ایس ای سی پی : کیپٹل مارکیٹوں ، بیمہ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے شعبہ قائم

ایس ای سی پی : کیپٹل مارکیٹوں ، بیمہ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے شعبہ ...

راولپنڈی (اے پی پی)موجودہ حکومت کے ایجنڈا کے مطابق دہشت گردوں کو مالیات کی فراہمی کی سرگرمیوں کی روک تھام کے پیش نظر، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کیپٹل مارکیٹوں، بیمہ، این بی ایف سیز اورغیر منافع بخش کارپوریٹ سیکٹرمیں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے خصوصی شعبہ قائم کر دیا ہے۔ اس شعبہ میں ایس ای سی پی کے تمام شعبوں سے افسران شامل کئے گئے ہیں۔ اینٹی منی لانڈرنگ فریم ورک پر عمل درآمد کے لئے، ایس ای سی پی نے سکیورٹیز مارکیٹ، غیر بینکاری مالیاتی شعبے اور بیمہ شعبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری کی رپورٹنگ کے لئے حدود متعین کروا دی ہیں۔ ان حدود یا اس سے زائد حجم میں سرمایہ کاری ہونے کی صورت میں متعلقہ کمپنی ا دارہ ایس ای سی پی کو اس کی رپوٹنگ کرے گا۔ زندگی بیمہ کی مصنوعات میں انفرادی بیمہ پالیسی کی معینہ حد پچاس لاکھ روپے کی سالانہ اقساط ہیں۔سکیورٹیز بروکرز کے لئے یہ حد پچاس لاکھ روپے برائے انفرادی سرمایہ کار، دو کروڑ پچاس لاکھ روپے برائے کارپوریٹ ادارہ اور دو کروڑ روپے برائے پروپرائٹری بروکر ہے۔اے ایم سیز/مضاربوں/این بی ایف سیز کے کارپوریٹ اینٹی ٹیز کے لئے یہ حد دس کروڑ روپے، ٹرسٹس کے لئے پانچ کروڑ روپے اور انفرادی سرمایہ کار کے لئے ایک کروڑ روپے ہے۔ مالیاتی اداروں، پبلک لسٹڈ کمپنیوں، لائسنس یافتہ اینٹی ٹیز، اے ایم سیز، میوچل فنڈز، بیمہ کمپنیوں اور اے ایم سیز/مضاربوں/این بی ایف سیز میں سرمایہ کاری کرنے والی حکومتی ایڈمنسٹریشن/اینٹی ٹیز سے رپورٹنگ درکار نہیں ہوگی۔ مزید یہ کہ دفعہ 24 کے تحت قائم غیر منافع بخش کمپنی کو واحد ذریعہ سے پچاس لاکھ یا زائد کا عطیہ بھی ایس ای سی پی کو رپورٹ کیا جائے گا۔ انسداد تطہیر زر سیل مجوعی بنیادوں پر تجزیہ اور جب درکار ہو مزید چھان بین کے لئے ایسی رپورٹس کا ڈیٹا بیس بنائے گا۔ متوقع طور پر یہ کوششیں ملک کی کیپٹل مارکیٹوں، این بی ایف سیز، غیر منافع بخش کارپوریٹ اور بیمہ شعبوں میں ممکنہ ناجائز طریقے سے حاصل ہونے والی رقم کو سرایت کرنے سے روکا جا سکے گا۔ انسداد تطہیر زر (انٹی منی لانڈرنگ) سیل کا قیام اور ایس ای سی پی کی منظم نگرانی تطہیر زر اور دہشت گردوں کو مالیات کی فراہمی جیسے وبال کی روک تھام کی کوششوں کو تیز کریں گی اور پاکستان کے لئے بین الاقوامی تشخیص کنندگان برائے تطہیر زر سے متوقع طور پر اگلے سال ہونے والی اے ایم ایل/سی ایف ٹی باہمی تشخیص کے دوران تعمیلی جائزہ کے حصول میں مدد دے گا۔

مزید : کامرس