مصر،منکر حدیت اورامام مہدی ہونے کے دعویدارکی سزا میں کمی

مصر،منکر حدیت اورامام مہدی ہونے کے دعویدارکی سزا میں کمی

قاہرہ(این این آئی)مصرکی ایک عدالت نے منکر حدیث نام نہاد مبلغ اور خود کو امام مہدی منتظر قرار دینے کے دعوے دار محمد عبداللہ عبدالعظیم المعروف ’الشیخ میزو‘ کی سزا میں تخفیف کرتے ہوئے پانچ کے بجائے دو سال قید اور 10 ہزار مصری پاؤنڈ کے بجائے ایک ہزار پاؤنڈ جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق محمد عبداللہ عبدالعظیم المعروف ’الشیخ میزو‘ کے خلاف شبرا الخیمہ کی عدالت اپیل کورٹ میں جرائم سے متعلق مقدمات نمٹانے والی عدالت کے سابقہ فیصلے کوچیلنج کیا گیا تھا۔سابقہ فیصلے میں الشیخ میزو کو احادیث صحیحہ کا انکار کرنے اور خود کو مہدی موعود قرار دینے کے الزام میں پانچ سال قید با مشقت اور دس ہزار پاؤنڈ جرمانہ کی سزا سنائی گئی تھی۔

الشیخ میزو کے خلاف عدالت میں دو الگ الگ الزامات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ خود کو امام مہدی موعود قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ احایث صحیحہ کے منکر اور امام بخاری کی مرتب کردہ صحیح بخاری کی صحت سے انکاری ہیں۔ وہ کچھ عرصہ قبل ’خطیب انقلاب‘ کے لقب سے بھی مشہور ہوئے تھے۔خیال رہے کہ الشیخ ’میزو‘ نامی مذہبی مبلغ نے کچھ عرصہ پیشتر سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ‘فیس بک‘ پر پوسٹ ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ’میں مہدی منتظر ہوں۔ مجھیعلم غیب کی خبریں دی جاتی ہیں۔ مجھے زمین پر اللہ نے عدل و انصاف کے قیام کے لیے بھیجا ہے۔ میں اہل سنت والجماعت اور اہل تشیع سمیت تمام انسانوں سے اپنی بیعت کا مطالبہ کرتا ہوں۔الشیخ میزو کے لقب سے مشہور مصری مبلغ کیامام مہدی ہونے کے دعوے پر عوامی اور مذہبی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔الشیخ میزو کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کرنے والے سمیر صبری کا کہنا ہے کہ مدعا علیہ توہین مذہب کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مذہب کی توہین پر وہ آئین کے آرٹیکل 336 اور 98 کے تحت سزا کے مستحق ہیں۔

مزید : عالمی منظر