گلو بل انسٹی ٹیوٹ اور ایمز کے 300سے زائد طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

گلو بل انسٹی ٹیوٹ اور ایمز کے 300سے زائد طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے پابندی پرعملدر آمد نہ ہونے کے باعث گلوبل انسٹی ٹیوٹ اور اس کے تحت چلنے والے ایمز انسٹی ٹیوٹ ڈی ایچ اے کیمپس میں بی ایس سی ایس اور بی ایس آئی ٹی کے 300سے زائد طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ۔لاکھوں روپے فیسوں کی مد میں وصول کرنے اور چاروں سمسٹرز مکمل کرنے کے باوجود کالج انتظامیہ نے طلبہ کو رزلٹ کارڈ دینے سے انکارکر دیا،طلبہ سراپا احتجاج ۔ تفصیلات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے پابندی کے باوجود غیر رجسٹرڈ پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے تعلیم کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے جس کی واضح مثال گلوبل انسٹی ٹیوٹ کے تحت چلنے والے پرائیویٹ تعلیمی ادارے ایمز انسٹی ٹیوٹ ڈی ایچ اے کیمپس میں غریب طلبہ سے لاکھوں روپے فیسوں کی مد میں وصول کرنے اور چاروں سمسٹرز مکمل کر نے کے باوجود کالج انتظامیہ نے طلبہ کو رزلٹ کارڈ دینے سے انکارکر دیا ہے جس کی وجہ سے 300سے زائد غریب طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ ایمز انسٹی ٹیوٹ میں زیر تعلیم بی ایس سی ایس اور بی ایس آئی ٹی کے طلبہ محمد اسد ،فرحان ارشد عمر ،سعد ،عمر فاروق ،ساجد،ارسلان اوردیگر نے گلوبل انسٹی ٹیوٹ کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کیا ۔طلبا نے کالج انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دو سال قبل مندرجہ بالا پروگرامز میں داخلہ لیا تھا، چاروں سمسٹرز کے امتحانات دینے اور لاکھوں روپے فیسیں دینے کے باوجود انہیں صرف ایک سمسٹر کا رزلٹ کارڈ دیا گیا ہے، بقیہ تین سمسٹرز کا رزلٹ کارڈ نہیں دیا جا رہا الٹا ہمیں کہا جاتا ہے کہ پانچویں سمسٹر کی داخلہ فیس جمع کروائیں ۔طلبہ نے کہا ہے کہ اس ضمن میں جب گلوبل انسٹی ٹیوٹ کے مین کیمپس میں رابطہ کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ان کو ایمز نے بی ایس آئی ایس اور بی ایس آئی ٹی کے طلباء کا کوئی ریکارڈ ہی فراہم نہیں کیا ۔طلبہ نے وزیر اعلی پنجاب اور چئیر مین ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مسائل کو فوری طور پر حل اور ان جعلی تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے تا کہ ا ن کا مستقبل محفوظ ہو سکے ۔ اس حوالے سے پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ ہم ایمز انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ کا کیس ٹو کیس جائزہ لے کر ان کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے اور انہیں دوسرے رجسٹرڈ کالجز میں اکاموڈیٹ کرنے کے حوالے سے فیصلہ کریں گے ۔پی ایچ ای سی کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہائر ایجوکیشن قوانین کے مطابق پرائیویٹ یونیورسٹیاں کسی بھی قسم کے سب کیمپس نہیں بنا سکتیں اور پرائیویٹ یونیورسٹیز کے ساتھ الحاق شدہ تمام کالج جعلی ہیں ۔ترجمان نے کہا کہ اس ضمن میں پی ایچ ای سی نے جعلی یونیورسٹیوں اوران کے تحت تمام نجی کالجوں کے حوالے سے طلبہ اور ان کے والدین کو الرٹ جاری کیا تھا۔ترجمان نے کہا کہ گلوبل انسٹیوٹ اور اس کے تحت چلنے والے تمام کیمپس جعلی ہیں اور ایچ ای سی کی طرف سے ان کو ڈگریاں جاری نہیں کی جا رہی ہیں ۔

طلبہ کا مستقبل

مزید : صفحہ آخر