’’ ڈاکٹر عاصم کی ضمانت منسوخ ‘‘

’’ ڈاکٹر عاصم کی ضمانت منسوخ ‘‘
 ’’ ڈاکٹر عاصم کی ضمانت منسوخ ‘‘

  

ہمارے انقلابی دوستوں کی جگہ جگہ لگی عدالتوں نے پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست ڈاکٹر عاصم حسین کی ضمانت کی درخواست منسوخ کر دی ہے، انہوں نے یہ فیصلہ اپنے لیڈر کے بیان کے بعد جاری کیا ہے جس میں ڈاکٹرعاصم حسین کی انیس ماہ کے بعد طبی بنیادوں پر رہائی کو مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے درمیان ڈیل قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ روز قبل انقلابیوں کی اسی عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے اپنے بیان دینے والے اسی لیڈر کی اثاثہ جات کیس میں بریت کو عین حق اور سچ کی فتح قرار دیا تھا حالانکہ وہ فیصلہ اس دلیل کی بنیاد پر لیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن مقررہ وقت میں اس ریفرنس پرفیصلہ نہیں سنا سکا تھا یوں انقلابی عدالت کے ججوں نے اس عالمی اور آفاقی قانون کو لاگوکیا کہ حق صرف وہی ہے جو ان کے یعنی ان کے لیڈر کے حق میں ہو۔

ہم پنجاب میں رہنے والوں کی اکثریت ایک عمومی تاثر کے تحت ڈاکٹر عاصم اور ان کے ساتھیوں کو کرپٹ سمجھتی ہے اور یقین جانئے کہ جب 26 اگست2015 کو رینجرز نے موصوف پر 17 ارب اور 462 ارب کی کرپشن کے دو ریفرنسوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کا علاج معالجہ کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا توہم سب پہلے دونوں الزامات پر مکمل ایمان لے آئے تھے کیونکہ ہمیں پڑھایا ، بتایا اور سکھایا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی پر کرپشن کے تمام تر الزامات درست ہوتے ہیں چاہے وہ چار روپے کی کرپشن کا الزام ہو یا چار سو باسٹھ ارب روپوں کی مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سیاستدانوں پر صرف الزامات لگائے جانا ہی احتساب اور انصاف ہے۔ جو بااثر لوگ، دھڑے یا طبقات ان الزامات کو جنم دیتے ہیں تو پھر وہ انہی الزامات کو ان کے منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچاتے؟منطقی انجام یہی ہے کہ ان الزامات کو ثابت کیا جائے اور اگر آپ کسی پر لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو پھر آپ کو الزامات لگانے کا بھی حق نہیں ہونا چاہئے۔ میری نظر میں الزامات لگانے والے بااثر اداروں کے لئے کسی بھی الزام کو ثابت کرنے کے لئے ڈیڑھ برس کا وقت کچھ کم نہیں ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ سیاستدان اثرو رسوخ سے کام لیتے ہیں، آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے خلاف گواہو ں کو بولنے نہیں دیتے، آپ کی دلیل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے خلاف ثبوتوں کو ضائع کر دیتے ہیں مگر دوسری طرف سوال یہ ہے کہ جب سیاستدان منفی طور پر یہ سب کچھ کر سکتے ہیں تو دوسرے ادارے مثبت طور پر اپنااثرو رسوخ استعمال کیوں نہیں کرتے، گواہوں کو تحفظ کیوں نہیں دیتے، ثبوت کیوں ضائع ہونے دیتے ہیں، کیا ایسا ہوجانا ان کی نااہلی نہیں ہے۔مجھے نوے کی دہائی میں تعمیر ہونے والی وہ سڑک یاد آ گئی جسے اس وقت کے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے گھروں تک جانے کے لئے بنایا گیا تو اس پرشور مچ گیا، کہا گیا یہ اختیارات کا ناجائز استعمال ہے اور احتساب کرنے والے اداروں نے تحقیقات شروع کر دیں ، کیا یہ دلچسپ امر نہیں ہے کہ سولہ ،سترہ برس بعد بھی جب احتساب کر نے والے ادارے سے پوچھا گیا کہ حکمران خاندان کے خلاف کرپشن کے کیا کیسز ہیں تو اس نے اپنی فہرست میں اس سڑک کی تعمیر کو بھی شامل کر دیا، اب یہ سوال ہونا چاہئے کہ جس الزام کے ثبوت ایک ایس ایچ او لیول کا افسر چند دنوں میں اکٹھے کر سکتا ہے کیا وجہ ہے کہ اس الزام کو بڑے بڑے بااختیار ادارے ہفتوں اور مہینوں نہیں بلکہ برسوں تک لٹکائے پھرتے ہیں۔

ڈاکٹر عاصم حسین نوے روز تک رینجرز کی تحویل میں رہے اوراس کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ انہیں اوپر بیان کئے گئے تینوں مقدمات میں ضمانت درکار تھی۔ ڈاکٹر عاصم حسین نے نیب ریفرنسز میں ضمانت کی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی تو ضمانت کے فیصلے پر ڈویژن بنچ میں اختلاف پپدا ہو گیا جس کے بعد جسٹس آفتاب احمد کو ریفری جج مقرر کیا گیا جنہوں نے جسٹس کریم آغا خان کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے دونوں نیب ریفرنسز میں ان کی ضمانت منظور کر لی، اس سے پہلے دہشتگردوں کے علاج کے مقدمے میں ضمانت مل چکی تھی، ان کا پاسپورٹ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع کروایا گیا جس کے بعد ان کی رہائی ممکن ہوئی۔ہمارے انقلابی دوستوں نے ایک برس اور سات ماہ کے بعد ڈاکٹر عاصم کی رہائی کو ایان علی اورشرجیل میمن کی رہائی کے ساتھ جوڑا ہے اور یہاں بھی بنیادی سوال صرف یہ ہے کہ منی لانڈرنگ کے مقدمات میں اگر قانون ضمانت پر رہائی کی اجازت دیتا ہے تو کیا کسی شخصیت کو صرف اس بنیاد پر ضمانت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ اس پر الزام کے پس منظر میں کچھ سیاسی سرگوشیاں بھی ہیں۔سوشل میڈیا پر لگی عدالتوں میں سرکاری اورنجی اداروں کے ملازمین، چھوٹی اور بڑی دکانیں چلانے والے اور دن بھر کچھ نہ کرکے محض روٹیاں توڑنے والے بھی فیصلے سنا رہے ہیں۔ بھولے نے عدالت کے اس فیصلے پر اعتراض کیا تو میرا سوال تھا کہ کیا تم وسیع تجربے کے حامل قانون دان اور انصاف کی مسند پر بیٹھ کر فیصلے کرنے کا ماضی رکھتے ہو تو پھر شاید تمہیں کسی عدالتی فیصلے پر تنقید کرنے کا حق ہو سکتا ہے مگرتمہیں یہ بھی علم نہیں کہ ٹماٹر کیوں مہنگے ہوئے اور اعتراضات عدالتی فیصلوں پر ہیں۔عدالتی فیصلوں کو یقینی طور پرسوشل میڈیا پر عوامی آرا کی بجائے قانون کی بنیاد پر ہونا چاہئے، ہاں ، یہ ضرور ہے کہ عام آدمی کو بھی محسوس ہونا چاہئے کہ انصاف ہوا ہے مگر عام آدمی کی سو چ اور خواہشات پر قانون اورانصاف کے عمل کو یرغمال نہیں بننا چاہئے۔میں اس وقت سے ڈرتا ہوں جب ہمارے منصف سوشل میڈیا پر چند ویہلوں اورنکموں کی واہ واہ کی خواہش میں فیصلے دینے لگیں اورانہیں اس امر کی بھی پرواہ نہ ہو کہ واہ ، واہ اور آہ، آہ کرنے والوں کے اپنے ذاتی، معاشرتی اور سیاسی مفادات ہوں۔ہمیں خوش گمان رہنا ہو گاکہ عدلیہ جیسے اہم ادارے کی عزت و حرمت ہم سے زیادہ ان کے لئے محترم،مقدم اور عزیز ہے جو اس میں بیٹھے فیصلے کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر عاصم حسین کی رہائی کی فیصلے کو پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے سیاسی نظریات نہیں بلکہ ایک ملزم کو حاصل آئینی اور قانونی حقوق کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ جن لوگوں نے اپنے لیڈر سے یہ سوا ل نہیں کیا کہ تم احتساب اور دیانت کے سب سے بڑے علمبردار بننے کے بعد الیکشن کمیشن میں اپنے اثاثوں کو جائز ثابت کرنے کی بجائے ٹیکنیکل بنیادوں پر راہ فرار کیوں اختیار کر رہے ہو وہ یہ حق کیسے رکھتے ہیں کہ مخالف سیاسی جماعت کے رہنما کی ضمانت پر رہائی پر سوال اٹھا سکیں اور اس امر کا بھی خیال نہ کریں کہ محض الزامات پر ڈیڑھ برس گرفتار رہنابھی ایک شہری کے ساتھ زیادتی ہے، مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارا ہر باشعور شہری صرف سیاسی مخالفت اور پیدا کئے گئے ایک تاثر کی بنیاد پر کسی کو بھی قید رکھنے کی حمایت نہیں کرے گا۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تحریر کسی صورت بھی ڈاکٹر عاصم حسین کی حمایت میں ہے تو آپ غلطی پر ہیں، یہ تحریر اس امر کے سوفیصد خلاف ہے کسی بھی شخصیت پر الزام لگایا جائے اور پھر اسے ثابت نہ کیا جائے۔ یوں لگتا ہے کہ یہ رویہ ایوب خان کے دور سے لے کر اب تک یہ ہماری عادت ہی نہیں بلکہ فطرت کا حصہ بن گیا ہے۔دوسری طرف یہ کسی بھی مہذب معاشرے میں عدالتی فیصلوں پر ہر کسی کو تبصرہ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی مگر ہم ہر اس فیصلے کے خلاف بولتے ہیں جو ہمارے تصورات، خیالات اور توہمات کے خلاف ہوتا ہے لہذا ہمارے انقلابی دوستوں نے ڈاکٹر عاصم حسین کی درخواست ضمانت کو مسترد کر دیا ہے ، الزامات ثابت ہوں یا نہ ہوں، وہ اپنے تمام سیاسی مخالفین کو عزت اور آزادی ہی نہیں بلکہ زندگی کے حق سے بھی محروم کرنے کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں، کیا عجب ہو کہ ان کے کارکن اپنی عدالت میں ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے لئے روانہ بھی ہو چکے ہوں ۔

مزید : کالم