سیاسی سکرپٹ کی خامیاں!

سیاسی سکرپٹ کی خامیاں!
 سیاسی سکرپٹ کی خامیاں!

  

واقعات کی فلم کچھ تیز چلنا شروع ہوئی ہے تو شکوک و شبہات بھی اُبھر رہے ہیں۔ ایک نادیدہ این آر او کی گونج ہر طرف محسوس کی جا رہی ہے، مگر کسی کو اُس کا سرا نہیں مل رہا،کیونکہ بڑی مہارت کے ساتھ مُلک میں دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی کی فضا بھی پیدا کر دی گئی ہے۔ این آر اوکا شبہ اِس لئے اُبھر رہا ہے کہ جو معاملات رکے ہوئے تھے وہ چلنے لگے ہیں۔ پہلے ایان علی کی رہائی، پھر آصف علی زرداری کی خم ٹھونک کے وطن واپسی، بعدازاں شرجیل میمن کا ڈنکے کی چوٹ پر اسلام آباد ائر پورٹ اترنا، حالانکہ وہ کراچی بھی اُتر سکتے تھے۔ ایف آئی اے کا اُنہیں حراست میں لینا اور پھر مچھلی کی طرح اُن کا ایف آئی اے اور نیب کے ہاتھوں سے پھسل جانا، آخر میں ڈاکٹر عاصم حسین کا ضمانت پر باہر آنا یہ سب ایسے واقعات ہیں جو آسانی سے ہضم نہیں ہو رہے۔ کہنے کو یہ سب کچھ عدالتوں نے کیا ہے، مگر یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ عدالتیں پراسیکیوشن کے سہارے پر چلتی ہیں۔ اگر پولیس، ایف آئی اے یا نیب کسی ملزم کو رعایت دینا چاہے تو مقدمہ کمزور کر دیتی ہیں، ناکافی شہادتوں کے باعث عدالت ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیتی ہے یا پھر مقدمہ ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔ڈاکٹر عاصم حسین پر الزامات تو وہی ہیں، جن کی بنا پرپہلے اُن کی عدالتوں سے ضمانت نہ ہو سکی، اب ایسی کیا بات ہوئی کہ ہر کام ہوتا چلا جا رہا ہے۔ رینجرز نے بھی ہاتھ نرم کر دیا ہے اور پولیس جو پہلے ہی اس مقدمے کو کمزور سے کمزور تربنانے کی کوش کر رہی تھی، اُس نے سارے راستے آسان کر دیئے۔ پھر یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ آصف علی زرداری نے پنجاب اور وزیراعظم نے سندھ میں یک دم ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کیوں شروع کر دیئے۔ ابھی تو الیکشن کا اعلان ہوا ہے نہ ہی ایسی کوئی وجہ نظر آ رہی ہے کہ چار سال بعد دونوں مفاہمتی سیاست کا چغہ اُتار کر میدان میں آ جائیں۔ یہ تو سب کچھ ایک منصوبے کے تحت ہونے کی چغلی کھا رہا ہے۔ سکرپٹ لکھنے والوں نے عوام ہی کو بے وقوف بنانے کی ایک نئی سکیم تیار کی ہے۔ ایک طرف پیپلزپارٹی کے دیرینہ مطالبات پورے کرنے کی حکمتِ عملی ہے تو دوسری طرف اِس حکمت ِ عملی کی وجہ سے اُڑنے والی گرد کو بٹھانے کے لئے محاذ آرائی کی گرد اُڑانے کا تسلسل ہے۔اگر عام حالات میں ایان علی کی رہائی، شرجیل میمن کی آمد اور ڈاکٹر عاصم حسین کی ضمانت ہوتی تو بہت لے دے ہونی تھی۔ اب زیادہ بات اِس حوالے سے ہو رہی ہے کہ آصف علی زرداری نے خم ٹھونک کر حکومت کی مخالفت کا فیصلہ کر لیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ پنجاب بھی لیں گے اور خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔

کہتے ہیں کہ بلی چاہے کتنی بھی سیانی ہو اپنی بے وقوفی کا کوئی نہ کوئی نشان چھوڑ جاتی ہے،اس کیس میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ آصف علی زرداری پنجاب میں کلین سویپ کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ وہ پورے پنجاب میں کسی ایک جگہ بھی کوئی بڑا جلسہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ملتان میں ایک سے زائد بار جلسے کا اعلان کر کے اُسے اِس لئے منسوخ کر دیا گیا کہ لوگوں کی عدم دلچسپی واضح تھی۔ بات کوئی نئی کی جانی چاہئے تھی،لیکن یہاں تو ایک دوسرے کے خلاف وہی الزامات دہرائے جا رہے ہیں جو دس بارہ برس پہلے بھی لگائے جاتے تھے۔ مثلاً شریف برادران نے پھر سوئس بینکوں میں آصف علی زرداری کے کروڑوں ڈالرز پڑے ہونے کا الزام دہرایا ہے،جبکہ انہی الزامات پر شہباز شریف کراچی جاکر آصف علی زرداری سے معافی بھی مانگ چکے ہیں۔ یہی نہیں آصف علی زرداری نے بلاول کو پردے کے پیچھے بٹھا کے نواز شریف کے خلاف ہلکے پھلکے بیانات کی پھلجھڑیاں چھوڑنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ وہ کہیں بھی ایسی سطح پر نہیں جاتے جہاں ایسا لگے کہ وہ حکومت کا تختہ اُلٹانا چاہتے ہیں۔ پانامہ لیکس میں وزیراعظم کو بچانے کے لئے آصف علی زرداری نے کیا کچھ نہیں کیا۔ ٹی او آر کے نام پر اپوزیشن کو وہ چکر دیئے گئے کہ بالآخر بچے بچے کو معلوم ہو گیا کہ آصف علی زرداری اس کیس کو آگے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ سپریم کورٹ میں یہ کیس گیا تو پیپلزپارٹی تلملا اٹھی اور اسے پارلیمینٹ کی توہین قرار دیا۔ اس کیس میں فریق بننے کی بجائے پیپلزپارٹی نے یہ موقف اختیار کیا کہ ایسے کیسوں کو سپریم کورٹ میں لے جا کر جمہوریت کے لئے خطرات پیدا کئے جا رہے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ اب کچھ دِنوں کے بعد پھر سیاسی سطح پر ٹھہراؤ آ جائے گا۔ یہ جو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان محاذ آرائی کی فضا نظر آتی ہے، اچانک ختم ہو جائے گی، کیونکہ جو اہداف حاصل کرنا مقصود تھے وہ حاصل ہو چکے۔ ذرا غور کیجئے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ محفوظ ہو کر نظر سے غائب ہے،لیکن اُس کے مقابل کتنے واقعات رونما ہو چکے ہیں اسی طرح ڈان لیکس کے حوالے سے بھی جو انکوائری کمیشن بنایا گیا اُس کی رپورٹ پر گہری گرد پڑ چکی ہے، مگر فضا میں ایک اور طرح کی ہلچل کو نمایاں کر دیا گیا۔ حسین حقانی کے مضمون سے نئی بحث چھڑ گئی اور ہر طرف ہا ہا کار مچا دی گئی۔ ویزا سکینڈل کو سامنے لا کر ڈان لیکس اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو ریلیف دینے کے معاملات کو معمولی ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عوام کو بھولے بادشاہ سمجھنے والوں نے بڑی مہارت سے اپنا کھیل کھیلا ہے۔ ایک طرف اپنا کام نکال رہے ہیں تو دوسری طرف یہ ثابت کر ہے ہیں کہ مُلک میں صرف دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں باقی سب چھان بورا ہے۔ آپ ذرا حکمتِ عملی کے اس پہلو پر غور کریں کہ شریف برادران گویا عمران خان کو بالکل بھول گئے ہیں۔ چند ہفتے پہلے تک دونوں کی زبان پر عمران خان کا نام ایک پہاڑے کے طور پر موجود تھا۔ نواز شریف اپنی ہر تقریر میں دھرنے والوں کا ذکر کرتے تھے۔ شہباز شریف بھی یہی کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ترقی کا راستہ روکنے والے دھرنے دیں گے، ہم ترقیاتی منصوبے بناتے رہیں گے،لیکن اب ان کا رخِ زیبا بھی وزیراعظم نواز شریف کی طرح پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری کی طرف ہے۔ عمران خان کے خلاف بیان اب صرف وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کی زبان سے ہی سننے کو ملتا ہے، حتیٰ کہ وزراء بھی خاموش نظر آئے ہیں۔ مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ لڑائی کا جھانسہ دے کر اُس کی آڑ میں وہ تمام کام کر لئے جائیں جن پر نیا اور نادیدہ این آر او لکھا گیا ہے۔ تو صاحبو! یہ ہیں وہ غلطیاں جو جلد بازی میں سکرپٹ لکھنے والوں سے سرزد ہوئیں۔ ان کی وجہ سے عمران خان کے اُسی الزام کو تقویت ملتی ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان نورا کشتی جاری ہے تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔

اب سوال یہ ہے کہ چار برس تک فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کر کے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی پیپلزپارٹی کیا اس قسم کی شعبہ بازی سے اپنی ساکھ بحال کر سکے گی۔ پنجاب کو فتح کرنے کے دعوے کرنے والے آصف علی زرداری اپنی شخصیت کے بارے میں عوام کے اندر پائے جانے والے اس تاثر کو کیسے دور کر پائیں گے جو کرپشن کی وجہ سے اُن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین کی رہائی یا شرجیل میمن کو سونے کے تاج پہنانے جیسے واقعات سے عوام کو کیا دلچسپی ہو سکتی ہے، جب پورے سندھ حتیٰ کہ کراچی میں بھی مسائل نے بھیانک انداز سے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ زرداری صاحب کون سی اچھی مثالیں لے کر بلاول ہاؤس میں آ بیٹھے ہیں کہ جنہیں دکھا کر وہ پنجاب کے عوام کو ایک بار پھر پیپلزپارٹی کی طرف راغب کر سکیں۔ دونوں سیاسی جماعتوں کا مشترکہ مقصد صرف ایک ہی ہے کہ کسی طرح تیسری سیاسی قوت کا راستہ روکا جائے جو یقیناًتحریک انصاف کی شکل میں ایک بڑی حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ تیزی سے کھیلے جانے والے اس کھیل میں بہت سی جزیات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اِس لئے وزیراعظم نواز شریف کا بار بار سندھ جانا اور آصف علی زرداری کا لاہور میں آ بیٹھنا اُن واقعات کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو ریلیف دینے کے حوالے سے رونما ہوئے ہیں، ایک طے شدہ سکرپٹ کا شاخسانہ نظر آتا ہے۔ ریلیف اور محاذ آرائی کو ساتھ ساتھ چلا کر سکرپٹ میں ایک ایسا جھول رکھ دیا گیا، جس سے عمران خان کے اس موقف کو تقویت مل رہی ہے کہ دونوں سیاسی جماعتیں اصل ایشوز سے توجہ ہٹانے کے لئے عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں۔

مزید : کالم