ہم چبائے ہوئے کو بار بار کیوں چباتے ہیں؟

ہم چبائے ہوئے کو بار بار کیوں چباتے ہیں؟
 ہم چبائے ہوئے کو بار بار کیوں چباتے ہیں؟

  

آج کا دور ابلاغی ترقی کا دور ہے اور میڈیا اور ابلاغ کثیر المعانی الفاظ بن چکے ہیں۔ میڈیا اور ابلاغ (کمیونی کیشن) کا باہمی تعلق یہ ہے کہ میڈیا ذریعہ ء ابلاغ ہے اور ابلاغ میڈیا کا ایک جزوِ لازم ہے۔ ٹیلی ویژن میڈیا کا ایک ذیلی لیکن بڑا اظہاری آلہ ہے جس کی مدد سے ہم سمعی اور بصری آوازوں اور صورتوں کو سن اور دیکھ سکتے ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن کا پیشرو تھا لیکن اس میں ہم صرف آواز سن سکتے تھے جبکہ تصویر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ٹیلی ویژن نے آکر آواز اور تصویر کو یکجا کر دیا ۔ اور یہ جو سمارٹ موبائل فون آج ہر چھوٹے بڑے کی جیب میں سما جاتا ہے، یہ ایک قسم کا ٹیلی ویژن کا اسمِ تصغیر بھی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ٹیلی ویژن کو چھوٹا کرکے سمارٹ فون کے ایک خانے میں رکھ دیا گیا ہے۔ اس کے اور بھی بہت سے خانے ہیں ۔باالفاظ دیگر آپ کا سمارٹ فون جو آپ نے جیب میں ڈالا ہوا ہے وہ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور ٹیلی فون کا اجتماعی جانشین ہے۔ آپ کسی بھی جگہ ہوں اپنے موبائل کی مدد سے دنیا بھر سے منسلک رہ سکتے ہیں!

پاکستان میں ٹیلی ویژن کی آمد کا سال 1964ء ہے۔1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ہم نے اسی ٹی وی میں ملکہ ء ترنم، مہدی حسن، امانت علی خان اور دوسرے بہت سے گلوکاروں کے ملّی ترانے دیکھے بھی اور سنے بھی۔۔۔ وہ بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کا دور تھا لیکن پھر جلد ہی رنگین ٹی وی آ گیا جس نے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کو دیس نکالا دے دیا۔ اس کے بعد وی سی آر (VCR)ایک عرصے تک ہمارے سماجی حواس پر چھایا رہا۔ اس چھوٹے سے ڈبے نے ملک بھر میں پھیلے سنیما ہاؤسوں کا خانہ خراب کر دیا۔ وی سی آر کی مدد سے اب وہ تمام ملکی اور غیر ملکی فلمیں آپ نے اپنے کمرے میں بیٹھ کر دیکھنی شروع کر دیں جن کو دیکھنے کے لئے آپ کو چل کر سنیما گھروں تک جانا پڑتا تھا۔ سنیما کے پروگرام جہاں سنیما والوں کے کنٹرول میں ہوتے تھے، وہاں وی سی آر نے سنیما گھروں کا کنٹرول آپ کے ہاتھ میں دے دیا۔۔۔ اور اس کے بعد تو گویا ابلاغی آلات کا ایک سیلاب آ گیا۔

سیل فون ہمارے ہاں اول اول گزشتہ صدی کے نویں عشرے میں وارد ہوا۔ پہلے پہل یہ برخود غلط امراء (اور اشرافیہ) کا ٹریڈ مارک ہوا کرتا تھا۔ یہ لوگ ایک جیپ نما مہنگی گاڑی (پجیرو) خرید کر، چیئرمین مارکہ سفید لٹھے کی شلوار قمیض پہن کر اور ایک مسلح گارڈ کو اپنے ساتھ بٹھا کر جب کسی جگہ ارادی یا غیر ارادی طور پر ’’اترتے‘‘ تو ایک ہاتھ میں کارڈلیس فون پکڑا ہوتا تو دوسرے میں کسی مہنگی برانڈ کے سیگریٹ کی ڈبیہ بمعہ ایک بیش قیمت لائٹرتھامی ہوتی ، بائیں ہاتھ کی کسی انگلی میں ایک موٹی سی چاندی کی انگوٹھی میں کسی قیمتی پتھر کو سجا کر جب یہ امراء گاڑی سے باہر نکلتے تو ان کے ساتھ ہی فوراً ان کا مسلح گارڈ (بیٹری کا ڈبہ ہاتھ میں تھامے) بھی نکل آتا۔۔۔۔ یہ کلچر کئی برس تک ہمارے برخود غلط اعلیٰ سماجی حلقوں کی پہچان بنا رہا۔۔۔ یہی دور 1980ء کی دہائی کے افغان جہاد کا جانشین بھی تھا۔

افغان جہاد نے پاکستان کی بربادی میں ایک کلیدی رول ادا کیا۔ ڈالروں اور کلاشنکوفوں کی بھرمار ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستانی معاشرے میں باریش حضرات کے ٹھٹ لگنے شروع ہو گئے۔ پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ اپنی طبعی عمر کے آخری دور میں جب بزرگ لوگ حج کو جاتے تو وہاں سے باریش ہو کر واپس آتے اور حاجی صاحب کہلاتے۔ حاجی کہلانا ایک اعزازی اور عرفی لقب تھا اور کم کم بزرگوں کو نصیب ہوتا تھا۔ پاکستان کی جو آبادی اس زمانے میں باریش نظر آتی تھی وہ ایسے ہی تازہ حاجی بزرگوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ ان کے علاوہ پابند صوم و صلوٰۃ حضرات کی بھی ایک تعداد تھی جن کا تبحّر علمی ایک مسلّم حقیقت ہوتا۔ 1980ء کے افغان جہاد نے اس ’’باریش کلچر‘‘ کو مزید فروغ دے دیا۔ جب افغان طالبان نے کمیونسٹ رشیا کو افغانستان کے کوہ و دمن سے نکال دیا تو ایسے باریش، کلاشنکوف بدست اور پجیرو سوار حضرات کا ایک ایسا زبردست اور زور آور ریلا آیا جس کی دیکھا دیکھی پاکستانی معاشرے کی وہ سماجی اقدار جو قیام پاکستان کے اولین تین چار عشروں میں عام تھیں، جلد جلد تحلیل ہونے لگیں۔

مجھے یاد ہے 1968ء میں جب ہم نے آرمی جوائن کی تو آفیسرز کلاس میں شاذ ہی باریش حضرات دیکھنے کو ملتے۔ویسے بھی علامہ اقبال، قائداعظم، قائد ملت، خواجہ ناظم الدین، اسکندر مرزا، غلام محمد، حسین شہید سہروردی، ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، ڈاکٹر قدیر خاں، نوازشریف، پرویز مشرف، زرداری۔۔۔ کس کس کا نام لوں۔۔۔ یہ سب مقتدر وی آئی پی تھے اور سب کلین شیو تھے۔ آرمی کی ہائر کمانڈ میں بھی شاذ ہی کوئی ایک آدھ جرنیل ہوگا جو باریش ہوگا اور ائر فورس میں تو بالکل ہی کوئی نہ تھا۔ لیکن شائد سقوط ڈھاکہ کے بعد، ساری قوم اور پاکستان کی مسلح افواج نے ایک کروٹ بدلی۔ ان کے خیال میں پاکستان کو دو نیم کرنے میں ہماری اشرافیہ کے ظواہر کا بھی ہاتھ تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے آدھی فوج کی لوئر اور ہائر کمانڈز نے داڑھی رکھ لی اور جناب صدر کے منظور نظر بن گئے۔ ضیاء الحق خود تو کلین شیو رہے لیکن انہوں نے فوج اور معاشرے کی اقدار میں اسلام کے نام پر داڑھی کلچر کو جو فروغ دیا اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔بہت کم لوگ تھے جن کا ایمان تھا کہ داڑھی میں اسلام نہیں، اسلام میں داڑھی ہے!

ہم میڈیا اور ابلاغِ عامہ کی بات کر رہے تھے۔۔۔ تو سنِ خیال دور نکل گیا رنگین ٹیلی ویژن اور سمارٹ سیل فون کی کثرت اور ارزانی نے معلومات عامہ کے کئی دروازے کھول دیئے۔ لیکن پاکستان کی آبادی کا ایک غالب حضہ چونکہ ناخواندہ اور نیم خواندہ تھا اس لئے یہ دونوں جدید ابلاغی آلے (ٹی وی اور سمارٹ موبائل) عوام الناس پر اس انداز سے اثر انداز ہوئے کہ ان میں مثبت اطوار کم اور منفی اطوار زیادہ شامل ہو گئے۔ پرویز مشرف نے جب نجی ٹیلی ویژن چینلوں کی اجازت دے دی تو ان چینلوں کا ایک مینا بازار لگ گیا۔ جس کسی سرمایہ دار کے پاس اتنا سرمایہ تھا کہ ایک چینل کھول لیتا اس نے ہرگز یہ نہ دیکھا کہ اس آلے کے قومی کردار پر کیسے اثرات مرتب ہوں گے، جھٹ ایک عدد نیوز چینل آن ائر کر دیا۔ آج ایسے درجنوں چینل ملک میں چل رہے ہیں۔ان میں سفید و سیاہ کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کئی چینل واقعی ایسے پروگرام دکھاتے اور سنواتے ہیں کہ قوم کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن ایسے چینل جو عوام کو واقعی انفارم اور ایجوکیٹ کرنے کا اساسی فریضہ ادا کرتے ہیں، بہت کم ہیں۔ بعض ایسے بھی ہیں جو معاشرے کو مِس انفارم اور ڈی ایجوکیٹ کرنے پر کمربستہ ہیں۔ تاہم ایک اچھی بات یہ ضرور ہوئی ہے کہ ان چینلوں نے قوم کے سامعین و ناظرین کی درجہ بندی کر دی ہے۔ معاشرے کی بہت سی پرتیں ہوتی ہیں۔ معاشرہ جس قدر زیادہ ’’لٹریٹ‘‘ یا اِل لٹریٹ‘‘ ہوگا اس کے افراد اسی نسبت سے ابلاغِ عامہ کے ان آلاتِ جدید سے مستفید ہوں گے۔ سوشل میڈیا کا غلغلہ تو آپ چند روز سے سن ہی رہے ہیں۔ آیا حکومت اس سوشل میڈیا کو کنٹرول میں رکھ سکتی ہے یا نہیں ، یہ آنے والے ایام ہی بتا سکیں گے۔

اسی میڈیا نے ہماری ملکی سیاسیات و سماجیات کا ایک ایک پہلو کھول کر عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔ آج کا ہر پاکستانی، اس کی جیب ہلکی ہو یابھاری، کم از کم ایک عدد سمارٹ فون اور ایک عدد ٹیلی ویژن تک رسائی رکھتا ہے۔ ایک ایک چینل نے سینکڑوں لوگوں کو روزگار مہیا کر رکھا ہے، فنونِ لطیفہ اور ابلاغی علوم و فنون کو فروغ مل رہا ہے، بے روزگاری میں کمی ہو رہی ہے اور ناظرین و سامعین کو گوناگوں اقسام کے پروگرام سے شناسائی ہو رہی ہے۔ سیاستدانوں کو عوام سے انٹرایکٹ کرنے کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم ہاتھ آ گیا ہے جو اندرونِ ملک اور بیرون ملک ان کی آراء اور ان کے منشور کو ہوا کے دوش پر پھینک کر ان کو کسی بھی موضوع کے رد و قبول کا فیصلہ کرنے میں مدد دے رہا ہے۔

ابلاغِ عامہ کے ان دو وسائل کے بہت سے منفی پہلو بھی ہیں۔ میرے ان کالموں میں گاہ گاہ آپ ان کا ذکر پڑھتے رہے ہوں گے اور ان کے اثرات سے شائد براہِ راست متاثر بھی ہوتے رہتے ہیں۔ مہنگائی کا جو بوجھ آج پاکستانی معاشرے کو اٹھانا پڑ رہا ہے اس میں ان میڈیا چینلوں کی کمرشلز کا اور ہماری اپنی بے وقوفیوں کا ہاتھ بھی ہے۔ بعض اوقات مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنا گلا خود کاٹ رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر کوئی ایسا احتسابی نظام ہنوز وضع نہیں کیا جا سکا جو عام آجر اور اجیر سے یکساں سلوک کر سکے۔ پیمرا کا حال بھی آپ دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان وہ واحد جوہری ملک ہے جس میں ابلاغِ عامہ کے ان ذرائع کو قومی سطح پر استعمال اور کنٹرول کرنے کا کوئی حتمی طریقہ (SOP)ہنوز وضع نہیں کیا جا سکا۔ وضعِ نظام اور نفوذِ نظام دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہم وضعِ نظام کے موضوعات کے بارے میں میڈیا پر ایک عرصے سے بحث و مباحثے سن اور دیکھ رہے ہیں لیکن جب تک نفوذِ نظام کا کوئی کارگر بندوبست نہیں کیا جاتا، عامتہ الناس کی بہت سی مشکلات جوں کی توں رہیں گی۔

ایک عرصے سے حکومت کا سنگھاسن ڈانواں ڈول دکھائی دے رہا ہے۔ ہمارے تقریباً سارے ٹاک شوز جو شام چھ بجے سے بارہ بجے رات تک آن ائر کئے جاتے ہیں، ان کی اساس صرف اس ایک مفروضے پر استوار ہے کہ کسی بھی موضوع کے ’’نیک و بد‘‘ کو واشگاف کرنا ’’اشد ضروری‘‘ ہوتا ہے، اس کی مثبت اور منفی اقدار دونوں کو برسرعام لانا ضروری ہے اور اس کے حق اور اس کی مخالفت میں ہر ٹاک شو کو پروان چڑھا کر یہ سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ ہم نے دونوں پہلو سامنے رکھ دیئے ہیں جو مرضی آئے اٹھا لیں۔

لیکن کوئی معاشرہ کبھی بھی اس طرح کی دوغلی کاوشوں سے کسی ایک صراطِ مستقیم کا مسافر نہیں بن سکا۔ ٹاک شوز کا انعقاد کرنے والوں کا فریضہ یہ بھی ہے کہ وہ کسی بھی موضوع کے حسن و قبح کو اجاگر کرنے کی بجائے کسی ایک متفق علیہ راستے کا انتخاب کرکے حاضرین و سامعین کی راہنمائی کریں۔ اگر آپ جمہوری اقدار میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے نقطہ ہائے نگاہ کو برسرِعام لانے کی کوششیں کرتے رہیں گے تو یہ ایکسرسائز لاحاصل رہے گی۔

جب قوم کسی انتخابی عمل سے گزر کر کسی ایک سیاسی جماعت کے مینڈیٹ کو اکثریت کے ساتھ قبول کر لیتی ہے تو اس حکومت کا حق ہے کہ وہ میڈیا کو اپوزیشن کا کارڈ کھیلنے کی اجازت نہ دے۔ ایسا کرنا گویا قوم کو از سر نو الیکشنوں کے ایک نئے جھنجھٹ میں دھکیلنا ہے۔ ہم برسوں سے یہی کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ انتظامیہ اگر خاموش اور بے بس ہے تو عدلیہ کو آگے آنا چاہیے اور ایسے میڈیا ہاؤسز کا احتساب کرنا چاہیے جو منتخب حکومت کو کام کرنے نہیں دیتے اور ان لوگوں کی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اپنی رائے اپنے ووٹ کی صورت میں پہلے ہی قوم کے سامنے رکھ چکے ہیں۔کیا تماشا ہے کہ الیکشنوں کے بعد آج نئی حکومت تشکیل ہوتی ہے تو آنے والے کل سے اگلی الیکشن کمپین شروع کر دی جاتی ہے۔۔۔ کسی کو تو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

مزید : کالم