موصل میں داعش مخالف لڑائی کے دوران عراقی فورسز کے 280اہلکار ہلاک

موصل میں داعش مخالف لڑائی کے دوران عراقی فورسز کے 280اہلکار ہلاک

 بغداد(این این آئی)عراق کے شمالی شہر موصل کے مغربی حصے کو بازیاب کرانے کے لیے داعش کے خلاف لڑائی میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے 284 اہلکار ہلاک ہوگئے اور 1600 سے زیادہ زخمی ہوئے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق عراقی فورسز کی ہلاکتوں کے یہ اعداد وشمار امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ آرمی جنرل جوزف ووٹل نے کانگریس کی ایک کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے فراہم کیے۔انھوں نے بتایاکہ مشرقی موصل کو داعش سے بازیاب کرانے کی کارروائی میں عراقی سکیورٹی فورسز کے 490 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور تین ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔عراقی فورسز اور داعش کے درمیان اس وقت مغربی موصل کے قدیم حصے میں نوری مسجد کے نزدیک شدید لڑائی ہورہی ہے اور عراقی فوج کے خصوصی دستے اور وفاقی پولیس کے اہلکار داعش کے اس مضبوط گڑھ کے آس پاس کے علاقے میں اپنی گرفت مضبوط بنانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ اس علاقے میں عمارتوں کی چھتوں پرداعش کے ماہر نشانہ باز ان کی سخت مزاحمت کررہے ہیں۔عراقی اور امریکی اتحاد کے لڑاکا طیارے داعش کے خلاف زمینی کارروائی کے علاوہ فضائی حملوں میں بھی نشانہ بنا رہے ہیں جن میں داعش کا کم اور عام شہریوں کا زیادہ جانی نقصان ہو رہا ہے۔عراقی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا تھا کہ مغربی موصل میں داعش کے خلاف 19 فروری سے جاری مہم کے بعد سے غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سات سو کے لگ بھگ شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔وہ عراقی فورسز اور داعش کے درمیان دو بدو لڑائی میں مارے گئے ہیں یا پھر اتحادی فوج کے فضائی حملوں میں ہدف بنے ہیں۔گذشتہ ہفتے امریکا کی قیادت میں اتحاد کے ایک فضائی حملے میں تباہ شدہ عمارت سے دو سو لاشیں نکالی گئی ہیں۔

اتحادی طیارے نے موصل کے علاقے الجدیدہ میں داعش کے جنگجوؤں کو حملے میں نشانہ بنایا تھا۔امریکی اتحاد نے پہلے تو اس فضائی حملے سے لاتعلقی ظاہر کی تھی لیکن اب اس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اس کا اس حملے میں کچھ نہ کچھ کردار تھا۔ امریکا کی قیادت میں اتحاد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے داعش کے جنگجوؤں اور ان کے سازوسامان پر الجدیدہ کے علاقے میں حملہ کیا تھا اور وہیں سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ملی ہیں

مزید : عالمی منظر