جان بچانیوالی ادویات غائب ، مریض ڈرگ مافیا کے رحم و کرم پر

جان بچانیوالی ادویات غائب ، مریض ڈرگ مافیا کے رحم و کرم پر

لاہور ( جاوید اقبال) پنجاب ترمیمی ڈرگ ایکٹ 2017کے میڈیسن کی صنعت پر اثرات سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں اس ایکٹ سے خوفزدہ فارما سیوٹیکل کمپنیوں نے ایسی ادویات جو جان بچانے کے لئے استعمال ہوتی ہیں ان کی مارکیٹ میں قلت پیدا کر دی ہے اور اس وقت صوبائی دارالحکومت میں واقع میڈیسن کی خرید و فروخت کی ہول سیل لوہاری میڈیسن مارکیٹ سمیت پورے شہر میں واقع فارمیسیوں اور میڈیکل سٹوروں پر جان بچانے والی 91ادویات کی قلت ہے ان میں زیادہ تر امراض قلب ہارٹ اٹیک ‘کینسر ‘شوگر ‘گلے کے گلہڑ اور وٹامن اور کیلشیم کی کمی پوری کرنے والی ادویات شامل ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ دل کے درد انجائنا کی روک تھام کے لئے استعمال کروائی جانے والی واحد دوائی سسٹیک جس میں گلیسرائل ٹرائی نائیٹریٹ ہوتا ہے یہ دوائی مکمل طور پر مارکیٹ سے غائب ہو گئی ہے یہ دوائی سرل نامی واحد کمپنی بناتی ہے اس کمپنی نے بھی یہ دوائی بنانا بند کردی ہے جس کی وجہ سے دل کے مریضوں کی زندگیاں خطرے سے دو چار ہو گئی ہے اسی طرح سے ہارٹ اٹیک کے وقت دی جانے والی انجی سیڈ، گلہڑ کی واحد دوائی تھائر روکسن سمیت شوگر کینسر کی جان بچانے والی ادویات جن کی تعداد 91کے قریب بتائی گئی ہے وہ بھی اس وقت مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے ۔رپورٹ کے مطابق یہ ادویات بنانے والی 80 فیصد کمپنیاں سندھ میں واقع ہیں جو لاہور سمیت دیگر شہروں میں ادویات سپلائی کرتی ہیں ۔اس حوالے سے پنجاب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے راہنماؤں نثار چودھری ‘حامد رضا ‘سر فراز احمد اور کیمسٹ ہول سیلرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل سلیم شیخ کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں نے پنجاب میں اس لئے ادویات کی اکثر یت کی سپلائی میں کمی کردی ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ یہاں سپلائی دیکر وہ پھانسی نہیں چڑھنا چاہتے اس کا خمیازہ مریضو ں کو بھگتنا پڑے گا اس پر صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کا کہنا ہے کہ کمپنیاں پورے ملک میں ادویات سپلائی کرنے کی پابند ہیں وہ کسی ایک صوبے کو نظر انداز نہیں کر سکتیں اگر کسی نے ایسا کیا توپھرقانون حرکت میں آئے گا کسی کو مریض کی زندگی سے کھیلنے کا اختیار نہیں دے سکتے ڈرگ انسپکٹروں کو حکم دوں گا کہ وہ مارکیٹوں کے دورے کریں اور ان ادویات کی سپلائی کو یقینی بنائیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1