امریکی محکمہ خارجہ کی ملازم کے چینی ایجنٹس سے خفیہ روابط،گرفتارکرلیاگیا

امریکی محکمہ خارجہ کی ملازم کے چینی ایجنٹس سے خفیہ روابط،گرفتارکرلیاگیا

واشنگٹن(این این آئی)امریکہ کے محکمہ انصاف نے کہاہے کہ حساس معلومات تک رسائی کی حامل محکمہ خارجہ کی ایک سابق فوجی ملازم پر چین کے انٹیلی جنس ایجنٹس کے ساتھ خفیہ روابط کا الزام عائد کیا گیا ہے۔درخواست کے مطابق 60 سالہ کینڈیس میری کلائیبورن نے تحائف کی شکل میں ہزاروں ڈالر لیے۔اس ملازم پر سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور ایف بی آئی سے غلط بیانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کینڈیس میری کلائیبورن کو گرفتار کیا گیا اور بدھ کو انھوں نے عدالت میں اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کی۔کینڈیس میری کلائیبورن نے سنہ 1999 میں محکمہ خارجہ کے ساتھ کام کا آغاز کیا تھا اور عراق، سوڈان اور چین سمیت متعدد غیرملکی مشنز پر کام کر چکی ہیں۔محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ انھیں انتہائی اعلیٰ درجے کی سکیورٹی کلیئرنس حاصل تھی، اور کسی بھی غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسی سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد کے ساتھ کسی بھی رابطے کے بارے میں آگاہ کرنے کی پابند تھیں۔بیان کے مطابق کلائیبورن عوامی جمہوریہ چین کے دو انٹیلی جنس ایجنٹس کے ساتھ بارہا روابط کے بارے میں آگاہ کرنے میں ناکام رہیں۔

، یہاں تک کہ ان ایجنٹس نے انھیں ہزاروں ڈالر تحائف کی شکل میں کلائیبورن اور ان کے خاندان کو پانچ سال کے دوران دیے۔ان پر سنہ 2011 میں چینی ایجنٹ کو امریکہ کی چین سے متعلق معاشی پالیسی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے بدلے 2500 ڈالر لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔محکمہ انصاف کی بیان کے مطابق کلائیبورن نے محکمہ خارجہ کے تفتیش کاروں اور ایف بی آئی کے تفتیش کاروں کو ان ایجنٹس کے ساتھ اپنے روابط کے بارے میں دانستہ طور پر گمراہ کیا۔وہ بدھ کو کولمبیا کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں پہلی بار پیش ہوئیں اور اس مقدمے کی ابتدائی سماعت 18 اپریل کو ہوگی۔کار سرکار میں رکاوٹ ڈالنے کی زیادہ سے زیادہ 20 سال جبکہ ایف بی آئی سے غلط بیانی کی زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال قید ہے۔محکمہ خارجہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ آئندہ ہفتے چینی صدر شی جن پنگ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملاقات طے ہے۔

مزید : عالمی منظر