آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، امن کے لئے ناگزیر

آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، امن کے لئے ناگزیر

اُردن کے شاہ عبداللہ دوم نے کہا ہے کہ اسرائیل، فلسطین تنازع کے مجوزہ دو ریاستی حل کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا اور دو ریاستی حل ہی عرب اسرائیل جامع امن معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ عرب لیگ کے اٹھائیسویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ اُردن نے کہا کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بسانے کے عمل کو تیز کر کے امن کے مواقع گنوا رہا ہے۔ عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس میں فلسطین کے مسئلہ کے دو ریاستی حل پر زور دیا گیا اور اِس رائے کا اظہار کیا گیا کہ اسرائیل کو یہودی ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ کسی مُلک کے لئے بیت المقدس میں سفارت خانہ منتقل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے امریکی انتظامیہ کا موقف تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام اسی طرح ممکن ہے کہ اسرائیل دو ریاستی حل پر متفق ہو جائے اور اسرائیل یہودی کی بجائے جمہوری ریاست بنانے پر آمادہ ہو، امریکہ میں صدر کارٹر کے دور سے لے کر بعد کے ادوار میں تقریباً ہر صدر کی رائے یہی رہی کہ فلسطینی عوام کو اُن کے جمہوری حق سے محروم رکھ کر نہ تو مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی فلسطینی عوام کو زیادہ دیر تک اُن کے اپنی ریاست کے حق سے محروم رکھنا ممکن ہو سکے گا، تاہم کسی اسرائیلی حکمران نے امریکی صدور کی اِس رائے کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی یہودی حکمران یہودی ریاست کے نظریئے سے ہٹنے پر آمادہ ہوئے۔ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بھی مسلسل بسائی جاتی رہیں یہاں تک کہ گزشتہ برس سلامتی کونسل نے اِن بستیوں کے خلاف ایک قرارداد14ووٹوں کی اکثریت سے منظور کر لی۔ امریکی نمائندہ ووٹنگ کے وقت موجود نہیں تھا۔ یوں یہ قرارداد تقریباً متفقہ ہی سمجھی گئی۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اِس پر بہت سیخ پا ہوئے اور سارا ملبہ صدر اوباما پر ڈال دیا، اُس وقت ٹرمپ صدر منتخب ہوچکے تھے البتہ ابھی انہوں نے عہدہ نہیں سنبھالا تھا، صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو تسلی دی کہ وہ انتظار کریں وہ عہدہ سنبھالتے ہی امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے لئے اقدامات کریں گے۔ صدر ٹرمپ کے عہد میں اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر کے پروگرام پر عمل پیرا ہے اور حسبِ معمول سلامتی کونسل کی قرارداد کی پروا بھی نہیں کر رہا۔ صدر ٹرمپ کی ہلا شیری بھی اسرائیل کو حاصل ہے تاہم ابھی تک امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل نہیں ہو سکا، شاید امریکہ کو مسلمان عرب ممالک کے ردِعمل کا خوف ہے کہ ابھی اِس ضمن میں کسی پیشرفت سے گریز کیا جا رہا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ ضروری نہیں امن صرف اِسی صورت قائم ہو جب اسرائیل کے شانہ بشانہ فلسطینی ریاست بھی وجود میں آ جائے،لیکن اگر ستر سال سے امن نہیں ہو سکا تو معلوم نہیں صدر ٹرمپ کے ذہن میں وہ کون سا خاکہ ہے جس کے ذریعے وہ فلسطینی ریاست کے بغیر بھی امن کا قیام ممکن سمجھتے ہیں۔

اب تک انہوں نے اپنا یہ ’’خفیہ منصوبہ‘‘ ظاہر نہیں کیا، لیکن جو کچھ وہ کرنے جا رہے ہیں وہ سب اسرائیل نوازی کے سوا کچھ نہیں، وہ چاہتے ہیں فلسطینیوں کو لارا لپاّ لگائے رکھیں اور درپردہ اسرائیل کو مضبوط کرتے رہیں، اِس وقت بھی فوجی لحاظ سے اسرائیل اس مقام پر ہے کہ خطے کا کوئی عرب مُلک اس سے فوجی مقابلے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے نہ تو شام کے مفتوحہ علاقے واپس کئے ہیں اور نہ ہی اُردن کے مغربی کنارے کا قبضہ چھوڑا ہے، اسرائیل کو معلوم ہے کہ اگر وہ فلسطینی ریاست کے قیام پر متفق ہو گیا تو اسے شام اور اُردن کے علاقے بھی واپس کرنا پڑیں گے۔ امریکہ میں اب اُن دانشوروں کی کمی نہیں،جو اسرائیل کی غاصبانہ پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ اسرائیل کے اندر بھی صدر ٹرمپ کی مخالفت میں آوازیں اٹھتی رہتی ہیں اِس لئے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ محض ہٹ دھرمی کی بنیاد پر فلسطینی عوام کو زیادہ عرصے تک اُن کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ فیصلہ امن کے مفاد میں ہو گا اور اس کی بنیاد پرا یک نیا مشرقِ وسطیٰ ظہور پذیر ہو سکتا ہے۔

فلسطینی علاقے غصب کر کے ہی1948ء میں اسرائیل کی ناجائز ریاست قائم ہوئی تھی پھر اسرائیل کے توسیع پسند حکمرانوں نے ہمسایہ عرب ممالک کے علاقے بھی ہتھیانا شروع کر دیئے، جو علاقے فلسطینیوں کے قبضے میں باقی رہ گئے تھے اُن پر بھی یہودی بستیاں بنا لیں اور دُنیا بھر کے احتجاج اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود آج تک یہ عمل نہیں رُک سکا۔ البتہ اِس عرصے میں اتنا فرق ضرور پڑا ہے کہ یورپ کے بہت سے ممالک نے اسرائیلی توسیع پسندی کی مذمت شروع کر دی ہے اور جس فلسطینی ریاست کو ناممکن تصور کیا جا رہا تھا اب مشرقِ وسطیٰ میں امن کا انحصار اسی ریاست کے قیام میں دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیل جس ’’یہودی ریاست‘‘ کو اٹل سمجھتا رہا ہے دُنیا اب اس کے خلاف بھی آواز اُٹھا رہی ہے اور اسرائیل کی قیادت کو مشورے دے رہی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے جمہوری حقوق کو تسلیم کر لے اور جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی تو اسرائیل کے اندر فلسطینیوں کو اُن کے حقوق دے،لیکن یہ دونوں تجویزیں اسرائیلی قیادت کو قبول نہیں ہیں۔اسرائیل جموہری ریاست بننے کیلئے بھی تیار نہیں۔

اگرچہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ ابھی بہت کٹھن اور دشوار ہے تاہم آہستہ آہستہ راستے کی مشکلات کم ہو رہی ہیں اور خیال ہے کہ چند برس کے اندر اندر حالات کا دھارا اِس جانب بہنا شروع ہو جائے گا کہ انصاف پسند لوگ اسرائیل کی ناراضی کی پروا کئے بغیر فلسطینی ریاست کی حمایت کریں گے۔عرب لیگ کے رواں اجلاس میں اگرچہ عرب ممالک کو درپیش بہت سے مسائل پراتفاق رائے نہیں ہو سکا تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے مسئلے پر عرب ممالک میں کوئی اختلاف نہیں اور وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام فلسطینی ریاست کے وجود میں دیکھتے ہیں۔

مزید : اداریہ