سپروائزری انجینئرز کو ملازمت پر رکھنے کی شرط تبدیل‘ زیرتربیت انجینئرزکو رکھنے کی اجازت

سپروائزری انجینئرز کو ملازمت پر رکھنے کی شرط تبدیل‘ زیرتربیت انجینئرزکو ...

لاہور(کامرس رپورٹر) قائمہ کمیٹی برائے سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کی جانب سے عائد سپروائزری انجینئرز کو ملازمت پر رکھنے کی شرط کو تبدیل کرکے زیرتربیت انجینئرزکو رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان زیرتربیت انجینئرز(Internee Engineers) کو کنسٹرکشن کمپنیاں پانچ ہزار ماہانہ جبکہ باقی رقم حکومت ادا کرے گی۔اس امر کا انکشاف وفاقی سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فضل عباس میکن نے کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی قیادت ایسوسی ایشن کے چئیرمین سکندر حیات خٹک نے کی جبکہ باقی ممبران میں نعیم الدین صدیقی ، انجینئر سید اقبال یونس ، خواجہ شعیب محی الدین اور اکرام الحق چوہدری شامل تھے۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل کی نمائیندگی انجینئر امیر ضمیر نے کی۔وفد نے سیکرٹری کو کنسٹرکٹرزکو درپیش مسائل سے آگاہ کیا جس میں سپروائزری انجینئرز اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کی فیسوں کی مد میں اضافہ شامل تھا۔

ایسوسی ایشن کے چئیرمین انجینئرسکندر حیات خٹک نے تجویز پیش کی کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کے لائسنس کی رنیول کے وقت کنسٹرکشن کمپنیوں کے ڈپلومہ انجینئرز ،آفس، سٹاف او ر کنسٹرکشن مشینری کے پوائنٹ بھی شامل لئے جائیں ۔ ایسوسی ایشن کے چئیرمین انجینئرسکندر حیات خٹک نے اس موقع پر تجویز پیش کی کے ملائشیا اور انڈیا کی طرز پر پاکستان میں بھی ’ کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ‘ بنایا جائے جو کہ اس انڈسٹری کے مسائل کے حل کے لئے کام کرے۔ وفاقی سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فضل عباس میکن نے وفد کو اس تجویز پر غور کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے ایسوسی ایشن کی طرف سے اس سلسلہ میں ایک پریزنٹییشن تیار کرنے کو کہا۔

مزید : کامرس