صابر حسین لیسکو نہیں ‘این ٹی ڈی سی کا ملازم تھا

صابر حسین لیسکو نہیں ‘این ٹی ڈی سی کا ملازم تھا

لاہور (خبر نگار) بند روڈ پر گرڈ اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کے دوران ہلاک ہونے والا صابر حسین لیسکو ملازم نہیں بلکہ این ٹی ڈی سی کا ملازم تھا اور این ٹی ڈی سی کے ماتحت واقع بند روڈ پر واقع گرڈ اسٹیشن میں ملازم تھا اور بند روڈ پر گرڈ اسٹیشن میں 320 کے وی اور 11 ہزار کے وی گرڈ اسٹیشن کی دیگر اہلکاروں کے ہمراہ اپ گریڈیشن کے لئے کام کر رہا تھا کہ دوران ڈیوٹی سیفٹی آلات میں لو کپسٹی ارتھ راڈ استعمال کرنے پر اس کو بجلی کا زور دار جھٹکا لگا جس سے بری طرح جھلس جانے پر اس کی موت واقع ہوئی۔ اس حوالے سے چیف ایگزیکٹو لیکسو واجد علی کاظمی نے کہا ہے کہ صابر حسین لیسکو کا ملازم نہیں تھا بلکہ وہ نیشنل ٹرانسمیشن ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی ) کا ملازم تھا اور این ٹی ڈی سی کے ماتحت گرڈ اسٹیشن واقع بند روڈ لاہور میں ملازم تھا، اور بند روڈ پر گرڈ اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کی جا رہی تھی اور صابر حسین بھی وہاں کام کر رہا تھا کہ اسے بجلی کا زور دار جھٹکا لگا جس کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ خبر میں صابر حسین کو لیسکو کا ملازم ظاہر کیا گیا ہے۔ حالانکہ وہ لیسکو کا ملازم نہیں بلکہ این ٹی ڈی سی کا ملازم تھا۔ چیف ایگزیکٹو لیسکو واجد علی کاظمی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صابر حسین جو کہ این ٹی ڈی سی کے گرڈ اسٹیشن واقع بند روڈ پر ملازم اور وہیں پر گرڈ اسٹیشن کے تاروں کی مرمت کر رہا تھا کہ این ٹی ڈی سی کے گرڈ اسٹیشن میں ہی دوران کام اس کو بجلی کا جھٹکا لگا جس کا لیسکو سے تعلق نہ ہے اور نہ ہی لیسکو حکام یا افسران کی صابر حسین کی ہلاکت میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ این ٹی ڈی سی کے چیف ایگزیکٹو فیاض احمد چودھری کے حکم پر ان کا محکمہ اس واقعہ کی انکوائری بھی کر رہا ہے۔ جبکہ صابر حسین کی ہلاکت کے بارے این ٹی ڈی سی کے چیف ایگزیکٹو فیاض احمد چودھری نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ صابر حسین ان کی کمپنی این ٹی ڈی سی کا ملازم تھا اور اس واقعہ میں غفلت کا مرتکب ہونے پر متعلقہ گرڈ کے ایس ڈی او سعید احمد سمیت تین افسروں کو عہدوں سے معطل کر دیا گیا ہے اور مزید اعلیٰ سطحی انکوائری کی جا رہی ہے۔

صابر حسین

مزید : صفحہ آخر