ایس او ایس نا کے ناکام ، چور ڈاکو بے لگام

ایس او ایس نا کے ناکام ، چور ڈاکو بے لگام

لاہور (لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت میں چار درجاتی ناکوں کے باوجودراہزنی کی وارداتوں میں کمی نہیں آسکی۔ ’’پاکستان‘‘ کی ٹیم نے ناکوں پر موجود اہلکاروں کی مشکلات کا جائزہ لینے کیلئے ایک تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے جس میں شہریوں نے پولیس ناکوں کو مشکلات اور ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ، وقت کا ضیاع اور فرضی کارروائی کا نام دیا ہے ۔ اس موقع پر اس بات کا انکشاف سامنے آیا کہ محکمہ پولیس کے قوانین اور قواعد و ضوابط کو پس پردہ رکھ کر ناکے لگائے جا رہے ہیں۔ جس میں آئی جی پولیس کا واضع حکم ہے کہ صرف ’’ایس او ایس‘‘ ناکے لگائے جائیں اور پکٹ ناکوں کی بجائے تھانوں کی حدود میں اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر پٹرولنگ (گشت) اور سنیپ چیکنگ کی جائے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے دوران شہر میں 252 پکٹ ناکے پائے گئے جبکہ شہر کے مختلف مقامات اور علاقوں میں 90 کے قریب ’’ایس او ایس‘‘ ناکے پائے گئے۔ پولیس اہلکاروں نے اپنا نام ظاہر نہ کیے جانے پر بتایا کہ پہلے 8 گھنٹے اور پھر 10 سے 12 گھنٹے ناکے لگوائے جاتے ہیں جبکہ بعض ایس ایچ او زکا کہناہے کہ صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک ناکے لگوائے جاتے ہیں اور اکثر اوقات رات 8 بجے ناکہ ختم ہونے پر دوبارہ رات 8 بجے سے صبح 8 بجے تک ناکے لگانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ حالانکہ صرف’’ ایس او ایس‘‘ ناکے لگانے کی اجازت ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پولیس اہلکاروں کو ناکوں پر قانون کے مطابق مورچہ بندی، لاؤڈ سپیکر، بلٹ پروف جیکٹ، سٹاپر اور انڈرائیڈ فون دستیاب ہی نہیں۔ فورتھ شیڈول کے مطابق خطرناک ملزمان کی شہر میں آمد اور نقل و حرکت میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں ہوئی۔ ڈی آئی جی آپریشنز پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صرف ’’ایس او ایس‘‘ ناکے لگائے جاتے ہیں اور سنیپ چیکنگ بھی کی جاتی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ ناکوں کے دوران خطرناک کریمینل پکڑے جاتے ہیں جبکہ ناکوں پر فورتھ شیڈول کے ملزمان بھی ہاتھ آئے ہیں۔

مزید : علاقائی