مانیٹرنگ کا نظام غیر فعال ، اراضی ریکارڈ سینٹرز پر پٹواریوں کے منشیوں کا راج ، رشوت عام

مانیٹرنگ کا نظام غیر فعال ، اراضی ریکارڈ سینٹرز پر پٹواریوں کے منشیوں کا راج ...

لاہور(عامر بٹ سے)پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے زیر انتظام 36اضلاع کی 143تحصیلوں میں 80فیصد سے زائد کمپیوٹرائزڈ اراضی ریکارڈ سنٹرز میں سروس سنٹرز انچارجز کے ساتھ پٹوار خانوں کے پرائیویٹ منشیوں کے کام کرنے کا انکشاف، سائل اپنے جائز کام کرانے کیلئے ان کی ناجائز مطالبات پور ا کرنے پر مجبور ،پنجاب حکومت کی جانب سے صاف شفاف ریکارڈ کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے ،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سے نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے روزنامہ پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے سروے کے دوران معلوم ہوا کہ صوبے بھر کے 36اضلاع پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے زیر نگرانی قائم کردہ کمپیوٹر سروس سنٹرز پر تاحال مانیٹرنگ کے غیر فعال سسٹم ہونے کے سبب پٹواریوں کے منشیوں نے مستقل بنیادوں پر ڈیرے جما رکھے ہیں ،فرد بدرات اور ریکارڈ کی درستگی کے نام پر پرائیویٹ منشی کمپیوٹر سنٹرز کے ایس سی او کے ہمراہ بیٹھ کر عوام الناس کے سیدھے کھاتہ جات پر بھی اعتراضات لگانے لگے،بیعانہ جات کی صورت میں پریشان حال مالک اراضی وقت کی کمی کے سبب رشوت بھرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ صوبائی دارلحکومت کیے والٹن سروس سنٹر کی حدود میں آنے والے شہری محمد عاطف، اکرم، شعیب نامی شہریوں نے الزام عائد کیا کہ پرائیویٹ مافیا منہ مانگی رشوت وصولی کرنے کے بعد عوام کے جائز کام کررہا ہے شہریوں نے مزید آگاہی دی کہ صوبے بھر کے کمپیوٹر سروس سنٹرز کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کروائی جائے تو ایس ای او کے ساتھ کام کرنے والے وہ تمام پرائیویٹ منشی بھی عیاں ہو جائیں گے جو کہ اس پراجیکٹ کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں ،شہری وسیم شہزاد ،الطاف خان ،وقار احمد اور شرافت علی نے مزید آگاہی دی کہ اسسٹنٹ کمشنر ز ،ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامی افسران کی غفلت کے باعث تاحال مانیٹرنگ کا سسٹم فعا ل نہیں کیاجاسکا جس کے سبب عوام الناس کی کثیر تعداد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے ،شہریوں نے اس ضمن میں سینئر ممبر بورڈ آٖف ریونیو اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر کیپٹن (ر)ظفر اقبال سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ۔اس حوالے سے محکمے کے ترجمان نے بتایا کہ جب بھی شکایات ملتی ہیں تو فوری ایکشن لیا جاتا ہے

مزید : میٹروپولیٹن 1