بھارتی انتہا پسندی کا جن

بھارتی انتہا پسندی کا جن
 بھارتی انتہا پسندی کا جن

  

قائد اعظمؒ نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم گائے کا گوشت کھاتے ہیں جبکہ ہندو گائے کی پوجا کرتے ہیں۔ بھارت کی بہت سی ریاستوں میں گائے کو ذبح کرنے پر پابندی ہے اور اس پر ہندو مسلم فسادات کی تاریخ خاصی پرانی ہے۔ دہلی کے بہت سے مسلم حکمران گائے کو ذبح کرنے سے پرہیز بھی کرتے رہے ہیں۔ اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد محض گائے کے گوشت پر ہی پابندی نہیں ہے بلکہ ہر قسم کے گوشت کی دکانیں بند ہیں۔ اتر پردیش میں نئے وزیراعلیٰ یوگی آدیتہ ناتھ نے گوشت کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کئے ہیں۔ ان کی دکانوں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ اتر پردیش میں صرف گائے کے گوشت پر پابندی کو ہی یقینی نہیں بنایا گیا بلکہ ایسے اقدامات کئے گئے جن کی وجہ سے بکرے، بھیڑ حتیٰ کہ مرغیوں کا گوشت فروخت کرنے والوں نے بھی ڈر کر اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں۔ بھارت ہر سال چار بلین ڈالر سے زائد کا گوشت ایکسپورٹ کرتا ہے اور اس میں سے دوبلین ڈالر کا گوشت اترپردیش سے بیرون ملک جاتا ہے۔ گوشت کا کاروبار کرنے والے زیادہ تر مسلمان ہیں۔ یوگی نے نعرہ لگایا ہے کہ وہ صرف ایسے افراد کو گوشت کا کاروبار کرنے کی اجازت دے گا جن کے پاس لائسنس ہوں گے۔ بھارت میں گوشت کی دکان یا کاروبار کا لائسنس حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ بہت سے لوگ خاندانی طور پر صدیوں گوشت کا کاروبار کر رہے ہیں۔ ماضی میں گوشت کے کاروبار سے متعلقہ افراد کے خلاف اتنے بڑے پیمانے پر کبھی کارروائیاں نہیں ہوئی ہیں۔ اتر پردیش میں گوشت کی دکانیں ہی بند نہیں ہیں بلکہ وہ ہوٹل اور ڈھابے بھی بند ہو گئے ہیں جن میں کسی نہ کسی طرح گوشت فروخت ہوتا تھا۔ اترپردیش کا دارالحکومت لکھنو مدتوں سے ایک شاندار تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ یہاں کے کھانے پورے برصغیر میں شہرت رکھتے ہیں۔ لکھنو میں حاجی مراد علی کے ٹنڈے کبابوں کی پورے بھارت میں دھوم ہے۔ حاجی مراد علی کا صرف ایک ہاتھ تھا اور وہ اس سے ہی کباب تیار کرتے تھے۔ اودھ کے حکمران نواب واجد علی کو حاجی مراد کے کباب بہت پسند تھے۔ اس دور سے ہی لکھنو میں ان کی دکان معروف تھی۔ دوردراز سے لوگ ٹنڈے کباب کھانے آتے رہے ہیں۔ مگر اب لکھنو کی کبابوں کی یہ تاریخی دکان بھی بند ہے۔ گوشت پر پابندی کی صورت حال صرف اترپردیش تک محدود نہیں ہے۔ شیوسینا کے کارکنوں نے گوڑگاؤں میں بھی گوشت کی دکانیں بند کرا دی ہیں۔ بلکہ وہاں کے ایف سی نے خود ہی کاروبار بند کر دیا ہے۔ بظاہر کے ایف سی کی انتظامیہ کا یہ کہنا ہے کہ اس نے کاروبار اپنی مرضی سے بند کیا ہے کیونکہ وہ مقامی لوگوں کے مذہب اور کلچر کا احترام کرتے ہیں۔

بھارت کے دوسرے شہروں سے بھی گوشت کی دکانوں کی بندش کی خبریں آ رہی ہیں۔ حکومت کی کارروائیوں کو دیکھ کر وہ لوگ بھی گوشت کے کاروبار سے اجتناب کرتے نظر آ رہے ہیں جن کے پاس باقاعدہ لائسنس ہیں۔

کچھ عرصہ قبل بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ لاہور آئے تھے۔ ان کے ساتھ صحافیوں کی ایک ٹیم تھی۔ ان صحافیوں کے اعزاز میں اس وقت کے سیکرٹری اطلاعات پنجاب جناب تیمور عظمت عثمان نے ڈنرکا اہتمام کیا تھا۔ فائیوسٹار ہوٹل کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ کھانے میں گوشت شامل نہیں ہو گا۔ کھانا کھانے کے بعد ہندو صحافیوں نے استفسار کیاکہ کھانے میں گوشت کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ انہیں بتایا گیا کہ ان کی مذہبی اور ثقافتی حساسیت کے پیش نظر مینو میں گوشت کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس پر تقریبًا تمام ہندو صحافیوں نے قہقہہ لگایا اور تیمور صاحب سے فرمائش کی کہ انہیں گوشت کے چٹ پٹے کھانے کھلائے جائیں۔ ان کھانوں کی کشش انہیں لاہور لے کر آئی تھی اور اب انہیں ان لاہوری کھانوں سے محروم کر دیا گیاہے ۔ وزیراعلیٰ مشرقی پنجاب کے اس دورے کے دوران ہی بھارتی صحافیوں کے لئے دوسرے کھانے کا اہتمام کیا گیا جس میں گوشت کی متعدد ڈشیں شامل تھیں اور اس فائیوسٹار ہوٹل میں معزز مہمان صحافی ذوق و شوق کے ساتھ کبابوں، تکوں اور گوشت کے دوسرے لوازمات کے ساتھ باقاعدہ دو دو ہاتھ کرتے نظر آئے۔

گزشتہ چند عشروں کے دوران بھارت میں مڈل کلاس میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ یہ لوگ تفریح گاہوں میں جاتے ہیں۔ پہاڑی مقامات کی سیر کرتے ہیں۔ بھارت کی تمام اہم شاہراہوں پر لاتعداد ڈھابے کھل چکے ہیں جو اپنے کھانوں کی وجہ سے معروف ہیں اور لوگ دوردراز کا سفر کر کے ان ڈھابوں کے کھانوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے آتے ہیں۔ ہندوایسے بے شمار ہوٹلوں اور ڈھابوں کے مالک ہیں جہاں گوشت کی تقریباً تمام ڈشیں تیار کی جاتی ہیں۔ بھارتی انتہاپسندی سے مسلمانوں کی معاشی حالت پر تو زد پڑ رہی ہے۔ مگر اس سے ہوٹلوں اور ڈھابوں کی پوری انڈسٹری کے کروڑوں افراد کے لئے روزگار کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

بھارت میں بہت سے مذہبی شدت پسندوں کا خیال ہے کہ اگر گوشت پر پابندی لگا دی جائے گی اور سبزی اور دال من بھاتی خوراک کا درجہ حاصل کرے گی تو اس سے ہندومت مضبوط ہو گا اور ان کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ اترپردیش کے ایک مسلمان کا کہنا ہے کہ اگر گوشت کی دکانیں بند رہتی ہیں تو چند دنوں میں بھنڈی چار سو روپے کلو ہو جائے گی۔ تاہم جس طرح لوگ بھارت میں سرکاری اقدامات کی وجہ سے دالیں اور سبزیاں کھانے پر مجبور ہوں گے اسی تناسب سے ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ یوں بھارت کا عام آدمی خواہ وہ مسلمان ہو یا ہندو، اس کے لئے زندہ رہنا دوبھر ہوتا جائے گا۔

اتر پردیش میں گوشت کے خلاف مہم صرف دکانوں یا مذبحوں خانوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ شادی کی تقریبات پر بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کے اہلکار بتا رہے ہیں کہ اگر کسی نے چکن بریانی بھی مہمانوں کو کھلائی تو ان کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔ اترپردیش میں مسلمانوں کی تعداد 2 کروڑ ہے اور مسلمان ہی گوشت کا کاروبار کرتے ہیں۔ بظاہر یہ سرکاری حربہ مسلمانوں کو معاشی طور پر مفلوج کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

مزید : کالم