چنگ چی رکشے چلانے کی مشروط اجازت

چنگ چی رکشے چلانے کی مشروط اجازت

چنگ چی رکشوں کے حوالے سے پاکستان سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے حکم دیا ہے کہ ملک بھر میں منظور شدہ کمپنیوں کے رکشے چلانے کی اجازت دی جائے۔ فاضل بنچ کے سربراہ مسٹر جسٹس گلزار احمد نے دوران سماعت یہ ریمارکس بھی دیئے کہ حکومت میٹروبس اور اورنج لائن ٹرین چلانے میں مصروف ہے، لیکن چنگ چی رکشوں کے بارے میں کوئی توجہ نہیں دی جارہی،حد یہ ہے کہ غیر قانونی رکشوں کی تفصیلات کسی محکمے کے پاس نہیں۔اپنے ڈیزائن کی وجہ سے بعض رکشے موڑ مڑتے ہوئے الٹ جاتے ہیں، ایسے رکشوں پر سفر کرنا خطر ناک ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے چنگ چی رکشوں کا مسئلہ حل کرنے کے لئے محتاط اور لائق تحسین فیصلہ دیا گیا ہے۔ ملک بھر میں چلنے والے چنگ چی رکشوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کے علاوہ دیہات میں بھی یہ رکشے چل رہے ہیں۔ تیز رفتار سستی سواری اور بیشتر مقامات پر دستیاب ہونے کی وجہ سے لوگ اس پر سفر کرنا پسند کرتے ہیں۔

ٹرانسپورٹ کے حوالے سے چنگ چی رکشے کی افادیت اپنی جگہ، لیکن اس کے بے تحاشہ شور اور تیز رفتاری سے ہونے والے حادثات کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج مسٹر جسٹس گلزار احمد نے واضح کیا ہے کہ بعض غیر معیاری کمپنیوں کے رکشے تیزی سے موڑ مڑتے ہوئے الٹ جاتے ہیں جس سے مسافر جاں بحق ہو جاتے ہیں اورکچھ زخمی ہونے والے لوگ زندگی بھر کے لئے معذور بھی ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے صرف معیاری رکشوں کو ہی سڑک پر لانے کا حکم دیا ہے۔ اس معاملے میں دوباتوں کا خاص طور پر خیال رکھا جائے کہ حکومت معیار پر پورا اترنے والے رکشوں کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے دے اور متعلقہ محکموں کے کارکن رشوت لے کر غیر معیاری رکشوں کو چلانے کی اجازت نہ دیں۔ چنگ چی رکشوں سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے، اس بات کا خیال رکھا جائے کہ چلتا ہوا روزگار ختم نہ ہو۔ رکشہ چلانے والے چنگ چی کو اسی صورت میں سڑک پر لائیں، جب انہیں معیار اور دیگر احتیاطی تدابیر کے حوالے سے خود اطمینان ہو۔ صرف معیار پر پورا اترنے والے رکشوں کو چلانے کی اجازت ہونی چاہئے۔

مزید : اداریہ