ٹرمپ حکومت، قیامِ امن میں مثبت کردار ادا کرے!

ٹرمپ حکومت، قیامِ امن میں مثبت کردار ادا کرے!
 ٹرمپ حکومت، قیامِ امن میں مثبت کردار ادا کرے!

  

پاکستان میں دہشت گردی کے یکے بعد دیگرے متعدد تباہ کن واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ ملک دشمن قوتیں ، تاحال اپنی دستیاب توانائیوں اور سرگرمیوں کے ساتھ تخریب کاری کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جب تک مقبوضہ جموں و کشمیر کا 70 سال دیرینہ تنازعہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرار دادوں کے مطابق طے نہیں ہو جاتا اور اہل کشمیر کی ایک کروڑ 40لاکھ کثیر آبادی کو کسی دباؤ کے بغیر حق خود ارادیت استعمال کرنے کا قانونی حق نہیں مل جاتا اس وقت تک خطے میں امن قائم نہیں ہوگا۔مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ ضروری ہے کہ امریکہ اس مسئلہ پر بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی ذمہ داری نبھائے۔صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کی ایک تقریر میں واضح الفاظ میں کہا تھا کہ امریکی حکومت کو دوسرے ممالک کے حکمرانوں کو تبدیل کرنے کی دیرینہ پالیسی ترک کردینی چاہئے، کیونکہ یہ انداز، کسی قانون اور منصفانہ اصول کے مطابق نہیں ہے۔اب وہ برسر اقتدار ہیں، اپنی مذکورہ بالا خواہش کوعملی جامہ پہناکر تاریخ میں قیام امن کی ایک روشن اور یادگار مثال قائم کرسکتے ہیں۔اس طرح امریکی عہدیداروں کے ذرائع ابلاغ میں نمایاں ہونے والے ایسے بیانات کوکافی قدرومنزلت اور عزت واحترام حاصل ہوسکتا ہے، کیونکہ جب اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین پر عمل داری کا عزم و عہد اس بڑی طاقت کی جانب سے کیا جائے گا تو بلاشبہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب میں خاصی قابل ذکر حد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ فلسطینی عوام کو بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق آزاد اور باعزت لوگوں کی زندگی گزارنے کا حق دینے کے لئے موجودہ امریکی حکومت کواپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس عالمی ادارے کی قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر جرأت وہمت کا مظاہرہ کرنے کیضرورت ہوگی، تاکہ مشرق وسطیٰ میں سالہا سال سے جو انتشار پھیلا ہوا ہے اس کا جلدخاتمہ ہوسکے۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں رہائشی بستیاں تعمیر کرنے کی جو آواز آئے دن بلند ہوتی رہتی ہے، اس ناجائز مطالبہ کو بھی جلد مستقل طور پر روکا جائے، کیونکہ اہل فلسطین خود کس جگہ آباد ہوں؟سابق امریکی صدر جارج بش نے 2005ء میں اہل فلسطین کو آزادی سے زندرہ رہنے کے حقوق دینے کے لئے اپنی عوامی تقریروں میں چند وعدے کئے تھے۔ اب صدر ٹرمپ کو اپنے اختیارات سے ان وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔کیونکہ باہمی کشیدگی، محاذ آرائی اور جنگ وجدل کی کارروائیوں سے تعمیر و ترقی کا کوئی امکان نہیں ہوتا، بلکہ زیادہ تر انسانوں کی ہلاکت اور املاک کی تباہی کے منفی نتائج ہی برآمد ہوتے ہیں، اگر صدر ٹرمپ سابقہ 16سالہ تجربہ کی روشنی میں افغانستان سے تمام امریکی اتحادی افواج جلد واپس بلالیں، تو پاکستان کے گردونواح میں بھی دہشت گردی کی تخریب کاری کافی حد تک ختم یا کم ہوسکتی ہے۔

مزید : کالم