرر کے لئے تمام فیصلے ہمیشہ سیاسی مصلحتوں یا مفادات کے اسیر ہوتے ہیں اور آئے دن سندھ حکومت کی سپریم کورٹ میں انہی باتوں کی وجہ سے کھنچائی بھی ہوتی رہتی ہے کیونکہ ان میں میرٹ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ سابق وزیر اعلی سید قائم علی شاہ دبئی سے آئی ہوئی فیکس کے مطابق تقرریاں کردیتے تھے جن میں سے کئی ایک بعد میں اعلی عدالتیں ختم بھی کر دیتی تھیں۔ مراد علی شاہ بظاہر بہتر کام کررہے ہیں لیکن فیصلوں کا اختیار اب بھی وہیں پر ہی ہے جہاں قائم علی شاہ کے زمانے میں تھا، یعنی سندھ حکومت پہلے کی طرح اب بھی ریموٹ کنٹرول سے ہی چلائی جا رہی ہے۔جب سے 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت دوبارہ آئی ہوئی ہے، ان 9 برسوں کے دوران 12 آئی جی تبدیل کر چکی ہے، ابھی تین ماہ قبل بھی 19 دسمبر کو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے موجودہ آئی جی اللہ دینو کھوجہ کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔ (نہ جانے ہمارا میڈیا کیوں اے ڈی خواجہ لکھتا ہے انہیں گھر بھیج دیا گیا تھا تاکہ اگلا آئی جی مشتاق مہر کو لگایا جائے لیکن سندھ ہائی کورٹ نے یہ شاہی حکم نامہ کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد سے اے ڈی کھوجہ ابھی تک آئی جی کے طور پر کام کررہے ہیں اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ انہوں نے سندھ کی آئی جی شپ کا ایک سال بھی مکمل کر لیا ہے۔ انہیں پچھلے سال اس وقت لگایا گیا تھا جب پچھلے آئی جی غلام حیدر جمالی کو کرپشن کے الزامات کی وجہ سے سپریم کورٹ کے کہنے پر ہٹایا گیا تھا۔

پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف بھی بیوروکریسی کی تقرری میں میرٹ سے زیادہ اپنی پسند اور ناپسند کو ترجیح دیتے ہیں۔ 2013ء کے الیکشن کے وقت آئی جی پنجاب ایک نیک نام اور قابل افسر آفتاب سلطان تھے۔ انہیں آئی بی کا سربراہ بنا کر اسلام آباد بھیجا گیا تو پنجاب میں ناصر درانی جیسے اعلی پیشہ ور ، قابل اور نیک نام افسر موجود تھے لیکن ان کی بجائے میاں شہباز شریف نے خان بیگ کو میرٹ کے برعکس لگایا اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد مشتاق سکھیرا کو، جن کے چارج سنبھالنے کے پہلے ہی دن سانحہ ماڈل ٹاؤن پیش آگیا اور پنجاب حکومت کی بے انتہا بدنامی ہوئی۔دوسری طرف خیبر پختون خوا کی حکومت نے ناصر درانی کو آئی جی لگا دیا جس کا نتیجہ ان کی اعلی کارکردگی کی وجہ سے خیبر پختون خواہ کی حکومت اور پولیس کی نیک نامی کی صورت میں نکلا۔یہ حقیقت ہے کہ ان ساڑھے تین برسوں میں ناصر درانی نے کسی قسم کا سیاسی دباؤ قبول نہیں کیا اور نہ ہی کوئی کام میرٹ کے خلاف کیا۔

کسی بھی صوبہ کا آئی جی یا سیاسی ہوتا ہے یا غیر سیاسی۔ پنجاب پولیس کی 70 سالہ تاریخ میں سب سے نیک نام افسروں میں ایک نمایاں نام سردار محمد چوہدری کا ہے جنہوں نے اپنے دور میں میرٹ، شفافیت، قابلیت اور پیشہ ورانہ مہارت کی نئی تاریخ رقم کی۔ مجھے یاد ہے کہ پہلی دفعہ انہیں وزیر اعلی پنجاب میاں نواز شریف نے 1989ء میں بلا کر آئی جی شپ آفر کی تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ آپ آئی جی کا تقرر سینیارٹی کے لحاظ سے میرٹ پر کریں جس کی وجہ سے اس وقت سب سے سینئیر چوہدری منظور احمد کو آئی جی بنایا گیا۔ 1991ء میں لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے ایک واقعہ پیش آیا کہ پنجاب اسمبلی کے ایک ممبر جلال الدین ڈھکو کا ایک ٹریفک کانسٹبل سے چالان کرنے پر جھگڑا ہوا تو وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں نے آئی جی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جو غلط فیصلہ تھا۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے فوری طور پر سردار محمد چوہدری کو اسلام آباد طلب کرکے آئی جی کا چارج لینے کا کہا تو انہوں نے ایک دفعہ پھر انکار کیا ، اس کے بعد ایک ہی دن میں تیسری دفعہ وزیر اعظم نے بلا کر جب یہی بات کی تو سردار محمد چوہدری نے اس شرط پر آئی جی شپ قبول کی کہ ان کے کام میں سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی اور پھر سب نے دیکھا کہ انہوں نے ہر طرح کی سفارش کو مسترد کرکے میرٹ قائم کیا اوراپنے پورے دور میں ایک بھی پوسٹنگ ٹرانسفر میرٹ کے خلاف نہیں کی، یہی وجہ ہے کہ اب 25 سال بعد بھی پنجاب پولیس کی جب بھی بات ہوتی ہے تو سردار محمد چوہدری کی بات ہوتی ہے ۔ میرے خیال میں وزیر اعلی شہباز شریف کو بھی اپنے بڑے بھائی کی روائت پر عمل کرتے ہوئے میرٹ اور سینیارٹی کے تحت فیصلہ کرنا چاہئے۔

پنجاب میں نئے آئی جی کی ریس جاری ہے جس میں اس وقت ایڈیشنل آئی جی پٹرولنگ امجد سلیمی، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز عارف نواز، موجودہ سی سی پی او لاہور کیپٹن ریٹائرڈ امین وینس اور ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ فیصل شاہکارنمایاں نام ہیں۔ ان کے علاوہ آئی جی اسلام آباد طارق مسعود یاسین کی خدمات بھی پنجاب کے حوالے کی جا رہی ہیں۔ الیکشن کا سال شروع ہونے کو ہے، شریف برادران جو وزیر اعظم اور وزیر اعلی ہیں، انہوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ آئی جی پنجاب کسے لگایا جائے۔ اگر میاں نواز شریف اس روائت پر عمل کریں کہ سب سے سینئیر افسرکو آئی جی لگایا جائے تو پنجاب میں کام کرنے والے افسران میں امجد سلیمی سب سے سینئیر ہیں ۔ وفاق کے پاس موجود افسران میں نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمانڈنٹ نسیم الزمان خان سینیارٹی کے لحاظ سے سب سے سینئیر اور انتہائی پروفیشنل ہیں، وہ سی سی پی او لاہور اور آر پی او راولپنڈی کے علاوہ تقریباً دو سال تک ایڈیشنل آئی جی پنجاب بھی رہے ہیں۔ ان کی خدمات پنجاب حکومت کے سپرد کرکے آئی جی پنجاب لگایا جائے تو یہ بھی اچھا فیصلہ ہو گا۔ اسی میں میاں صاحبان اور ان کی حکومتوں کی نیک نامی بھی ہے کہ میرٹ اور سینیارٹی کو مقدم رکھا جائے تاکہ پنجاب میں عوام کے حالات اور پولیس فورس کا مورال دونوں بہتر رہیں۔

مزید : کالم